پاکستانی ہمیشہ میرے دل میں رہیں گے۔۔۔ وہ لمحے جب غیر ملکی بھی پاکستان کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے

خدا حافظ دوستو! پاکستان میں میرا قیام ختم ہو گیا ہے۔ بہت ہی خوبصورت صبح کے ساتھ اس شاندار ملک میں تین سال بہت تیزی سے گزر گئے — شکریہ خاص طور پر ان بہترین لوگوں کا جن سے میں یہاں ملا ۔ میں آخری بار اس پلیٹ فارم کے ذریعے آپ سب سے بات کر رہا ہوں لیکن یقین جانیں پاکستان اور پاکستانی ہمیشہ میرے دل میں رہیں گے۔ میں خوش ہوں کہ مجھے یہاں پاکستان میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے- ایک دلکش، کثیر الجہتی، متحرک، پیچیدہ اور منفرد ملک جو کہ ایک انتہائی اہمیت کے حامل خطے میں موجود ہے۔ میں امید کرتا ہوں جرمن اور پا کستانی قوموں کی بہترین دوستی کی کیونکہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔۔۔۔یہ الفاظ ہیں جرمنی کے سفیر Bernhard Schlagheck کے جنھوں نے پاکستان میں جرمن سفیر کی حیثیت سے تین سال مکمل کیے۔ Bernhard Schlagheck اپنے آخری دنوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں اور لوگوں کے ساتھ ویڈیوز اپنے ٹوئیٹر پر ڈالتے رہے اور پاکستان چھوڑنے پر انتہائی رنجیدگی کا اظہار کرتے نظر آئے ۔ ان کی ویڈیوز میں ان کا اس ملک اور یہاں کے لوگوں سے محبت کا اظہار پاکستانیوں کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جیسا خوبصورت ملک اور اس سے ذیادہ یہاں کے جیسے مہمان نواز لوگ شاید ہی دنیا میں کہیں اور ملیں۔ انھوں نے اپنے قیام کے آخری دن اسلام آباد کی سڑکوں پر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے اسلام آباد کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھے اور یہاں کے محبت کرنے والے لوگوں کے بہترین سلوک کے بارے میں دنیا کو بتایا۔ 

 اگر آپ کو یاد ہوجارج کا پاکستان (جارج کا پاکستان) 2005 میں جیو ٹی وی پر نشر ہونے والا ایک پاکستانی ریئلٹی شو تھا۔ یہ شو ایک برطانوی صحافی جارج فلٹن پر مبنی تھا جسے پاکستانی بننے کے لئے پاکستان میں تین ماہ کا وقت گزارنا تھا ۔ اس شو کو جنوبی ایشیا کے پہلے اوریجنل ٹی وی شوز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس شو میں بھی جارج ایک عام پاکستانی کے بڑے دل اور مہمان نوازی کی ہر دم تعریفیں کرتے نظر آئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا بہت مادہ پرست ہے۔ اس دور میں پاکستانی قوم جیسی مہمان نواز قوم ملنا مشکل ہے۔ 

 ایک اور مثال Alexander کی ہے۔ جو ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی ہیں جنھوں نے 2019 میں رکشہ چلا کر پورے پاکستان کا سفر کیا وہ دنیا کے پہلے انسان ہیں جنھوں نے یہ معرکہ سر کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے بارے میں وہ کیا کہیں گے تو انھوں نے پاکستانیوں کی مہمان نوازی کے بارے میں بتایا کہ وہ سفر کے دوران جن بھی لوگوں سے ملتے وہ سب لوگ ان کو عزت سے اپنے گھر بلاتے اور بہتریں مہمان نوازی کرتے حالانکہ وہ ان لوگوں کے لئے مکمل طور پر اجنبی تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان ایک بہترین ملک ہے جہاں بہت ہی محبت کرنے والے لوگ بستے ہیں اور وہ مستقبل میں دوبارہ پاکستان میں اس طرح کا ایڈونچر کرنا چاہیں گے۔ 

 جرمن سفیر اور اس جیسی بہت سی مثالیں پاکستانیوں کے لئے بہت حوصلہ افزاء ہیں ایک طرف پاکستان سے باہر دنیا میں پاکستانیوں کا بالکل غلط عکس دکھایا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف جب یہ ہی غیر ملکی اصلی پاکستانیوں سے ملتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے بنائے گئے امیج کے بالکل برعکس ہیں۔ پاکستان کے اگر عام عوام سے آپ ملیں گے تو وہ انتہائی سادہ، محبت کرنے والا اور ہر وقت مدد کو تیار ملیں گے۔ زیادہ تر غیر ملکی پاکستانیوں کی مہمان نوازی سے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ پاکستانیوں کا کلچر ہے کہ وہ اپنے گھر سے کسی کو کھلائے بغیر رخصت نہیں کرتے، ان کے یہاں مہمان کو رحمت سمجھا جاتا ہے یہ عادت ان کے مذہب اور کلچر دونوں کا امتزاج ہے-

News Source

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments