آپ نہیں سکھائیں گے تو لوگ باتیں بنائیں گے۔۔۔ بچوں کی وہ غلطیاں جو والدین کیلئے شرمندگی کا سبب بن سکتی ہیں؟

بچوں کی تربیت والدین کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتی کیونکہ چھوٹے بچوں کی غلطی پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود والدین چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اکثر اوقات بڑی پشیمانی اٹھانی پڑتی ہے- لیکن اگر والدین ان چند چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دیں تو یقیناً آپ کے بچہ ایک اچھا بچہ بن سکتا ہے۔ 1۔ ہر چیز میں مداخلتچھوٹے بچے اکثر ہر چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور دوسروں کی بات میں مداخلت کرتے ہیں جو وقتی طور پر تو آپ کو شائد برا نہ لگے لیکن بچوں کی یہ عادت دوسروں کے سامنے آپ کو شرمندہ کرواسکتی ہے۔ اپنے بچے کو سکھائیں کہ گفتگو میں اپنی باری کا انتظار کرے تاکہ کسی سے بات کرتے وقت بچہ بار بار درمیان میں مداخلت نہ کرے۔ 2۔ خواہشات پر کنٹرولآپ کہیں خریداری کرنے جاتے ہیں اور آپ کا بجٹ محدود ہے لیکن آپ کا بچہ بار بار چیزیں اٹھاکر اصرار کرتا ہے تو آپ کو شدید کوفت اور پشیمانی ہوسکتی ہے۔ اس لئے اپنے بچے کو خواہشات پر کنٹرول کرنا سکھائیں تاکہ باہر جاکر ہر چیز کیلئے ضد کرنے کے بجائے خاموشی سے ساتھ چلے کیونکہ اگر آپ اپنے بچے کو نہیں سکھائیں گے تو دیکھنے والوں کو آپ کی تربیت پر سوال اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ 

 3۔ شائستہ الفاظ کا چناؤجتنی جلدی آپ اپنے بچے کو شائستگی سکھانا شروع کریں گے اتنا ہی بہتر ہے اور اس کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ خود بھی اسی شائستگی سے پیش آئیں اور اپنے بچے کو شکریہ، سوری، براہ کرم اور سلام میں پہل کرنا سکھائیں اور خود بھی ان باتوں پر عمل کریں تو آپ کا بچہ جلد سیکھے گا اور کبھی آپ کو دوسروں کو سلام نہ کرنے یا غیر مہذب رویئے کی شکایت نہیں ملے گی۔ 4۔ غیر ضروری ریمارکسوالدین کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کسی کے حوالے سے کوئی ریمارکس دینگے تو بچہ اس کو فوری سیکھے گا، خاص طور پر والدین رشتے داروں کے حوالے سے تنقید کرتے وقت بچے کو بھول جاتے ہیں لیکن بچے آپ کی باتیں یاد رکھتے ہیں اور کئی بار بچے کسی کے سامنے آپ کے ریمارکس دہرا بھی دیتے ہیں جس سے والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنی یہ بری عادت ترک کردیں تاکہ آپ کا بچہ بھی اس بری عادت کا شکار نہ بنے۔ 

 5۔ دوسروں کی چیز پر قبضہچھوٹے بچے اکثر دوسروں کی چیز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں اور والدین دوسرے کو اپنی چیز دینے کی تاکید کرتے ہیں جس سے آپ کا بچہ ضدی اور خود سر اور دھونس جمانے والا بنتا ہے لیکن اگر آپ اپنے بچے کو دوسرے کی چیز ہتھیانے کی ترغیب دینے کے بجائے اس عادت سے چھٹکارا دلائیں تو گھر ہی نہیں بلکہ کہیں محفل میں بھی آپ کا بچہ کبھی دوسروں کی چیزوں کیلئے ضد کرکے آپ کو پشیمان نہیں کریگا۔ امید ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت میں ان چند باتوں پر توجہ دیکر اپنے بچے کو مستقبل کا اچھا انسان بنانے میں ضرور مدد کریں گے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments