محلے کا چودھری

تحریر۔ سید اولاد الدین شاہ

ہم بچپن میں سنے تھے۔ گاؤں میں ایک آدمی ہوتا ہے۔ آدھی سے زیادہ یا پورا گاؤں اس کا جائیداد ہوتا ہے۔ گاؤں میں سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ اس کے کہے بغیر گاؤں میں کوئی پرندہ پر نہیں کر سکتا۔ اس کو چودھری، خان یا سائیں کہتے ہیں۔

گاؤں کے ہر معاملے پر اس سے مشاورت کی جاتی ہے۔ اس سے مشاورت اور اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ چاہے معاملہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ یہ گاؤں کا سربراہ ہوتا ہے۔ اور مختلف جرگوں کی سربراہی کرتا ہے۔ اس کے فیصلہ حرف آخر ہوتے ہیں۔ وہ سزا دے سکتا ہے وہ انعام سے نواز سکتا ہے۔ جرمانہ کر سکتا ہے۔ گاؤں بدر کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کا ذاتی جیل بھی جیل میں بھی ڈال سکتا ہے۔ لیکن دیکھا جائے۔ یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ جس کا پاس تھوڑی سی طاقت آ جائے، اس کے بل بوتے پر سب کو خریدنے، بزور طاقت منہ بند کرنے یا مختلف حربے استعمال کر کے تنگ کرنے پہ اتر آتا ہے۔

کچھ دن پہلے ایسے محلے کی چوہدری سے میرا سامنا ہوا، وہ بولتا گیا میں منہ دیکھتا رہ گیا۔ کچھ حالات میں خاموشی میں ہی مصلحت ہے۔ کیونکہ اگر منہ لگ کیا نتیجہ خراب ہی نکل سکتا ہے۔ ہمارے محلے میں ایک افغان شہری رہتا ہے۔ گھر کا سربراہ خود افغانستان میں مقیم ہیں اور طالبان کے ڈر سے اپنے خاندان کو پاکستان منتقل کیا ہے۔ بچے چھوٹے ہیں سب اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ لیکن ماں سے بہت ڈرتے ہیں۔ ڈر کا یہ عالم ہے جیسا پاکستان کا عوام اور ہمارا پولیس۔ اور سارے بچے سب شریف بھی ہیں۔

ایک دن ایسا ہوا، واک کر رہا تھا۔ اچانک میری نظر کچھ لوگوں پر پڑی غور سے دیکھا لڑائی کا ماحول ہے۔ پھر میں بھی چھڑانے کی غرض سے جائے وقوعہ پر پہنچا۔ دیکھا ایک سات فٹ کا تناور آدمی ایک دس سالہ بچے کو ڈانٹ رہا ہے۔ اور والدین سے ملنے پر بضد ہے۔ اور ایک افغانی چھوٹا بچہ آنکھوں میں آنسو بھرے سامنے کھڑا سن رہا ہے۔ میں درمیان میں آ کر بولا بھائی، اس کا والد افغانستان میں مقیم ہے وہاں کام کر رہا ہے۔ اور اس ماں پردہ دار خاتون ہے کسی سے نہیں ملتی۔

چھوٹا بچے لڑتے ہیں کھیلتے ہیں چلتا رہتا ہے۔ بچوں کی لڑائی میں بڑوں کا کود جانا اچھا روایت نہیں۔ کہنے لگے یہ میرے بچے کو مارتا ہے۔ میرا بچہ شریف ہے اور یہ بار بار میرے بچے کو مارتا ہے۔ اور بچہ روز شکایت لے کر گھر آتا ہے۔ اس کا انداز میرے ساتھ بھی پولیسانہ تھا۔ پھر سات فٹ کے بندے کے ساتھ کیا کہہ سکتا ہوں۔

آخر میں اپنے دھمکیانہ انداز میں تقریر ختم کی۔ اگر آئندہ میرے بچہ شکایت لے کر آ گیا میں تم لوگوں کے لئے مشکل کھڑا کروں گا۔ مجھے جانتے نہیں ہو، میں کون ہوں۔ یہ بات میرے لئے سوچنے لائق تھی، کہ یہ بندہ کون ہے۔ جو معصوم بچے کو اتنا ٹارچر کرتا ہے۔ اور ذہنی طور پر بچے کو متاثر کرتا ہے۔ میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا، چودھری، خان سائیں وغیرہ ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جو کسی بھی فرد میں پنہاں ہوتے ہیں بس تھوڑا اجاگر کرنے کی بات ہے۔

اس واقعے کے دوسرے دن وہ دونوں بچے گلی میں کھیلتے ملے۔

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments