کیا عمران خان واپس آرہے ہیں؟

تحریر۔ڈاکٹر زین اللہ خٹک

17 جولائی بروز اتوار پنجاب اسمبلی کی 20 سیٹوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ یہ نشستیں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز کے منحرف ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ اب ان خالی شدہ نشستوں پر الیکشن کمیشن آف پاکستان 17 جولائی کو انتخابات کا انعقاد کر رہا ہے۔ پنجاب اسمبلی 371 ممبران پر مشتمل ہے۔ جس میں 25 ممبران اسمبلی نا اہل ہوچکے ہیں۔ جن میں 5 مخصوص نشستوں پر منتخب ایم پی ایز بھی شامل تھے۔

مخصوص نشستوں پر کامیابی جنرل انتخابات میں ووٹوں کے تناسب سے ملتی ہے۔ یہ پانچ نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دوبارہ مل گئی اور کل مخصوص نشستوں پر پانچ ایم پی ایز نے پنجاب اسمبلی میں حلف اٹھایا۔ اب پاکستان تحریک انصاف کے پاس پنجاب اسمبلی میں 163 ممبران اسمبلی ہو گئے ہیں۔ جب کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے پاس 161 نشستیں ہیں۔ قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ بننے کے لیے ایوان میں 176 ارکان درکار ہے۔ یوں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے درمیان وزیر اعلیٰ بننے کے لیے کانٹے دار مقابلے ہوں گے۔

کیوں کہ جس طریقے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے پارلیمنٹ میں مداخلت کی اور سپیکر کی رولنگ کو ختم کر کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ دس اپریل تاریخ اور پاکستانی جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے۔ جس دن پارلیمنٹ میں مداخلت کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ دوسری طرف پنجاب میں صوبائی حکومت کو طاقت کے بل بوتے پر مسلط کیا گیا۔ جب وزیر اعلیٰ کے طریقہ انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا۔

تو اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو کیوں کام کرنے کا کہا گیا؟ غیر قانونی طور پر منتخب وزیر اعلیٰ سب سے بڑے صوبے پر مسلط ہے۔ یہ جمہوریت اور قانون کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ تین مہینوں میں 90 روپے لیٹر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔ 14 روپے بجلی کی ایک یونٹ کا اضافہ کر دیا، ادویات کی قیمتوں میں ریکارڈ 30 فیصد اضافہ کیا گیا۔ گیس کی قیمتوں میں 50 روپے اضافہ کیا گیا۔ سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہے۔ کوکنگ آئل ایک لیٹر 600 روپے کے بارڈر کو کراس کر گیا ہے۔

بچوں کے پیمپر میں 250 روپے اضافہ، بچوں کے دودھ میں 500 روپے اضافہ، دودھ 100 سے 160 روپے، دھی 120 سے 180 روپے، الغرض ہر چیز کی قیمتیں کئی گناہ زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے مڈل اور غریب طبقے متاثر ہو رہے ہے۔ یوں ان کی اپنی نالائقی کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز جس طرح ساہیوال میں بارش کے باوجود پانی اور کیچڑ میں عوام الناس نے کھڑے ہو کر عمران خان کا نہ صرف استقبال کیا بلکہ ان کی تقریر بھی سنی۔

اس طرح مسلم لیگ کے گڑھ شیخوپورہ میں پاکستان تحریک انصاف نے کامیاب عوام طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ عمران خان کی مزاحمتی تحریک کی وجہ سے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے عوام باشعور ہو چکی ہے۔ کیوں کہ ان انتخابات میں 49 فیصد ووٹرز نوجوان نسل ہیں۔ جن کی ہمدردیاں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر کھلے عام بحث ہو رہی ہے۔

75 سالوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کوئی الیکشن نہیں ہارا۔ لیکن اس دفعہ شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ابھی سے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ سرکاری وسائل کا بے جا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔ ووٹ عوام کی امانت ہے۔ اس میں خیانت کرنا ملکی غداری کے مترادف ہے۔ اس وقت کے عوامی سروے کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 سیٹوں میں سے 14 سیٹوں پر پاکستان تحریک انصاف کو واضح برتری حاصل ہے۔

جبکہ دو نشستوں پر سخت مقابلہ ہو گا اور چار نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ نون کو واضح برتری حاصل ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 17 جولائی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کو صوبہ پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوگی۔ اور پنجاب میں حکومت بننے سے پاکستان تحریک انصاف کے بیانیہ کو نہ صرف فوقیت ملے گی۔ بلکہ یہ تحریک انصاف کی جیت ہوگی کیونکہ جو پنجاب پر راج کرے گا وہی ملک پر راج کرے گا۔

ملک اس وقت شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کئی گئی۔ ملک بھر میں سوشل میڈیا پر غیر علانیہ پابندیاں عائد ہیں۔ صحافیوں پر جعلی ایف آئی آرز درج ہو رہی ہے۔ آزادی اظہار رائے بنیادی حق ہے لیکن پاکستانی قوم اس وقت اس حق سے محروم ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت میں شامل کئی چھوٹی جماعتیں عیدالاضحی کے بعد حکومت کا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ جن میں عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی شامل ہیں۔

کیوں کہ یہ پارٹیاں ناراض ہیں۔ اور سب کی نظریں پنجاب اسمبلی کے انتخابات پر ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی پارٹی اس وقت عوامی ردعمل کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ پارٹیاں عید الاضحی کے بعد بظاہر پنجاب اسمبلی کے نتائج کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔ اس لے بھی پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات اہمیت کے حامل ہیں۔ ان چھوٹی جماعتوں کی علیحدگی سے وفاق میں دو ووٹوں سے قائم حکومت کا وجود برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ ان حالات میں اسمبلیاں تحلیل ہوگی اور نئے انتخابات کا اعلان ہو گا۔ یوں جولائی کا مہینہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments