مون سون بارشیں، تباہ کن سیلاب اور ناقص بند

تحریر۔فضل تنہا غرشین

پاکستان بالعموم اور بلوچستان بالخصوص ان دنوں تیز مون سونی بارشوں سے جنم لینے والے شتر بے مہار سیلابوں کی زد میں ہے، جس سے تاحال ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اگرچہ نیشنل اور پروانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے عوام الناس کو پیشگی مطلع کیا تھا مگر ناقابل انتقال ا املاک (گھر، باغ، دکان، ٹیوب ویل، سڑک، پل وغیرہ) کو محدود آمدن اور محدود وقت میں قدرتی آفات سے بچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

علاقے کے بزرگوں اور کاشت کاروں کے مطابق امسال اچانک اور غیر متوقع جو بارشیں ہوئیں اور تباہ کن سیلاب آئے، انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ فی الحقیقت، بارشوں اور سیلابوں کی شدت نے عوام کی جان و مال کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا کہ پچھلے دس سالوں میں بننے والے نئے غیر معیاری ڈیموں نے پہنچایا۔ کثیر تعداد میں نئے تعمیر شدہ بندات یا تو مکمل طور پر ٹوٹ گئے ہیں اور یا ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام، بازاروں، گھروں، فصلوں، سڑکوں، پلوں اور مال مویشی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

جس وقت یہ نئے بندات بن رہے تھے اس وقت علاقہ مکینوں، سماجی کارکنوں اور میڈیا سے وابستہ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے ان ڈیموں کے محل وقوع، ڈیزائن، فنڈ اور اس میں استعمال ہونے والے ناقص مواد کے خلاف خوب آواز بلند کی مگر قدامت پرستوں، سیاسی مزاحمت کاروں اور شریک جرم متعلقہ افسروں نے ان کی ایک نہ سنی۔ نتیجتاً ایسے ڈیم بن گئے جو عوام کی جان و مال کے لیے عذاب کبیرہ بن گئے۔ صرف ایک ہفتے کی بارشوں اور سیلابوں نے سیاست زدہ ڈیموں کا پول کھول دیا اور پورا بلوچستان سیلاب میں بہنے لگا۔

حالیہ مون سونی سیلابوں سے اب تک بلوچستان میں ساٹھ سے زیادہ افراد، سیکڑوں کی تعداد میں مال مویشی، کروڑوں کی لاگت کی فصلیں اور باغات اور متعدد پل اور سڑکیں سیلاب برد ہو گئی ہیں۔ زیارت میں زڑگی تا سپیزندی پل تباہ ہو گیا، زمینی کٹاؤ کی وجہ سے فورٹ منرو کا راستہ بند ہو گیا، مسلم باغ کنچوغی روڈ اور کاریزگی پل بھی سیلاب میں بہہ گیا۔ بلوچستان میں خسنوب اور خودیزئی کا علاقہ مکمل زیر آب آ گیا، جس میں کئی بچے اور خواتین بھی بہہ گئے۔ خسنوب میں باقاعدہ خیمہ بستی بسایا گیا۔ خسنوب اور خودیزئی کے عوام اس وقت کافی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔

اسی طرح لورالائی میں درگہ کدیزئی ڈیم، قلعہ عبداللہ میں چنار اور ماکو کچھ ڈیم، خانوزئی میں تورہ خولہ ڈیم، قلعہ سیف اللہ میں نسائی ڈیم، مسلم باغ میں کان مہترزئی ڈیم، پشین میں ملیزئی اور طور مرغہ ملکیار ڈیم، موسیٰ خیل میں خزانہ ڈیم، توبہ اچکزئی میں کدنی ڈیم اور توبہ کاکڑی میں عیسیٰ زئی پستہ ڈیم ٹوٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے گھر منہدم ہو گئے، فصلیں تباہ ہو گئیں، باغات ڈوب گئے، مال مویشی ہلاک ہو گئی اور لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ لوگوں کے گھروں میں رکھے گئے قیمتی فرنیچر، مہنگے بستر، اصلی دستاویزات، تعلیمی اسناد، تاریخی کتب، عورتوں کے زیورات اور چمکیلی گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئیں۔ سیلابوں نے بچوں، عورتوں، معذوروں اور عمر رسیدہ شہریوں کے نفسیات پر انمٹ منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ معاشی اور تعلیمی نقصان اس کے علاوہ ہیں۔

طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے ٹیوب ویل، کنویں، چشمے اور کاریزات مٹی سے بھر گئے ہیں۔ عوام کو اب دور دراز سے ٹریکٹروں اور ٹینکروں کے ذریعے پانی (فی ٹینکی 2500 تا 3000 ) لانا پڑتا ہے۔ عوام میں اس وقت نئے تعمیر شدہ ڈیموں کے ٹوٹنے پر نہایت غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈیموں کے ٹوٹنے سے عوام کی تکلیف میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ڈیموں کے ٹوٹنے کی وجہ سے سریلا حبیب زئی، ملکیار شخالزئی، ڈب خانزئی، منزکی حمید آباد، کوزہ نیگاندہ، دلسورہ، خانوزئی، رودملازئی اور کلی غرشینان میں ایسا گھر نہیں جو سیلاب سے کلی یا جزوی طور پر متاثر نہ ہوا ہو۔ راقم الحروف یعنی میرے اپنے گھر کے چار کمرے کلی طور پر منہدم ہوچکے ہیں اور یہی صورت حال تقریباً ہر گھر کی ہے۔ لیکن آفرین ہو ان تہی دست عوام پر جنھوں نے اب تک اپنی مدد آپ کے تحت خود کو سنبھالا ہوا ہے۔

شنید ہے کہ خانوزئی ڈیم کی حالت بھی تشویش ناک ہے اور کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح کلی غرشینان جڑواں ڈیم، تارن اوبشتکی ڈیم، ژدن ڈیم، اور وریا ڈیم بھی پانی کا زیادہ بہاؤ برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے مسلسل لیکیج کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت معمولی سیلاب کی آمد سے ٹوٹ سکتے ہیں۔ خدا نہ کرے اگر ایسا ہوا تو یہ قیامت کبری ہوگی۔

مون سونی بارشیں تقریباً پورے بلوچستان میں اپنے جوبن پر ہیں۔ بارشوں کے ساتھ ساتھ آسمانی بجلیاں اور زلزلے بھی تواتر سے شروع ہونے لگے ہیں۔ اس طرح کی تباہ کن بارشیں اور مہیب سیلابی ریلے دنیا میں رونما ہونے والی عالمی حدت اور موسمی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہیں۔ آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے قدرتی آبی گزر گاہوں، تنگ وادیوں اور پہاڑوں کے دامن میں گھر بسانا شروع کیے ہیں، لیکن پانی اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ ناقص نکاس آب کا نظام بھی سیلابی صورت حال کو مزید مخدوش بناتا ہے۔

عوام کی غفلت ہو یا قدرت کی بے نیازی، سرکاری افسروں کی بدعنوانی ہو یا سیاسی کارکنوں کی ٹھیکے داروں سے ملی بھگت، اس کا حساب تو ہر قیمت پر ہو گا مگر سب سے پہلے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی مدد کریں، ان کو خیمے اور ادویات فراہم کریں اور ان کے نقصانات کا صحیح جائزہ لے کر ان کی طویل المدتی بحالی پر توجہ دیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ موسم کے متعلق خود کو ہمہ وقت باخبر رکھیں۔ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

اپنے گھروں میں موجود بچوں، خواتین، معذور اور معمر افراد کو ذہنی تناوٴ سے دور رکھیں۔ عید البقر کے مقدس ایام ہیں۔ اللہ تعالی سے رحمت اور مغفرت کی دعائیں مانگیں۔ اس مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کی بے لوث مدد کریں۔ ایک دوسرے کو چھت دیں، خوراک کا سامان فراہم کریں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ ایک انسان کی زندگی بچانا پوری انسانیت کے بچانے کے مترادف ہے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments