فائدے سے بھرپور جنتی سبزی ۔۔ یہ بارش کی بوند پڑنے سے ہی کیوں اگتی ہے؟

بارش کے بعد جہاں موسم خوشگوار ہوجاتا ہے اور لوگوں کا پکوڑے اور سموسے کھانے کو جی للچانے لگتا ہے، ایسے موسم میں رب کائنات کی طرف سے ایک جنتی غذاء بھی انسانوں کیلئے زمین کا سینہ چیر کر نکل آتی ہے۔

اس کو کھمبی کہتے ہیں، مورخین کہتے ہیں کہ کھمبی کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی بنی نوع اِنسان کی اپنی تاریخ ہے۔ اسے اردو میں کھمبی اور انگریزی میں مشروم کہتے ہیں۔

قدیم زمانے میں لوگ کھمبیوں کے اگنے کو کسی جادوئی عمل کا نتیجہ سمجھتے تھے کیونکہ یہ راتوں رات اگ آتی ہیں۔ رفتہ رفتہ جب اس کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا تو پتہ چلا کہ یہ کسی جادوئی عمل کے نتیجے میں نہیں اگتے۔

برسات کے موسم میں بارش کے بعد ایک نبات جسے ہم سبزی کہ سکتے ہیں قدرتی طور پر زمین کو پھاڑ کر نکلتی ہے۔ یہ ایک پھپوند ہے جس کی جڑ تنا پتے اور پھول نظر نہیں آتے مگر پھل پھر بھی دیتا ہے۔ اس کا بیج بالکل باریک ہوتا ہے جو پک کر گر جاتا ہے یوں ساز گار موسم اور نمی میں پھوٹتا ہے۔

اسے جنتی سبزی یا جنتی غذا بھی کہا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں اس کو من و سلویٰ میں شمار کیا گیا اور اس کے پانی کو آنکھوں کی شفا یابی قرار دیا گیا ہے۔ کھمبی قدرت الٰہی کی عظیم نشانی ہے۔ کھمبی میں پروٹین زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے، یہ ذیابیطس، فشار خون اور دل کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند قرار دی گئی ہے۔

دنیا بھر میں کھمبیوں کی تقریباً 1500 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ کھانے کے قابل ہیں جبکہ دوسری زہریلی ہیں۔ پاکستان میں کھمبیوں کی تقریباً 56 اقسام ہیں ان میں 4 بلوچستان 3 سندھ 5 پنجاب اور 44 اقسام خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں پائی جاتی ہیں۔

دنیا کے بہت سارے ممالک میں کمرشل بنیاد پر اس کی کاشت کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں غیر روایتی فصلوں اور دوسری غذائی اجناس پر توجہ نہیں دی جاتی اس ضمن میں کھمبی کی کاشت فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

News Source

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments