پارٹی اور عمران خان مشکل میں ۔۔ ممنوعہ فنڈنگ کی وجہ سے پی ٹی آئی کوکیا کیا مسائل پیش آسکتے ہیں؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کیخلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 8 سال بعد سنادیا ہے اور پی ٹی آئی کو ممنوعہ فنڈنگ لینے پر شو کاز نوٹس بھی جاری کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے 3 رکنی بینچ نے 21 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ پی ٹی آئی نے اپنے 16 اکاؤنٹس چھپائے، عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا سرٹیفکیٹ غلط تھا، عمران خان کے بیان حلفی میں غلط بیانی کی گئی ہے۔

اس حوالے سے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ یا فارن فنڈنگ ثابت ہو گئی تو پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی نااہل ہو جائیں گے اور پارٹی کے اثاثے ضبط ہو جائیں گے۔

ممنوعہ یا فارن فنڈنگ ثابت ہو تو الیکشن کمیشن ریفرنس بھیجے گا کہ فنڈ ضبط کر لیا گیا ہے، پھر حکومت وزارت داخلہ کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرے گی جس پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ ریفرنس سماعت کرے گا۔

کنور دلشاد نے مزید کہا کہ تحریک انصاف خود بھی حکومت سے پہلے سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کر سکتی ہے تاہم اکبر ایس بابر کے پاس ایسے ریکارڈ ہیں کہ پینڈورا باکس کھل جائے گا۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments