بہنوں کے ہوتے ہوئے بھائی چائے کیوں بنائے! ڈرامہ فراڈ کی امی جی کا ایک جملہ جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا

ہمارے ڈرامے معاشرے کی عکاسی ہوتے ہیں ان میں دکھائے جانے والے مناظر نہ صرف ہمارے گھروں کی کہانی ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات بھی ہمارے گھروں تک پہنچتے ہیں- ڈرامہ فراڈ کا ایک منظر جس نے سوال اٹھا دیےنجی چینل پر دکھایا جانے والا ڈرامہ فراڈ جو کہ معاشرے کے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کررہا ہے جس میں لڑکیوں کی شادیوں کے لیے والدین کی تگ و دو اور بہتر سے بہتر رشتے کی تلاش میں ہونے والے فراڈ جیسے اہم موضوع کو منتخب کیا گیا ہے اور انتہائی بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے- لیکن اسی ڈرامے کے دوران ایک منظر ایسا بھی تھا جس پر نوجوان لڑکیوں نے سوشل میڈيا پر سوال اٹھا دیے- ڈرامے میں دکھایا جانے والا متنازعہ منظرڈرامہ فراڈ جو کہ زنجبیل عاصم کی تحریر ہے اس میں ڈرامے کے 12 قسط کے ایک منظر میں ایک گھر کا منظر دکھایا گیا جس میں ایک ماں اپنی دو بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ بیٹھے ہیں- بیٹا انتہائی شریف النفس اور ایس ایچ او کے عہدے پر دکھایا گیا ہے جو کہ دوسرے پولیس والوں سے بہت مختلف دکھایا گیا ہے- 

image

 مگر اس کی ماں نے سین میں جب بیٹیوں کو کہا کہ جاؤ بھائی کے لیے چائے بناؤ اور بھائی کا یہ کہنا کہ میں بنا لیتا ہوں جس کے جواب میں ماں نے کہا کہ بہنوں کے ہوتے ہوئے بھائی کیوں چائے بنائے- سوشل میڈيا کا اس سین پر ردعملڈرامے کے اس سین نے ڈرامے کے باقی موضوع سے ہٹ کر سوشل میڈيا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے جس کے مطابق ایک تعلیم یافتہ گھرانے کی ماں کی بھی یہ سوچ ہو سکتی ہے کہ اس کا بیٹا کچن کے کام نہیں کرے گا اور اس کے کام بھی اس کی بہنوں کو کرنے چاہیے ہیں- بیٹے خود کو شہزادے سمجھتے ہیںاس سین پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک لڑکی کا یہ کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ لڑکے گھروں میں خود کو شہزادے سمجھتے ہیں اور ان کی نظروں میں ان کی بہنوں کی حیثیت رعایا جیسی ہی ہوتی ہے- بات غلط نہ تھی بلکہ اس کا انداز غلط تھااس کے علاوہ کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہنوں کا بھائي کے لیے چائے بنانا کوئی غلط بات نہیں ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب کہ بھائی گھر کا واحد کمانے والا ہو اور ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہو تو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ بہنوں کو بھی بھائی کے لیے چائے بنا لینی چاہیے مگر ان خاتون کا یہ کہنا کہ بہنوں کے ہوتے ہوئے بھائی کیوں چائے بنایا اس بات کو متنازعہ بناتا ہےبھائی دفتر سے آکر چائے بنائے یہ تو مناسب نہیں- جب کہ کچھ خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا یہ مناسب لگتا ہے کہ بھائی باہر کے کام کر کے واپس گھر آئے اور اس کے بعد گھر میں فارغ بیٹھی ہوئی ماں اور بہنوں کے لیے چائے بنا کر لائے تاکہ معاشرے کی خواتین کو خوش کیا جا سکے تو یہ بھی مناسب بات نہیں ہے- 

image

 صرف 5 فی صد مرد گھر کے کام کرتے ہیںاس موقع پر کچھ خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ گھروں پر مردوں کی شرح جو بیویوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں صرف 5 فی صد ہوتا ہے جو کہ بہت کم ہے اور ان مردوں کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو زن مرید جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے- بہرحال ڈرامے کو پسندیدگی سے دیکھنے کے باوجود سوشل میڈيا صارفین کو یہ سین کافی برا لگا اور ان کا یہ ماننا ہے کہ معاشرے میں اس طرح کی سوچ کو ہموار کرنے کے بجائے اس سین کو بہتر انداز میں بھی کیا جا سکتا تھا اور بہنوں کو بھائی کا غلام قرار دینے کے بجائے ان سے محبت کے ساتھ چائے بھی بنوائی جا سکتی تھی- آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اپنی راۓ سے ضرور آگاہ کریں

News Source

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments