روشنی دیتا رہے گا کاروانِ کربلا

تحریر۔مولانا امیر محمد اکرم اعوان:

سانحہ کربلا تاریخ میں ایک بہت بڑا سانحہ ہے اس لحاظ سے بھی کہ اس منزل کے مسافر خاندان نبوتﷺ کے چشم وچراغ تھے اخلاق کریمانہ کے وارث اور انوار نبوت کے امین ان کے امیر حضرت حسین رضی تعالےٰ عنہ نہ صرف صورت میں حضور ﷺ سے مشابہ تھے بلکہ سیرت نبوی ﷺکا بھی نمونہ اور علوم ومعارف کا خزینہ یہ وہ رخ روشن تھا جس پر محمد رسول ﷺ کے بوسے ثبت تھے اور یہ جسم جسمِ اطہر کا ہی حصہ تھا اس میں دوڑنے والا خون محمد ﷺ کا مبارک خون تھا ۔

کوفہ عہد فاروقی کی ایک چھاؤنی تھی 15 ھ میں حضرت سعدبن ابی وقاص نے اسے ;باد کیاپھر رفتہ رفتہ یہ شہربن گیا جگہ جگہ سے لوگ آ باد ہوتے رہے حضرت علی کرم ا;وجہہ الکریم کے عہد میں مشہور ہوابلکہ ان کا دارالخلافہ بن گیایہود کی زیرزمین تحریک کا بانی عبدا بن سبا درپردہ مسلمان ہو گیا جب اس نے دیکھا کہ مسلمان سپاہ افریقہ ، ہسپانیہ اور چین تک فتوحات کرتی جا رہی ہیں ان کا مقابلہ سرمیدان مشکل ہے لہٰذا زیر زمین اسلامی حکومت اور خلفائے راشدین کے خلاف ایک;78;etworkتیار کیا جس کا مرکز کوفہ تھا عہد فاروقی میں اسکے مشکوک کردار پر نظر رکھی گئی اس نے مدینہ چھوڑ کر کوفہ اور پھرمصر میں ڈیرہ ڈالا اس سیاحت میں اس نے اپنا ایک ہم خیال گروہ پیدا کیا اس نے سازش سوچی کہ ایمانیات اور عقائد میں دخل اندازی کی جائے جس کے لئے مصراور کوفہ سے چند سوباغی تیارکئے گئے جن کی تعداد 900یا 1200تک تھی حضرت عثمانکے خلاف دس کے قریب اعتراضات جو طبری نے واضح کئے ہیں اور وہ جواب بھی وہیں موجود ہیں جو حضرت عثمان ;نے انہیں دیئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انہیں گرفتار کروانے اورقتل کروانے کامشورہ دیالیکن خلیفہَ سوم کی فراست اور جراَت تھی کہ انھیں وہ پلیٹ فارم دے کر نئے فتنے اور مذہب کی بنیاد فراہم کرنے کی بجائے اپنی جان دینا گوارہ کر لیاقاتلین عثمان وہی باغی تھے جنہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت معاویہ, حضرت عمر ابن العاص اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ایک ہی دن شہید کر دیاجائے باقی دو حضرات کی زندگی باقی تھی کسی وجہ سے ان کے ہتھے نہ چڑھے لیکن ان سازشیوں نے حضرت علی کوشہیدکیابظاہریہ حضرت علی;230; کے طرفدار تھے مگر باطنی طور پریہ لوگ اسلام کے دشمن تھے لہٰذا انھوں نے کبھی بھی حضرت علی; سے وفانہ کی ۔

حضرت امیرمعاویہ نے 22رجب 60;247; میں انتقال فرمایا ان کے انیس سالہ دورِ حکومت میں سب تواریخ اس بات پرمتفق ہیں کہ نہ حضرت حسن کوشکایت پیداہوئی نہ حضرت حسین; نے شکوہ فرمایاحضرت حس ;نے چھ ماہ بعد خودہی حکومت حضرت امیرمعاویہ کے سپردکی تھی اور کوفہ چھوڑ کر مدنیے منورہ مےں سکونت اختےار کر لی چنانچہ وقتی طور پر ےہ فتنہ دب گےاےزےد خلےفہ بنا تو حضرت حسن ،حضرت عبداللہ بن زبےر اور کئی دوسرے صحابہ نے اسکی بےعت نہیں کی بہت سے صحابہ اور باقی مسلمانوں نے اسکی بےعت کر بھی لی ۔ حضرت عبداللہ بن زبےر; نے مدےنہ سے چل کر مکہ مکرمہ کو اپنی قےام گاہ بناہ لےا بلکہ طبری سے یہ نشان ملتا ہے کہ حضرت حسین اور حضرت عبدد بن زبیر حرم کعبہ میں اکٹھے نمازیں ادا فرماتے اور وہیں بیٹھ کر گفتگو فرماتے تھے چنانچہ شعبان، رمضان، شوال اور ذےعقد مےں کسی شورش کا پتہ نہےں ملتا ۔

کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر انصاری تھے اہل کوفہ نے کوفہ میں شورش پیدا کی اور بقول طبری حضرت حسین کو لکھا کہ یزید نے ہم سے زبردستی بیعت لی ہے مگر ہم سب آپ پر بھروسا کئے بیٹھے ہیں ہم نماز جمعہ میں والئی کوفہ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے آپ ہم لوگوں میں آ جائیے بلکہ یکے بعد دیگرے کوفیوں کے تینوں وفد مکہ مکرمہ آئے جن میں سے دو کو حضرت حسین نے لوٹا دیامگر تیسرا وفد اپنے ساتھ ایسے خطوط لایا جن میں قس میں دی گئیں تھیں اور رسول ﷺ کا واسطہ دیا گیا تھا کہ اگر آپ تشریف نہ لائے تو روز محشر ہم آپ کادامن کشان حضور ﷺ کے سامنے پیش کریں گے کہ انہوں نے ہماری راہنمائی قبول نہ فرمائی تھی آخر حضرت حسین نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو طلب فرما کر حکم دیا کہ ’’ تم کوفہ روانہ ہو جاوَاوردیکھو کہ یہ لوگ مجھے کیا لکھ رہے ہیں ;238; اگر سچ لکھ رہے ہیں تو میں وہاں چلا جاؤں گا‘‘ چنانچہ حضرت مسلم مدینہ منورہ سے ہوتے ہوئے کوفہ پہنچے اور ابن عوسجہ نامی شخص کے ہاں اترے جب آپ کی آمد کا چرچا ہوا تو لوگ آ کر بیعت کرنے لگے حتیٰ کہ بارہ ہزار تک تعداد پہنچ گئی آپ نے وہاں سے منتقل ہو کر ہانی بن عروہ مراوی کے گھر قیام فرمایا اور حضرت حسین ;230; کو لکھ بھیجا کہ بارہ ہزارکوفیوں نے بیعت کی ہے اور مزید ہو رہی ہے آپ ضرور تشریف لے آئیے ۔

قاصد مکہ مکرمہ چلا گیا تو بعد میں حالات نے پلٹا کھایا کوفہ کاگورنر بدل دیا گیا چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر کی جگہ عبد ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کر کے حالات سنبھالنے کے لئے بھیجا گیا جس کے واقعات طبری میں با التفصیل درج ہیں ۔ القصہ پہلے تو اسے بھی قتل کرنے کی سازش ہوئی مگر وہ بچ گیا اور مختلف قبیلوں کے سرداروں کو بلا کر سمجھایا اور دھمکایا کہ اس سودے میں تمہیں نقصان ہو گاچنانچہ وہ لوگ اپنی بات سے پھر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت مسلم کے ساتھ کوئی آدمی بھی نہ رہا اندریں حال وہ گرفتار ہو کر شہید ہوئے شہادت سے پہلے ان سب حالات کو قلمبند فرمایا اور عمرا بن سعد ابن ابی وقاص کو یہ چھٹی دی انہوں نے یہ خط حضرت حسین ;230; کی خدمت عالیہ میں روانہ فرما دیا آپ مکہ مکرمہ سے بمعہ اہل و عیال کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے باوجود یہ کہ حضرت ابو سعید خدری حضرت واثلہ اللیثی،حضرت عبدبن عباس ،حضرت عبدا بن جعفر طیار جو حضرت زینب بنتِ علی ; کے خاوند اور حضرت حسین کے چچا زاد بھائی اوربہنوئی بھی تھے جیسی ہستیوں نے آپ کوکوفہ جانے سے بہت روکاحضرت حسین کا موَقف یہ تھا کہ یا توحکومت اورحاکم ان ہزاروں افراد کو جو یہ کہتے ہیں ہم سے زبردستی بیعت لی گئی کو مطمئن کرے یا پھر حکومت چھوڑ دے اور ایسا امیر بنایا جائے جسے سب مسلمان قبول کریں یہ سیاسی اختلاف تھا اور حضرت حسین اس کی اصلاح چاہتے تھے اب اگر حکومت کوفہ والوں کو مطمئن کر دیتی تو حضرت کو حکومت سے کوئی جھگڑا نہ تھا اگر نہ کر سکتی اور آپ ان کی قیادت و سیادت قبول فرماتے تو حق بجانب تھے لہٰذا آپ چل دیئے اثنائے راہ میں وہ خط ملا جو حضرت مسلم نے شہادت سے قبل تحریر فرمایا تھا آپ نے احباب سے مشورہ فرمایا کہ واپس چلیں یا کوفہ پہنچیں تو حضرت حسین ;230; کا فیصلہ کوفہ پہنچنے کا تھا ۔

جب یہ قافلہ القرعا کے مقام پر پہنچا تو یہاں کوفیوں پر مشتمل فوجی دستے متعین تھے جنہوں نے راستہ روکا ۔ وہاں باتیں ہوئیں بیعت یزید کا مطالبہ ہواحضرت حسین نے فرمایا میں تمہارے بلانے پر آیا ہوں یزید یا حکومت کے ساتھ میرا ذاتی جھگڑا نہیں اب اگر تم اس حکومت پر راضی ہو تو ٹھیک ہے بات ختم میرا راستہ چھوڑ دومگر وہ نہ مانے اور بیعت پر اصرار کرتے رہے ۔ انہوں نے خط بھیجنے سے بے خبری ظاہر کی مگر حضرت حسین نے ایک ایک کا نام پکار کر فرمایا اے فلاں کیا تو نے چٹھی نہیں لکھی اے فلاں ابن فلاں کیا تم نے قاصد نہیں بھیجاالغرض بہت ردوکد کے بعد یہ طے ہوا کہ چلو سب دمشق چلتے ہیں وہاں یزید کے روبرو فیصلہ ہو گاچنانچہ یہ قافلہ اور فوجی القرعا سے دمشق کو چلے جبکہ کوفہ ایک سمت چھوڑ دیا اور کربلا وہ مقام ہے جو القرعا سے تیسری منزل ہے اور کوفہ سے دمشق نیز مکہ مکرمہ سے آنے والا راستہ بھی مل جاتا ہے حضرت حسین نے کوفی لشکر کے سامنے جو مطالبہ رکھا وہ تین حصوں پر مشتمل تھا اول: مجھے واپس جانے دو ۔ دوم:مجھے یزید کے پاس لے چلو ۔ سوم: مجھے کسی دوسرے ملک یا سرحدات کی طرف نکل جانے دو ۔ سو اندازاً 6 محرم کو آپ ’’ القرعا‘‘ سے نکلے اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ دمشق کو چلتے ہیں چنانچہ 7 محرم کو ’’ العدیب‘‘ 8 کو ’’قصر مقاتل‘‘ اور 9 محرم کو ’’ کربلا‘‘ پہنچے یہ تاریخی حقیقت ہے مقام کربلا کنار دریا پہ واقع ہے سطح سمندر سے 700 فٹ سے لے کر 1700 فٹ کے درمیان بلندی ہے زمین ریتلی مگر سرسبز بھی ہے ایک طرف چھوٹے چھوٹے چٹانوں کے ٹیلے سے ہیں اس دور میں اس منزل کا نام ’’الطف ‘‘ بھی ملتا ہے یعنی بہت مزیدار جگہ حضرت حسین نے کربلا میں قیام فرمایا اور سستانے کے لئے 10 محرم کو سفر ملتوی رکھا اب لطف کی بات یہ ہے کہ کوفی جن پر یہ لشکر مشتمل تھا اکثر نماز حضرت کے ساتھ ادا کرتے تھے کربلا میں ظہر کی اذان ہوئی تو بیشتر آ گئے نماز کے بعد حضرت نے پھر وہی بات چھیڑدی کہ تم عجیب لوگ ہو پہلے مجھے دعوت دی پھر خود یزید سے مل گئے چلو یہ بھی ٹھیک ہوامگر اب میرا راستہ روکنے کا تمہیں کیا حق حاصل ہے;238;چنانچہ حرُ نے خطوط سے لاعلمی ظاہر کی تو حضرت حسین نے خطوط سے بھری تھیلیاں منگوائیں اور ڈھیر کر دیں جن میں ہزاروں خطوط تھے اور 150 خطوط ایسے تھے جن کے حاشیہ پر کئی کئی افراد کے دستخط ثبت تھے یہ ساری بات شیعہ حضرات ’’خلاصۃ المصائب‘‘کے صفحہ 50 پر بھی موجود ہے جب یہ بات حرُ نے کوفہ کے ان سرداروں کے سامنے بیان کی اور خطوط کے بارے میں بتایا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ دمشق پہنچ کر کیا ہوگاوہ خوب سمجھتے تھے کہ حضرت حسینکو قتل کرنا سیاسی اعتبار سے یزید کو ہلا کے رکھ دے گا اور یہ کسی طرح اس کے حق میں نہیں نیز جرم تو سارا ہمارے سر آئے گا اور ہمارا بچنا بہت مشکل ہو گالیکن اگر حضرت حسینکو یہاں شہید کر دیا جائے تو خطوط بھی تلف ہو سکتے ہیں اور واقعہ کی ذمہ داری یزید کے نام پر ہو گی لہٰذا ایک عالم اس کے خلاف غم و غصہ سے بھر جائے گاپھر اس کے لئے ہمارے ساتھ بگاڑنا بھی آسان کام نہ رہے گایہ وہ سوچ تھی جس نے عصر سے قبل ہی ان کو حضرت حسین کی اقامت گاہ میں بے خبری میں ٹوٹ پڑنے کے لئے اکسایا اور یوں جگر گوشہ بتول کا چمن ان ظالموں کی ٹاپوں تلے تھا چند خدام ہمراہ تھے صاحبزادگان اور بھتیجے یا کچھ لوگ انہی کوفیوں میں سے تھے جو بلانے کو گئے تھے یا پھر حر ُ جو خطوط دیکھ کر کوفیوں سے نالا ں تھاساتھ شہید ہوایہ چند نفوس مقدسہ تھے جو ظلماً سازش کرکے اور نہایت بے دردی سے شہید کر دئے گئے ۔

آج پھر جو دین کے دشمن ہیں اس ملک کے بھی دوست نہیں ان کی بلا سے ملک برباد ہوتا ہے تو ہو جائے لوگ قتل ہوتے ہیں تو ہوں خانہ جنگی ہوتی ہے تو ہو جائے کچھ بھی ہو انہیں تمہاری بربادی سے غرض ہے وہ تمہاری آبادی میں خوش نہیں اپنے ملک کے امن وامان کو بھی سامنے رکھنا ہے کہ امن وامان تہہ و بالا ہو تو یہ نقصان میرا اور آپ کا ہے ان کا نہیں اوروہ چاہتے یہ ہیں یہ ملک ہمارے پاس کی اتنی عظیم نعمت ہے کہ اب تک اس کے چاروں سمت آگ لگی ہوئی ہے دوزخ دہک رہا ہے لیکن یہ گلزار خلیل بنا ہوا ہے ۔

لوگو ! خدا کا خوف کرو تقویٰ اختیار کرو اور حضور ﷺ کے ارشاد فرمائے ہوئے دین کو عملاً اپناوَ کہ خدا تم پر کافروں کو مسلط نہ کرے اگر ہم نے عملًاحضور ﷺ کی اطاعت اختیار نہ کی تو مصیبتیں ہم سے نہیں ٹل سکتیں اپنی ذمہ داری کو پورا کرو جو نہیں جانتے ان تک یہ بات پہنچا دو کہ یہ کون سی مصیبت ہے جو تمہارے دروازے پر دستک دے رہی ہے;238; اس ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جان لڑا دوملک کو بچاوَ یہ روئے زمین پر تمہارا اور تمہارے دین کا مرکز ہے ۔

میں نے دنیا کو پھر کے دیکھا ہے آپ بھی دنیا کا مطالعہ کریں دنیا میں اگر ہم نالائق ہیں تو بھی اس وقت روئے زمین پر جو مسلمان ہیں ان سب میں اچھے مسلمان اس خطہ میں ہیں یہ پنجاب کا کچھ علاقہ جو ہندوستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کا کچھ علاقہ اور سرحد پنجاب کی پٹی جو ساتھ ساتھ ہیں صرف اس میں جو مسلمان بستے ہیں روئے زمین پر بسنے والے مسلمانوں سے عملاً سب سے اچھے ہیں عقیدہ بھی سب سے بہترین ہے اگر انہی کی گردنیں آپس میں کٹ جائیں تو کیا حشر ہو گا عالم اسلام کا اس کے پیچھے آج بھی صیہونی سازش ہے اور یہودیوں کا روپیہ کام کررہا ہے مسلمانو! یہودیوں کے روپے پر بکنا چھوڑ دو ۔

آج بھی وہ تمہیں خرید لیتے ہیں تم سے ووٹ خرید لیتے ہیں تم سے رائے خرید لیتے ہیں اور تمہارے اوپر بندے مسلط کر دیتے ہیں اپنے آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ سمجھو اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرواپنے ملک اپنے دین کو اس مصیبت سے بچانے کی سعی کرومحض شور کرنے سے جلوس نکالنے سے ہلڑ بازی سے کچھ نہیں ہو گا جہاں تک آواز پہنچ سکتی ہے لوگوں کو سمجھاوَ اور احساس ذمہ داری یاد دلاوَسب کو عملاً حضور اکرم ﷺ کی اطاعت اور دین مبین پر عمل کرنے کی طرف بلاوَ کہ لوگ دین کو اپنائیں اس سے پہلے کہ تمہارے گلے میں کسی ماوَشما کی غلامی کا طوق ڈالا جائے حضور اکرم ﷺ کی غلامی اپنی گردن میں ڈال لو ۔ خداوند عالم سب کو دین کی سمجھ اور دین پر عمل کی توفیق عطا فرما دے ۔

گرد میں صدیوں کے دب جائیں گے سارے واقعات روشنی دیتا رہے گا کاروانِ کربلا

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments