کراچی میں بارش سے تباہی: عقلی بدعنوانی اور عوام

تحریر۔فارینہ حیدر

صوبہ سندھ میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے یہ بارشیں جون سے شروع ہوتی ہیں اور ستمبر میں ختم ہوتی ہیں۔ ان بارشوں کی دو وجوہات ہیں۔ گرمی سے ہمالیہ کی برف کا پگھلنا اور دوسری وجہ مون سون۔ ان بارشوں سے بڑی تباہی آئی ہوئی ہے اس تباہی کا شکار کراچی بھی ہو گیا ہے ۔ کراچی کا حال ابتر ہے اور اس کی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی ہے۔ کراچی کی گلیوں کی سڑکیں تو پہلے ہی ختم ہو گئی تھیں اب چند بڑی شاہراہوں کو چھوڑ کر تقریباً تمام سڑکیں ناپید ہو چکی ہیں۔

کراچی میں کوئی سڑک سلامت نہیں ملے گی بلکہ ہر جگہ آپ کو ابلتے ہوئے گٹر، بارش کا گندا پانی، کچرے کے چھوٹے پہاڑ اور اس گندگی سے تعفن زدہ آب و ہوا۔ یہ تعفن صرف ماحول میں ہی نہیں ہمارے میل جول اور ہمارے معاملات میں بھی شامل ہو گیا ہے۔ بعض دفعہ اس گھٹی ہوئی زہریلی ہوا میں سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی والے صرف کراچی کی ہی بات کرتے ہیں، اندرون سندھ میں بھی تو یہی مسائل ہیں ایسے ہی ہر سال بارش سے تباہی آتی ہے۔ حیدرآباد ہر سال گٹر کے پانی میں ڈوب جاتا ہے تو دیکھا جائے تو مسائل تو یکساں ہیں۔

دراصل کراچی کی بات اس لئے ضروری ہے کہ کراچی ملک کا اہم معاشی حب ہے، پورے پاکستان سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوتے ہیں۔ یہ ایک کاسموپولیٹن شہر ہے، یہاں کے لوگ سرکاری نوکریاں کم اور تجارت زیادہ کرتے ہیں۔ بڑا کاروباری طبقہ کراچی میں مقیم ہے، یہ لوگ اپنا ذاتی پیسہ کاروبار میں لگاتے ہیں اور اس کاروبار پر ٹیکس اداکرتے ہیں اب تو بجلی کے بلوں پر بھی ٹیکس ہے تو جب ان لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں ملیں گی تو اپنے لئے بولنا تو ان کا حق بنتا ہے۔

ان سب خرابیوں کی وجہ ہے بدعنوانی۔ بدعنوانی صرف رشوت ستانی کو نہیں کہتے بلکہ اس کی کئی اقسام ہیں جیسے انتظامی بدعنوانی، معاشی بدعنوانی، بھتہ خوری، بلیک میلنگ، سرپرستی، طرفداری، اقرباء پروری اور مؤ کلیت۔ ان تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے عقلی بدعنوانی۔ بدعنوانی قانونی جرم ہی نہیں اخلاقی جرم بھی ہے کیونکہ یہ معاشرے کو برباد کر دیتی ہے اور اس کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے رشوت لینے والے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا ہے اور دوسری حدیث مبارکہ میں دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔

غور کریں تو ان دو احادیث میں ہی ساری بات سمجھا دی گئی ہے اس کے برعکس ہم نے ایک کرپٹ کلچر بنا دیا ہے اس میں معاشرے کا ہر طبقہ فکر اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ہمارا صوبہ خاص کر کراچی اس عقلی بدعنوان کا شکار ہوا ہے۔ ہماری حکومت میں بہترین دماغ والے لوگ موجود ہیں لیکن جب یہ لوگ عوام کے لئے کام کرتے ہیں تو فیل ہو جاتے ہیں، لیکن جب اپنے لئے کام کرتے ہیں تو ان کے بینک بیلنس اربوں روپے کے ہو جاتے ہیں۔

ہمارے وزیر اعلیٰ خود سول انجینئر ہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ کینیڈا کی بھی ڈگری رکھتے ہیں۔ 2016 سے صوبہ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں لیکن کراچی کو آج تک نکاسی آب کا نظام نہیں دے سکے۔ تمام وزیر مشیر انہی کی جماعت کے ہیں۔ صوبہ پر مکمل کنٹرول ہے اس نکاسی آب کے نظام کے لئے پورے صوبے میں توڑ پھوڑ ہو گئی، ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے لیکن حالت آج بھی بدتر ہے، پینے کا پانی آتا نہیں اور گٹر کا پانی جاتا نہیں۔ حکومتی وزیر دلیلیں دے رہے ہیں کہ بارش 300 ملی میٹر ہو گئی اس لئے سسٹم بیٹھ گیا۔ اگر یہ بارشیں 150 ملی میٹر ہوتی تو کیا کراچی کا موجودہ ڈھانچہ اس کو برداشت کر سکتا تھا تو اس کا جواب نفی میں ہے۔

ایک دلیل اور دی جاتی ہے کہ ہمارے پاس تو کراچی کا 25 فیصد ہے باقی تو سب کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈی ایچ اے میں آتا ہے توہم کام کیسے کریں؟ پہلی بات سندھ کے دوسرے شہروں میں بھی یہ علاقے ہوں گے، دوسری بات ان علاقوں کے بنگلے کروڑوں روپے کے ہیں جس میں صرف اپر کلاس رہتی ہے اور اس اپر کلاس میں ہمارے منسٹرز بھی آتے ہیں تو پھر یہ انتظامی بحران کیوں ہے؟

اور اس میں دن بدن اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اصل میں شہر کو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور زیادہ سے زیادہ اداروں کے حوالے کر دیا ہے تاکہ کوئی ادارہ کام ہی نہ کرسکے۔ اب یہاں سے انتظامی بدعنوانی شروع ہوتی ہے، مقصد تھوڑا بہت پیسہ خرچ کیا جائے اور باقی کی رقم واپس گھوم پھر کر حکومت کے پاس ہی آئے گی۔ یہ ہے ذہانت اور اس کو کہتے ہیں عقلی بدعنوانی۔ یعنی آپ اپنی ذہانت اپنا اثر و رسوخ، اختیارات عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے استعمال کریں۔ افسوس کے ساتھ اس عقلی بدعنوان میں ہمارا پڑھا لکھا دانشور طبقہ ملوث ہے جو کہتا ہے ہم اپنے دماغ اور ذہانت سے کماتے ہیں۔ ہماری ذہانت اور صلاحیتوں نے ہمیں یہ مقام دیا ہے۔ کاش کے یہ اہل دانش شبیر ناقد کی طرح کہتے کہ:
؂ میں بھی روشن دماغ رکھتا ہوں چاند جیسا چراغ رکھتا ہوں

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments