گھر سے بھاگ کر شادی: ایک وجہ یہ بھی ہے

تحریر۔واجد علی گوہر 

انسان کو اس کائنات میں اشرف المخلوقات جو کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ اس کے اندر عقل جیسی صفت کا ہونا ہے، جس کی بدولت وہ واقعات اور تجربات کا مطالعہ کر کے اپنے مستقبل کی صف بندی کر سکتا ہے۔ وہ ان واقعات کو محض تقدیر اور قسمت کا کھیل سمجھنے کی بجائے، ان میں علت اور معلول کے مابین واسطے کو معلوم کرتا ہے، اور پھر ایسے اقدامات کی جانب قدم اٹھاتا ہے، جن کی بدولت وہ خطرات اور حوادث سے محفوظ رہتا ہے۔ تاہم اگر کوئی انسان عقل کی قوت کو استعمال کرنے کی بجائے، روایتی ہجوم کے ساتھ چلنے کو ہی ترجیح دے تو پھر اس کی تباہی کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کا گھر سے بھاگ کر مرضی کی شادی کرنا معیوب عمل سمجھا جاتا ہے، اور اہل خانہ بشمول مرد و خواتین اسے باعث بے عزتی سمجھتے ہیں، بلکہ نوبت بعض مرتبہ قتل تک بھی پہنچ جاتی ہے، اور یوں دو ہنستے مسکراتے انسان نئی زندگی کے آغاز سے قبل ہی اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ مگر ایک عورت یہ قدم کیوں اٹھاتی ہے اس کے کئی عوامل ہیں، جن کی نشاندہی ہمارے یہاں کی جا چکی ہے مگر ایک پہلو ہنوز تشنہ طلب ہے جس پہ ابھی تک کم توجہ دی گئی ہے اور وہ ہے آبادی میں اضافہ، چنانچہ ایسے گھرانے جہاں غربت کے ساتھ ساتھ کثرت اولاد والا معاملہ بھی موجود ہو، وہاں بعض مرتبہ کئی خواتین اپنے مستقبل کو مخدوش پاکر یہ قدم اٹھالیا کرتی ہیں۔

راقم کے مشاہدے میں ایک ایسا ہی واقعہ آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے گھر سے بھاگ کر شادی کر کے گھر والوں کی مخالفت مول لی۔ اس خاتون کے مطابق وہ ایک ایسے غریب گھر سے تعلق رکھتی ہے، جہاں اس کی تین ہمشیرگان غربت کے سبب شادی کے بندھن میں نہ بندھ سکیں۔ اور ان کی جوانی اسی کنوارے پن میں ہی ڈھل گئی۔ ان حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد ، اس کو اپنا مستقبل بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتا نظر آیا۔ چنانچہ زندگی کو خوشی سے گزارنے، اور گھر میں جوانی کی خواہشات کو ڈھالنے کی بجائے اس خاتون نے گھر سے بھاگنے کو ترجیح دی۔

اس واقعے کو سن کر ایک انسان کا دل لامحالہ اس چیز کی جانب گامزن ہوتا ہے، کہ اگر ہمارے وسائل کم ہوں، مگر اس کے باوجود ہر سال نیا بچہ پیدا کیے جائیں تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ چنانچہ ایسے گھرانے جہاں کنواری بیٹیاں پہلے سے موجود ہونے کے باوجود، مزید اولاد کے حصول کے لئے کوششیں جاری ہوں، وہاں ان بچیوں کا مستقبل کیسا ہو گا یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت ہنوز بنیادی حقائق سے بے فکر، غربت کے باوجود آبادی میں اضافے کو کوئی مسئلہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔

اس پہ مستزاد خود ساختہ قسم کے وہ مذہبی نظریات، جو سینہ بسینہ روایت ہوتے چلے آرہے ہیں، جس میں ضبط تولید کا تصور ہی حرام ہے، اور ہر وہ عمل جو مانع حمل ہو اس کو خدا کی ناراضگی اور جہنم کے عذاب سے نتھی کر دیا گیا ہے۔ لہذا ہمارا نوجوان شادی شدہ جوڑا، غربت، بیروزگاری اور وسائل کی قلت کے باوجود نہ چاہتے ہوئے بھی اولاد کی پیدائش کا سلسلہ بند نہیں کر پاتا۔ اور اس کا مجموعی نتیجہ بھی آج ہمارے سامنے ہے، کہ وسائل کی قلت اور مسائل کے بہتات نے آج حالات اس نہج پر پہنچا دیے ہیں، جس میں ایک خاتون کے لئے دلہن بننے کا خواب تک ممکن نہیں رہا۔

اور وہ ایسے دو راہے پر آجاتی ہے، جہاں ایک طرف تمام عمر خواہشات کا گلا گھونٹنا کر صبر کرنا ہے، اور دوسری طرف گھر سے بغاوت کر کے اپنی مراد کا حصول ہے۔ تاہم ہمارے یہاں اگر عقل سے کام لینے اور ہر کام میں منصوبہ بندی کا رواج ہوتا، تو ایسے بہت سارے مسائل کا وجود تک نہ ہوتا۔ وہ تمام معاشرے اور ممالک جنہوں نے اپنے وسائل کے مطابق، آبادی کو کنٹرول کیا وہاں شرح خواندگی، اوسط عمر اور دیگر حقائق بھی دیکھ لیجیے اور پھر اس کا موازنہ اپنے معاشرے سے بھی کر لیجیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

کیونکہ یہ نظام کائنات یونہی بے ہنگم نہیں بلکہ ایک خاص طریقے سے چل رہا ہے، جس میں بقا صرف اسی کی ہے جو اپنے دستیاب وسائل کو عقل سے استعمال کر کے اپنی آئندہ نسلوں کے لئے ایک بہتر چیز کر کے جاتا ہے۔ اگر ایک انسان کے پاس پہلے ہی وسائل کی قلت ہو، خوراک کی کمی ہو، ذرائع آمدن محدود ہوں مگر اس کے باوجود بھی وہ ان سے صرف نظر کرتے ہوئے، بچوں پہ بچے پیدا کرتا چلا جائے، جن کو بعد میں وہ مناسب خوراک اور تعلیم تک دینے سے قاصر ہو، تو ذرا سوچیے کیا اس سے بڑا کوئی اور ظلم ہو سکتا ہے؟

کل یہ بچے اور بچیاں جب بڑے ہو کر سن بلوغت کو پہنچیں گے، تو کیا ان کے اندر احساس محرومی پیدا نہیں ہو گا۔ اور پھر جب احساس محرومی کے شکار یہ بچے کل کو کوئی بھی جرم کریں گے تو اس کا دوش صرف ان بچوں پر ہی نہیں ہو گا بلکہ ان کے والدین خصوصاً والد بھی برابر مجرم گردانا جائے گا، جس نے بچوں کو پیدا کرتے وقت اپنے وسائل کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا، جس کا نتیجہ بعد میں جاکر برائی اور جرم پر منتج ہوا۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ دنیا کچھ فطری قوانین کے ماتحت چل رہی ہے، جن میں ایک توازن ہے۔

تاہم ایسا کوئی قدم جو اس توازن میں بگاڑ پیدا کرے، اس کا نتیجہ پھر تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور مثل بھی مشہور ہے کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ، جس کا مطلب دستیاب وسائل کے مطابق کنبے کا پھیلاؤ ہے۔ ایک انسان جو صرف ایک ہی بچہ برداشت کر سکتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ بس اسی کی اچھی طرح پرورش کر کے ایک عمدہ انسان معاشرے کے حوالے کرے جو معاشرے کے لئے تعمیری اور مفید ثابت ہو۔ مگر جب انسان اس نکتے سے انحراف کر کے کم وسائل کے باوجود زیادہ بچے پیدا کرتا ہے تو نتیجہ پھر جرائم کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments