” جبر اور خوف کے سائے “

یہ آج سے تقریباً سو سال قبل کی کہانی ہے
جب 1917 میں روس کے بادشاہ جسے زار روس کہا جاتا تھا کو ایک انقلاب کے ذریعے اقتدار سے بیدخل کردیا گیا
بالوشویک انقلاب نے لینن کی قیادت میں پانچ سال بعد یعنی 1922 میں سویت یونین یا سویت اتحاد کے نام سے دنیا کے سب سے بڑی ریاست کی بنیاد رکھ دی جس کا نعرہ کارل مارکس کے اصول معیشت پر دنیا سے غربت اور افلاس کا خاتمہ تھا،
آہستہ آہستہ اس میں مزید ممالک شامل ہوتے گئے،
1945 تک جن کی تعداد 15 تک پہنچ گئی،
افغانستان سے لیکر ہنگری اور پولینڈ تک 22 کروڑ بائیس لاکھ مربع کلومیٹر کے اس وسیع سلطنت کے پاس دنیا کا چھٹا حصہّ تھا ،
اس میں دنیا کی سو بڑی قومیتں آباد تھیں،
بہت کم وقت میں سویت یونین سائنس ، ٹیکنالوجی ، معیشت ، تعلیم ، کھیل، رقص، فلم، ادب، اور فنون لطیفہ کے میدان میں دنیا کو پیچھے چھوڑ کر بہت آگے چلا گیا،
سائنس اور ٹیکنالوجی کی یہ حالت تھی کہ سویت یونین نے ہی خلا میں پہلا انسان اور سیٹلائٹ بھیجا۔
دفاع اتنا مضبوط کہ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کو شکست دی، اپنے زوال کے وقت سوویت یونین کے پاس ستر ہزار کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود تھے،
دنیا کا بہترین تعلیمی نظام جو امیر و غریب کے بچے کے لیے یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرتا تھا،
سویت یونین کا نظام تعلیم صرف کتابوں اور مضامین تک محدود نہیں تھا، طلبا کو اپنے تعلیم کے آخری سال میں صنعتوں ، کھیتوں، اور ہسپتالوں وغیرہ میں جاکر عملی کام کرنا ہوتا تھا،
اس سے سویت یونین نے صنعت اور زراعت کے میدان میں بیش بہا کامیابیاں حاصل کیں،
ہمارے کراچی کا اسٹیل مل اس دور کی ایک یادر گار ہے،
لیکن اس معاشی اور سماجی ترقی کے باوجود سوویت یونین کی یہ عظیم ریاست اپنے قیام کے ستر برس بعد 1991 میں دوبارہ 15 حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے،
سوال یہ ہے کہ آخر اس ٹوٹ پھوٹ اور زوال کی وجہ کیا تھی؟؟؟
جمہوریت کا فقدان ، اظہار رائے پر پابندی ، ریاستی جبر ،
خفیہ ایجنسیوں کا خوف اس شکست ؤ ریخت کی بنیادی وجوہات تھیں،
ایک پارٹی سسٹم اور خفیہ ایجنسی کے جی بی :
سویت یونین میں سویت کیمونسٹ پارٹی کا راج تھا،
سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی اس ایک پارٹی نظام کی سب سے بڑی محافظ تھی،
بظاہر کے جی بی کے تین بنیادی کام تھے،
پہلا خفیہ معلومات کا حصول
دوسرا سرحدوں کی حفاظت
تیسرا ریاستی بیانئے کے مطابق پروپیگنڈہ
کے جی بی نہ صرف ملکی سطح پر انتہائی سرگرم تھی بلکہ بین الاقوامی دنیا میں سی آئی اے کے ہمہ پلہ تھی،
اپنے ابتدائی دور میں ہی کے جی بی نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں،
اسے انقلاب کی تلوار سمجھا جاتا تھا ،
کے جی بی نے مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ اور امریکا
کے حکومتی اداروں میں بلکہ عسکری اداروں میں بھی اپنے ایجنٹ شامل کردئے،
کے جی بی نے مین ہٹن پراجیکٹ جس سے امریکا کو ایٹم بم حاصل ہوا، سے ایٹم بم کے راز چوری کر لیے تھے جو شاید کے جی بی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے،
یورپ اور امریکا میں کے جی بی کا نیٹ ورک اتنا بڑا اور اس قدر فعال تھا کہ وہ ہر جدید ٹیکنالوجی کو فوراً ہی سوویت یونین منتقل کردیتے تھے۔
سابق سویت جاسوس ایگور آٹامنینکو نے حالیہ دنوں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا کہ اسٹالن کے زمانے میں ایک خفیہ لیبارٹری قائم کی گئی تھی جس میں بیرونی دنیا کے رہنماؤں کے فضلے کا ٹیسٹ کروایا جاتا تھا،
ایگور کے مطابق ’ اگر انھیں کسی کے فضلے میں پوٹاشیم کی کمی نظر آتی تھی تو وہ اس نتیجے پر پہنچتے تھے کہ وہ انسان اعصابی مزاج کا اور بہت کم سوتا ہوگا۔‘
ایگور کا دعویٰ ہے کہ دسمبر 1949 میں سوویت یونین کے خفیہ ایجنٹوں نے اس نظام کے ذریعے چینی رہنما ماؤ زے تنگ کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں جنھوں نے اس دوران ماسکو کا دورہ کیا تھا۔
انھوں نے ماؤ کے لیے مبینہ طور پر خاص غسل خانے تیار کر رکھے تھے جن کی نالیاں نکاسی کے نظام کے بجائے خفیہ ڈبوں سے جڑی ہوئی تھیں۔
دس روز تک ماؤ کے لیے کئی دعوتیں کی گئیں اور ان کے فضلے کو تحقیق کے لیے بھیجا جاتا رہا۔
اطلاعات کے مطابق سٹالن نے فضلےکا جائزہ لینے کے بعد ماؤ کے ساتھ معاہدہ طے کرنے سے انکار کر دیا،
ملکی سطح پر کے جی بی نے کمیونسٹ پارٹی کی ہر مخالف سیاسی فکر کی قلع قمع کی،
خوف کا یہ عالم تھا کہ شوہر بیوی ، باپ بیٹے، بھائی بھائی اور دوست دوست سے دل کی بات کرتے ہوئے ڈرتا تھا،
اگر شوہر کو کے جی بی والے اٹھا کر لیجاتے تو بیوی کی نجات خاموشی میں مضمر تھی،
اپنے کسی لاپتہ پیارے کے بارے میں پتہ چلانا خود لاپتہ ہونے کے مترادف تھا،
کے جی بی کے خوفناک نیٹ ورک کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ خود کے جی بی کے سربراہ کے پیچھے دو ایجنٹ لگے ہوتے تھے،
مخالفین کو گلگ بھیجا جاتا تھا ،
جہاں غیر انسانی طریقوں سے لوگوں پر تشدد کیا جاتا تھا،
لوگوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تھیں،
سٹالن کی خفیہ پولیس نے عام شہریوں اور سٹالن کے ممکنہ سیاسی حریفوں کو ہلاک کیا جس کے نتیجے میں چھ لاکھ سے زائد لوگ قتل کر دیئے گئے۔
گولاگ کے نام سے جانے جانے والے جبری مشقتی کیمپوں میں سٹالن نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو شہر بدر کرکے قید میں ڈال دیا۔
لیکن یہ جبرو تشدد دنیا کی اس عظیم الشان سلطنت کو شکست و ریخ سے نہ بچا سکا،
روس کے موجودہ صدر پیوٹن بھی 1975 سے لیکر 1991 تک کے جی بی کے اینٹیلجنس آفسر رہے ہیں،
انسانی تاریخ سے آشنائی ہم کو بہتر مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے،
کلامِ پاک میں رب العالمین نے بار بار گزشتہ اقوام اور ان کے آنجام کا ذکر کیا ہے تاکہ ہم سبق حاصل کرسکیں،
عمر ابنِ خطاب رضی اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو سال قبل گورنر مصر حضرت عمروبن العاصؓ کے بیٹے محمد بن عمرو کو آٹھ کوڑے مارنے کے بعد کہا تھا،
“لوگوں کو تم نے کب سے اپنا غلام بنانا شروع کردیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا”
سوویت یونین اتنی ترقی کے بعد بھی جبر ؤ قوت سے قائم نہ رہ سکا،
آج آپ معاشی اور سماجی نظام کو تباہ کرکے سمجھ رہےہیں کہ الیکٹرانکس اور سوشل میڈیا پر بندشیں لگا کر اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔

Mehar

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments