ھم کیا کریں

تحریر محمد داٶد

فلڈ کی صورت حال آپ کے سامنے ھےاور ھم پر چوروں کی حکومت مسلط ھےمہگاٸں نے سر توڑ بازی لگا رکھی ھے سوشل میڈیا پر بلوچستان کے بچوں بڑوں اور عورتوں کی جانوں کی ضیإ اور سندھ کےبے سہارا لاشیں جس کو کوٸں سنبھالنے والا کوٸں نہیں اب حالات اس طرح کے بن گۓ ھیں ھر کسی کو اپنی پڑی ھے یوں سمجھ لیں ہر کوٸں اپنا الوں سیدھا کرنے پر لگے ھوۓ ھیں انسانیت نام کوٸں شے باقی نہیں اور اخلاق کی پستی دور دورا ھے ادب کا کوٸں معیار نہیں رھا اگر ایک گھر تین وقت روٹی پکتی ھے اور ایسے بے شمار گھر ھیں جس فاقے ھیں اور بچوں کو لورٕیاں دے سلانے کی کوشش کرتی ھےایک بے سہارا ماں مجھے بتاییے اگر ایسے حالات ھوں گے تو خودکشی ھو گی جب امیر اپنا ہی سوچے گا غریب کا سوچے گا نہیں تو یہی حالات خودکشی کے طرف لے جاتے ھیں اب بے سہارا ھو کے یہی کہیں گے ھم کیا کرٕیں کٕیوں کہ ھم لاچار ھیں کچھ نہیں کرسکتے کیوں جس کام میں ھمارا فاٸدہ ھوگا اور دوسراجاۓ بھاڑمیں جب تک ھماری سوچ یہی رہی گی تو ھمارا ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا اس لیے ھم یہی کہیں گےلاچارگی میں ھم کیا کریں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments