کوٹلی مقبرے کی پُراسراریت

تحریر۔ذیشان یعقوب

کوٹلی مقبرہ گوجرانوالہ سے 60 کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے۔ یہ اپنے نام کی طرح ہی ایک پراسرار جگہ معلوم ہوتی تھی۔ مقبرے کی نسبت سے اس گاؤں کا نام بھی کوٹلی مقبرہ ہے، جو تقریباً 200 گھروں پر مشتمل ہے۔

مقبرے کی طرف جاتے ہوئے ہمارا استقبال پکی اینٹوں کی سڑک نے کیا۔ تھوڑی دور جانے پر یہ پکی سڑک بھربھری مٹی میں بدل گئی۔ یہ راستہ کچھ فاصلے پر ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد آپ کے دائیں طرف ایک خودساختہ راستہ مقبرے کی طرف جاتا ہے۔

مقبرہ مٹی کے ایک اونچے ٹیلے پر بنایا گیا ہے، جس کے اطراف میں اب قبرستان ہے۔ اس جگہ پر کھڑے ہوکر مرکزی دروازے کا تعین کرنا مشکل ہے۔ مقبرے کے چار دروازے ہیں اور اس مقبرے کو چاروں اطراف سے ایک جیسا بنایا گیا ہے۔ سب سے پہلے میں مقبرے کے مغربی دروازے پر پہنچا، جو اپنی اکھڑی ہوئی اینٹوں سے اپنی بربادی کی داستان سنا رہا تھا۔ باریک سرخ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا مقبرہ گرد جم جانے کی وجہ سے زرد پڑچکا ہے۔

اس مقبرے میں مغلیہ طرزِتعمیر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ بڑے دروازے کے عین نیچے ایک سوراخ نظر آیا۔ اس سوراخ میں سے ایک قبر نظر آرہی تھی جس پر سبز رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی۔

مقبرہ باہر سے دیکھنے میں چھوٹا لگ رہا تھا، جب میں اس کے اندر داخل ہوا تو اس کے پھیلاؤ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مقبرے کے عین وسط میں گنبد پر سے اب سیمنٹ کی پرت اُتر چکی ہے اور باریک سرخ اینٹیں گنبد کی بناوٹ کے اسلوب کو بیان کر رہی تھیں۔ اس جگہ کا درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں کم تھا اور ہوا سے کپڑے لہرا رہے تھے۔ دیواروں پر مختلف نام کندہ تھے تو کہیں پر صرف دو حرف انگریزی رسم الخط میں لکھے ہوئے تھے۔ مرکزی دروازے سے باہر نکلتے ہوئے جب اس کی چوگاٹھ پر نظر پڑی ایک جگہ باقی ماندہ مقبرے کی طرزتعمیر سے مختلف تھی۔ غور کرنے پر محسوس ہوا کہ اس حصے کو بعد میں تعمیر کیا گیا ہے۔

جنوبی دروازہ مقبرے کا مرکزی دروازہ بھی ہے۔ دروازے کے دونوں اطراف سے سیڑھیاں اوپر کی طرف جاتی ہیں، جو بہت زیادہ تنگ ہیں۔ سیڑھیوں کے قدمچے اگرچہ بڑے ہیں مگر بھارے جثے والا شخص مقبرے کی چھت پر نہیں جاسکتا۔ میں سیڑھیوں کو دیکھتے ہوئے اوپر چڑھ گیا۔ اوپر آتے ہی میں ایسے مقام پر تھا جہاں سے آپ گنبد کو چھو سکتے ہیں۔ گنبد کی ایک ایک اینٹ اپنی آپ بیتی سناتی محسوس ہورہی تھی۔ کسی اینٹ کے سینے پر کسی محبوب کا نام کندہ ہے تو کسی پر دل میں سے تِیر نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ کہیں پر عجیب و غریب شعر تو کسی سوراخ سے پیپل کے درخت گنبد کا سینہ چیِر کر باہر نکلے ہوئے ہیں، ان کی شاخوں نے گنبد کے سینے کو اس طرح چاک کیا ہوا ہے کہ اب اس کو مرمت کرنے کےلیے بھی ایک کثیر رقم اور ماہر لوگ درکار ہیں۔

چھت پر گنبد کے ساتھ ساتھ صرف اتنی جگہ ہے کہ گنبد کے گرد چکر لگایا جاسکتا ہے۔ چاروں کونوں پر مینار بنے ہوئے ہیں۔ ان میں بھی باریک بل کھاتی سیڑھیاں ہیں جو مینار کے اوپر لے جاتی ہیں۔ اوپر آکر علم ہوا کہ شمال مشرق کی جانب والا مینار ٹوٹا ہوا ہے اور اس خوبصورتی سے ٹوٹا ہے کہ ایک طرف سے دیکھنے پر یہ مینار بالکل صحیح لگتا ہے جبکہ اس کی مخالف سمت سے یہ ٹوٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہ اس خوبصورتی سے ٹوٹا ہے جیسے کسی نے بڑی آری سے آدھا کاٹ دیا ہو۔ مقامی لوگوں سے پتہ چلا کہ ایک طوفانی رات آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے یہ مینار ٹوٹا تھا۔ چاروں مینار ایک ہی طرز پر بنائے گئے ہیں، مگر اس مینار کی بات ہی الگ ہے۔

گنبد کو نیلے اور سفید رنگ کے باریک ٹائلز سے سجایا گیا ہے، جو زگ زیگ بناتے ہوئے گنبد کے اوپر لگے ہوئے ہیں۔ مقبرے کے نیچے قبروں کی طرف جانے والا راستہ سرنگ نما ہے، جو جنوبی دروازے کے عین نیچے تھوڑا ہٹ کر ہے۔ سرنگ کے اختتام پر ایک دروازہ نما جگہ ہے جس کے آگے ایک صف بچھی ہوئی تھی جو مقبرے کی حالت کی طرح بوسیدہ تھی۔ اس کے سامنے تین قبریں موجود ہیں۔ مرکزی قبر کے کتبے پر ایک تحریر کچھ اس طرح تھی کہ (زوبدۃ العارفین، سند الواثلین، قاضی القضاہ، صدر الصدور اکبر بادشاہ مغلیہ دور حضرت علامہ مولانا شیخ عبدالنبی)

اس قبر سے مغرب کی جانب ان کا بیٹا مدفون ہے اور مشرق کی جانب ان کا شاگرد خاص آرام فرما ہے۔ یہ معلومات مجھے قبر کے پیچھے پڑی ہوئی ایک تختی سے ملیں جو کسی زمانے میں سرنگ کے دہانے پر لگی ہوئی تھی، اب یہ ٹوٹ چکی ہے جس کو مقامی لوگوں نے قبروں کی پشت پر رکھ دیا ہے۔ قبروں کے سرہانے پر چراغوں کو دیکھ کر یہ محسوس ہورہا تھا کہ یہاں لوگ آتے ہیں اور دعا وغیرہ کرتے ہیں۔ مقبرے کے اوپر جو چھت تھی وہ بھی گنبد نما تھی اور باریک اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھی۔

آج کے دور میں بھی یہ مقبرہ جی ٹی روڈ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ مغلیہ دور میں ایمن آباد حکومتی لحاظ سے ایک اہم جگہ تھی، مگر یہ مقبرہ اس جگہ سے بھی بہت دور ہے اور اس زمانے میں یہ سفر دنوں پر محیط تھا۔ اس مقبرے کی تعمیر ایک ایسی گتھی ہے جس کو آج تک تاریخ دان سلجھا نہیں پائے۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس مقبرے کو دہلی حکومت سے اتنی دور تعمیر کرنے کی وجہ کیا تھی۔

صاحب مقبرہ کے نام پر نئی دہلی میں ایک مسجد قائم ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ عبدالنبی وہی ہیں جن سے بادشاہ کے بچے دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ بادشاہ ان سے زندگی کے آخری ایام میں خفا ہوگئے تھے اور ان کو تاعمر قید کرنے کا حکم سنایا تھا اور ان کی وفات کے بعد دہلی سے دور کہیں ویرانے میں دفن کرنے کو کہا تھا۔ کچھ تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی وصیت تھی کہ جس جگہ میری موت واقع ہو اسی جگہ ان کی تدفین کی جائے۔ اس بات کی حقیقت دو مزید قبروں پر آکر دم توڑ دیتی ہے کہ ان کو یہاں کیوں دفن کیا گیا اور ایسا بھی ممکن نہیں کہ ان کی موت بھی ایک ساتھ ہوئی ہو۔ قیاس آرائیاں موجود ہیں جن کو آج تک کوئی حتمی شکل نہیں دے سکا البتہ آج بھی یہ مقبرہ اپنے اندر تمام تر راز لیے موسم اور زمانے کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے سینے میں موجود رازوں کو کھوجنے کی دعوت دے رہا ہے۔

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments