آخر مردوں کی رخصتی میں رکاوٹ کیا ہے؟

تحریر۔عمران ایاز، سرگودھا

اگر کوئی مجھ سے اس سوال کا یک لفظی جواب مانگے تو میں بلا جھجک کہہ دوں گا ’طاقت‘

ہماری والدہ اکثر اپنی ایک دوست کی فیملی کا ذکر کرتی ہیں جن کا ایک بیٹا ہے اور تین یا چار بیٹیاں ہیں۔ ان کی بہو جب زیادہ جھگڑا کرتی ہے تو ضعیف میاں بیوی کسی بیٹی کی طرف چلے جاتے ہیں اور کچھ وقت گزار آتے ہیں۔ پھر بے عزتی کے خوف کی وجہ سے بیٹا جا کر انہیں لے آتا ہے۔ اور سائیکل دوبارہ سے شروع ہو جاتا ہے۔ یہ باتیں سن کر میں نے سنجیدگی کے ساتھ مندرجہ بالا موضوع پہ سوچنا شروع کیا تھا۔

انسانی سماج نے صدیوں سے مردوزن کے بیچ شادیوں کا رواج چلا رکھا ہے۔ اس رواج کے تحت عموماً لڑکی رخصت ہو کر شوہر کے گھر لائی جاتی ہے۔ اس گھر کو اس کا سسرال کہتے ہیں۔ یہ رواج لگ بھگ دنیا کے تمام ہی معاشروں میں رائج ہے اور اس کے نقصانات بھی تقریباً تمام ہی معاشرے بھگت رہے ہیں مگر اس غیر تہذیبی رواج کو تبدیل کرنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کرتا۔ اگر کہیں اس طرح کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اس کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

دراصل ہمیشہ سے ہی انسانی سماج جنگل کے قانون کے تابع رہے ہیں اور آج بھی اسی قانون کے تابع ہیں۔ وہ قانون ہے طاقت کا قانون۔ مشینوں سے آگے کسی قسم کی کوئی تہذیب ہم نے نہیں سیکھی (افراد کے استثنا کے ساتھ) ۔ میری نظر میں مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں معاشرے کا ڈھانچہ فطرتاً کمزور فرد یا کمزور گروہ کی حمایت کرے۔ لیکن انسانی معاشرے دو چیزوں کی حمایت کرتے ہیں ایک ہے طاقت اور دوسری ہے ناک۔ (وہ والی ناک جس کو ہم ہمیشہ ہی اونچا کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں )

چوں کہ مردوں کے معاشرے میں مرد ہی طاقت کی علامت ہوتے ہیں لہذا مرد وارث ہونا، مرد کو ساتھ رکھنا عزت اور فخر کے ساتھ ساتھ تحفظ کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب عورت چوں کہ ملکیت سمجھی جاتی ہے اس لیے ہمیشہ سے اسی کا ادل بدل ہوتا ہے۔

یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ لوگ اولاد کی خواہش کرتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے گی۔ مگر عملاً بیٹوں کو بیاہ کر بہوئیں گھر لاتے ہیں اور ان بہوؤں کے ہاتھ سے پانی کے گلاس کے لیے ترستے ہیں جنہیں ان سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی۔

لڑکی ایک تو ویسے ہی جسمانی وجوہات کی بنا پہ محدود زندگی گزارنے پہ مجبور ہوتی ہے اوپر سے اسے رخصتی کے عمل سے گزار کر مزید کمزور کیا جاتا ہے۔ اس کمزوری کے نتیجے میں مزید جسمانی اور نفسیاتی عوارض اسے گھیر لیتے ہیں اور آخر پہ گھروں میں عدم استحکام، گھروں کا ٹوٹنا اور لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں جس سے اگلی نسل بھی متاثر ہوتی ہے۔

اگر مردوں کی رخصتی کر کے گھر داماد (اس اصطلاح کے ساتھ جڑی ہوئی توہین پہ توجہ دیجیے ) کے عمل کو رواج دیا جائے تو اس کے بہت سے فوائد ہوں گے۔

سب سے پہلا اور بڑا فائدہ والدین کو ہو گا جن کو خدمت کے لیے بیٹی میسر ہو گی۔ جو جذباتی لگاؤ کی وجہ سے کسی صورت میں والدین کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ فی الحال تو ہم نے جتنے گھرانے دیکھے ہیں ان میں درج ذیل ماڈل ہی عام ہیں۔

پہلا ماڈل یہ ہے کہ والدین کمزور ہیں بہو کے رحم و کرم پہ ہیں اور ہر بہو یہ چاہتی ہے کہ بزرگ چند دن دوسرے بھائی کی طرف چلے جائیں۔

دوسرا ماڈل یہ ہے کہ بہوئیں خدمت تو کرتی ہیں مگر جذباتی لگاؤ نہ ہو نے، اور بچوں کی مصروفیات ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر جاتی ہیں مگر والدین کچھ نہیں بول سکتے۔

تیسرا ماڈل یہ ہے کہ والدین کو روٹی تو ملتی ہے مگر بہت بد اخلاقی کے ساتھ۔

چوتھا ماڈل اولڈ ہوم ہے۔ جو کچھ جدید معاشروں میں تو اپنا لیا گیا ہے مگر پاکستان میں ابھی تک اسے ناک کٹ جانے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے والدین رہتے تو گھر ہی ہیں مگر بد ترین حالات میں۔

ان تمام ماڈلز میں بیٹے کبھی تو بیویوں کو مارتے ہیں، کبھی جھگڑا کرتے ہیں، کبھی چپ ہو جاتے ہیں، کبھی بیویوں کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کبھی لا علم رہتے ہیں جب کہ والدین کبھی تو اس لیے چپ رہتے ہیں کہ شکایت لگائی تو روٹی تو پھر بھی اسی نے دینی ہے۔ اور کبھی اس لیے چپ رہتے ہیں کہ بیٹے اور بہو کا جھگڑا نہ ہو اور ان کا ذہنی سکون برباد نہ ہو جب کہ وہ خود (والدین) تو مرنے ہی والے ہیں۔

تو قارئین، عرض یہ ہے کہ اگر بیٹی والدین کے ساتھ ہو تو یہ تمام مسائل ختم ہو جائیں گے اور داماد اپنے روزگار پہ جا سکے گا۔ ایمرجنسی میں ساس سسر کے علاوہ اپنے والدین کو بھی کہیں لانے لے جانے میں مدد دے سکے گا۔

دوسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ساس بہو کا صدیوں پرانا روایتی مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

ہر دم بیٹوں کی خواہش اور دعا کی تسبیحات پڑھنے والے والدین کے خلاف یہ شکایت عام ہے کہ شادیوں کے بعد بیٹیوں اور بیٹیوں کی اولادوں پہ واری جاتے ہیں جب کہ بہو اور اپنے پوتے پوتیاں کم ہی محبت حاصل کر پاتے ہیں۔ بیٹوں کی رخصتی کے بعد یہ شکایت کم ہو سکتی ہے۔ (البتہ الٹ ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ )

اس عمل کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پہ کچھ مردوں کو بھی سسرال کی جانب سے برے رویے کی شکایت ہو گی مگر مضبوط پوزیشن کی وجہ سے وہ اپنا تحفظ ایک خاتون کی نسبت کہیں بہتر طور پہ کر سکیں گے۔

مختلف مالی طبقات ان معاملات پہ مختلف ترجیحات رکھتے ہیں مگر مڈل کلاس، جو کہ تعداد میں دوسری کلاسوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے، کو مندرجہ بالا مسائل میں سے کچھ کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے مسائل کے پائیدار حل کی طرف جاتے ہی نہیں اور صدی در صدی طاقت ہی کی علامات کی پوجا میں لگے رہتے ہیں۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ آؤٹ آف باکس تجاویز کو ان کا تمسخر اڑا کر پھینک دیا جاتا ہے۔

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments