آج میرے پاس دولت ہے مگر ابو نہیں ہیں ۔۔ والد کو یاد کرتے ہوئے کپل شرما رو گئے تھے تو عمر شریف نے کیسے سنبھالا؟ دلچسپ معلومات

ایسے کئی مشہور شخصیات ہیں جو اپنے دلچسپ انداز کی بدولت سب میں شہرت پا لیتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی دردناک کہانی موجود ہے۔

اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی ستارے کپل شرما کے بارے میں بتائیں گے۔

چٹکلے اور مزاحیہ انداز سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والا ستارہ آج کپل شرما شو کے نام سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کی آنکھوں میں سپنے تھے مگر جیب میں پیسے تک نہیں تھے۔

شروعات کیرئیر میں جب وہ پاکستان اور بھارت کے مشترکہ کامیڈی شو میں شرکت کر رہے تھے اور انعام کے حقدار بنے تو نووجوت سنگھ سدھو اور پاکستانی کامیڈی کے بادشاہ مرحوم عمر شریف نے انہیں انعام سے نوازا تھا، اس موقع پر کپل اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے رو دیے تھے، جس پر عمر شریف نے کہا کہ ہم نے بھی جب کامیابی حاصل کی تو ہمارے والد ہمارے ساتھ نہیں تھے مگر وہ ہمیں دیکھ رہے تھے۔

کیرئیر کے شروعات میں عمر شریف نے کپل شرما سے کہا تھا کہ بہت آگے جاؤ گے اور بہت ترقی کرو گے، یہ میرا یقین ہے، کیونکہ تمہارے اندر بہت سی صلاحیتیں ہیں۔

والد کے انتقال کے بعد کپل شرما نے والدہ کو اکیلے نہیں چھوڑا اور ان کا ساتھ ہمشیہ تک دینے کا وعدہ کیا، یہی وجہ ہے کہ آج ان کے کامیڈی پروگرام میں ان کی والدہ بھی موجود ہوتی ہیں۔

قسمت کی دیوی کے مہربان ہونے سے پہلے کپل پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ یتیم تھے اور گھر کا چولہا جلانے کے لیے پی سی او اور کپڑے کی دکان تک پر کام کیا، اور جو پیسے ملتے، ان سے والدہ کے چہرے پر خوشی بکھیرنے کی کوشش کرتے۔

اگرچہ والد پولیس انسپکٹر تھے مگر بھی ان کے حس مزاح کی وجہ سے سب ان کی تعریف کرتے تھے یہی عادت والد سے بیٹے میں بھی منتق ہو گئی اور اس طرح کپل والد کے نقش قدم پر چل دیے۔

جب کپل دسویں جماعت میں تھے تو والد کو تیسرے درجے کا کینسر ہوا تھا، جس کی وجہ سے کپل کے اوپر ہی ذمہ داری آ گئی مگر وہ بھی کیا کرتے کیونک وہ خود ایک طالب علم تھے اور کمائی بھی کرتے تھے غربت کی وجہ سے کپل کو کینسر میں مبتلا والد کو اسپتال کے دروازے کے پاس رکھنا پڑا اور ڈاکٹر علاج کرتے کیونکہ کپل کے پاس کمرے تک کے پیسے نہیں تھے۔

اگرچہ جیسے تیسے کر کے حالات چل رہے تھے لیکن جس دور میں کپل گریجویشن کر رہے تھے تب ہی والد کی موت واقع ہو گئی اور اس طرح والد کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا، آخری رسومات ادا کرنے تک کے پیسے نہیں تھے اور کپل نے دوست سے پیسے ادھار لے کر والد کی آخری رسومات ادا کیں۔

کپل اگرچہ کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ گئے ہیں لیکن اس بات پر ہمیشہ افسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کاش والد تھوڑا اور جی لیتے تو ان کا بہتر علاج کرا سکتا۔ لیکن آج بھی اپنی کامیابی میں والدین کو نہیں بھولتے ہیں۔

News Source

Today I have wealth but no father. Kapil Sharma cried while remembering his father, so how did Umar Sharif handle it? Interesting information

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments