روڈ بلاکنگ، بے نیاز نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور مجبور عوام

تحریر۔جمیل عباسی

نیشنل ہائے وے پر کنڈیارو کے قریب شاہ جمال پیٹرول پمپ کے آگے روڈ پر کھڈے پڑ گئے ہیں۔ اس لئے گاڑیوں بالخصوص سامان سے لدے ہوئے ٹرالرز کا گزرنا مشکل ہے اور وہاں سے لوڈ سمیت گزرتے ہوئے ٹرالر گر جاتے ہیں۔ اسی حصے کے قریب روڈ کا کچھ حصہ پانی میں آ گیا ہے۔ یہ دونوں وجوہات مل کر نیشنل ہائے وے کی بلاکنگ کا سبب بنے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتے سے نیشنل ہائے جیسے کہ بلاک ہے۔ اور اس صورتحال میں نیشنل ہائے وے اتھارٹی صرف ایک میسیج جاری کرتی ہے، کنڈیارو کے قریب نیشنل ہائے وے بلاک ہے۔ سفر سے گریز کریں۔

کوئی نیشنل ہائے وے اتھارٹی سے سوال کر سکتا ہے کہ روڈ کھولنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ سفر کرنے والے لوگ ایک ہفتے سے بے یارو مددگار پڑے اپنی مدد آپ کے تحت اس حصے کو یہاں وہاں کراس کرنے کی کوشش میں کئی گھنٹے پھنسے ہوتے ہیں۔ بلکہ بڑی گاڑیاں دنوں تک ایک جگہ جمی ہوتی ہیں۔ یوں ہزاروں لیٹر ڈیزل اور پیٹرول ضائع کر کے قومی نقصان کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس حصے کو کرش، بجری اور پتھروں سے پاٹ کر عارضی طور گزرنے کا بندوبست کیا جا سکتا ہے اور یہ کام چند ڈمپرز اور ایک کرین کی مدد سے ممکن ہے۔

مگر کرے کون؟ نیشنل ہائے وی اتھارٹی ایک میسیج بھیج کر اپنی آفس میں سکون سے ہے اور وہاں سے گزرنا عوام کی اپنی ذمہ داری قرار دے دی ہے۔ اگر نیشنل ہائے وے اتھارٹی کے لئے یہ راستہ ٹھیک کروانا غیر اہم ہے تو سندھ حکومت ایمرجنسی کے طور پر ضلع نوشہرو فیروز کے ڈپٹی کمشنر کی یہ ذمہ داری لگا سکتی ہے کہ وہ بھراؤ کروا کر یہ راستہ بحال کرے۔ رات ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ کچھ رکشاؤں (چنگ چیز) کو دیکھا جن پر خاندان کے خاندان اپنی چند پیٹیوں اور چارپائیوں کو مال و متاع کی صورت میں سنبھالے بیٹھے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے چھ گھنٹے میں انہوں نے چار یا پانچ کلومیٹر طے کیے ہیں۔ انہیں ابھی یہ شاہ جمال کا حصہ طے کرنا تھا۔ سات خواتین کو دیکھا جنہوں نے دس دس کلو آٹے کی امداد سر پر رکھی ہوئی تھی اور وہ دس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چلتی آئیں تھیں۔ میرے لئے یہ خیال کرنا محال ہے کہ میں سر پر امداد کا سامان اٹھائے ہوئے دس کلومیٹر کا پیدل فاصلہ کر پاؤں۔ آپ خود اپنے بارے میں فیصلہ لیں۔

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments