آپ ضرورت مندوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

تحریر۔ابو افنان احمد

بہت سارے حضرات ایسے ہوتے ہیں جو کسی قدرتی آفت کے وقت متاثرین یا عام حالات میں غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ ہم کیسے مدد کریں۔ اسی طرح بعض حضرات کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید صدقہ یا کسی کی مدد کا تعلق فقط مال ہی سے ہو سکتا ہے اور چونکہ ان کے پاس مال نہیں ہوتا اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ کسی آفت کے متاثرین یا غریبوں کی مدد کرنا ایک مشکل کام ہے جسے صرف بڑی رفاہی تنظیمیں ہی کر سکتی ہیں۔

اگر آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں تو دنیا میں ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے رائج چند طریقوں کو سمجھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ بھی کسی نا کسی طریقے پر عمل کر کے سیلاب کے متاثرین یا دیگر ضرورت مندوں تک پہنچ سکتے ہیں، بلکہ بعض طریقے تو ایسے ہیں کہ جن پر عمل کر کے آپ اپنا گھر چھوڑے بغیر بھی ان تک پہنچ سکتے۔ ذیل میں چند طریقے پیش خدمت ہیں۔

عطیہ۔ یہ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا سب سے آسان اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ رائج طریقہ ہے۔ عطیہ کے طور پر آپ رقم، خوراک، کپڑے، کھلونے، پرانا فرنیچر اور کتابیں وغیرہ ایسے مستند اور منظور شدہ خیراتی اداروں یا رفاہی تنظیموں کے حوالے کر سکتے ہیں جن پر اس حوالے سے مستند علماء کرام کا بھرپور اعتماد ہو۔ اگر آپ ان کے پاس جا نہیں سکتے تو فون، ایمیل واٹس ایپ یا ان کے نمائندوں کے ذریعے بھی ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آج کل بہت سارے ممالک میں خیراتی اداروں نے اپنی اپنی ایپلی کیشنز تیار کی ہوئی ہیں، جنہیں اپنے سمارٹ فون پر ڈاؤنلوڈ کر کے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جگہ جگہ ان کے چیرٹی بکس رقم کے لیے الگ اور استعمال شدہ سامان کے لیے الگ رکھے ہوتے ہیں ان کے ذریعہ بھی اپنی مدد ضرورت مندوں تک پہنچائی جا سکتی ہے، لیکن ایسا عموماً زیادہ پرامن ممالک میں ہوتا ہے۔

ماہانہ آمدنی کا ایک حصہ غریبوں کی مدد کے لیے مختص کرنا۔ آپ فل ٹائم کام کرتے ہیں یا پارٹ ٹائم، یا آپ ابھی بھی سٹوڈنٹ ہیں اور اپنے والدین سے پیسے لیتے ہیں؟ آپ جو بھی ہے لیکن کہیں نہ کہیں سے تو آپ کو پیسے ملتے ہوں گے۔ لہذا آپ اس میں سے تھوڑی سی رقم مختص کر کے جمع کرتے رہیں اور پھر اسے اپنے علاقے میں کسی خیراتی ادارے کو عطیہ کریں۔ اگر آپ کے دیے گئے پیسے ان تک پہنچ گئے تو سمجھ لیجیے کہ آپ کسی غریب کی مدد کرنے، کسی یتیم کی کفالت کرنے اور یا کسی مریض کی دوا بننے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

فرض زکوٰۃ کی ادائیگی مال کی تطہیر اور اس میں ترقی کا باعث ہے۔ یہ دین کا رکن اور ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے جس کے ذریعہ بہت سے غریبوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: (ان کو بتا دو کہ اللہ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے امیروں سے لیا جائے گا اور ان کے غریبوں کو دیا جائے گا۔ زکٰوۃ کی ادائیگی بذات خود بھی ہو سکتی ہے اور کسی مستند خیراتی ادارے کے ذریعہ بھی۔ اہم یہ ہے کہ زکٰوۃ مستحق تک پہنچ جائے۔ کسی قدرتی آفت کے وقت زکٰوۃ کی ادائیگی وقت سے پہلے بھی شرعا کی جا سکتی ہے۔

اگر آپ صاحب استطاعت نہیں ہیں تو کوئی حرج کی بات نہیں، کیونکہ آپ کسی رفاہی تنظیم کے ساتھ مل کر غریبوں کی مدد کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر بھی اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس پیسے بھی نہیں ہے اور وقت کی کمی یا کسی اور وجہ سے رضاکارانہ طور پر بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہیں تو آپ اس کی ضرورت اور مجبوری میں ایک حد تک دلچسپی دکھا کر اس کی نفسیاتی مدد بھی کر سکتے ہیں۔ اس طریقے سے کہ آپ اس کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے اس کے ساتھ عاجزی کا برتاؤ کریں اور اس کا حوصلہ بلند کرنے کی کوشش کریں۔ حدیث میں اچھی اور پاکیزہ بات کو بھی صدقہ کہا گیا ہے۔

کسی کے ساتھ احسان کا تعلق فقط پیسے کی فراوانی سے نہیں ہے۔ چنانچہ ہر امیر شخص خیرات میں بہت کچھ دے سکتا ہے لیکن انسانیت، شرافت اور محبت سے مالامال دل وہی ہے جو پیسے کے ساتھ ساتھ پژمردہ چہروں کو تازگی بخشے، جو غریبوں کے ساتھ انسانیت کے سلوک میں بخل سے کام نہ لے، جو انہیں یاد دلائے کہ وہ اب بھی انسانوں میں شمار ہوتے ہیں اور وہ بھی ایک باپ آدم اور ایک ماں حوا کی اولاد ہیں۔ مجبور کے سامنے اس کے دکھ درد کے احساس کا اظہار اور اس کے حق میں آپ کی زبان سے نکلی ہوئی دعائیں بھی اس کی زندگی بدل سکتی ہیں۔

آپ میں سے بہت سے حضرات نے اس مشہور کہاوت کو سنا ہو گا کہ ”مجھے مچھلی نہ دو، لیکن مجھے مچھلی پکڑنا سکھاؤ۔“ بہت سے غریبوں اور ناداروں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہوتی اور ان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہوتا ہے۔ ان کے سامنے ایک اچھا آئیڈیا پیش کرنے سے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کو بہتر بنانے میں بڑا پازیٹو رول پلے کر سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ وہ تعلیم و تربیت یا کسی ہنر سیکھنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اس لیے اللہ تعالی کے عطاء کیے ہوئے علم یا ہنر میں سے ان کو فری میں کچھ حصہ دینا بھی بہت بڑا کار ثواب ہے۔ کسی غریب کے بچے کو آپ کا ایک سادہ سا ہنر سکھانا اس کے پورے خاندان کی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اگر آپ ایک مصنف یا صحافی ہیں تو آپ اپنے قلم کے ذریعہ بھی غریبوں کے مسائل کو اجاگر کر سکتے ہیں۔

آپ اپنی معلومات کو اپنے اردگرد کے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں۔ اس کے لیے آپ اخبار میں کالم لکھ سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر کوئی تحریر یا بلاگ لکھ سکتے ہیں، کوئی آڈیو یا ویڈیو کلپ ریکارڈ کر کے شیئر کر سکتے ہیں۔ اگر خود نہیں کر سکتے تو اپنے علاقے کے صحافیوں سے بات چیت کر سکتے ہیں، اپنے علاقے میں سرگرم خیراتی تنظیموں کو ان کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں اور یا پھر کم از کم دوستوں میں ہی بات چلا سکتے ہیں۔

اگر آپ اپنی روح کی حقیقی لذت کو محسوس کرنا چاہتے ہیں اور اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی جنت کی نعمتوں کا مزہ چکھنا چاہتے ہیں تو اپنے اردگرد محروم بچپن اور اذیت زدہ روحوں کو تلاش کر کے ان کی کسی بھی طریقے سے مدد کیجیے جب آپ زمین والوں پر رحم کرنا شروع کر دیں گے تو آسمان والا بھی تمہارے لیے اپنی رحمت کے سارے دروازے کھول دے گا۔

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

پر ارسال کر دیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments