کہروڑپکا ۔کہروڑپکا کے سیاستدانوں کی تلخ حقیقت

تحریر۔ملک محمد ارشاد فیض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاستدانو آپ سے تو غریب عوام کو کبھی واسطہ بھی نہ پڑے ۔سیاستدان خود بھی مگر مچھ اور ترقیاتی کام بھی بار بار اپنے مگرمچھوں کے علاقے میں کرواتے ہیں اب جو ٹینڈر آیا ہے اس پہ غور کرلیں خیر پور روڈ پر سب سیاستدانوں کے گھر ہیں جسمیں پیر زادے ,شیخ ,جوئیہ ,نون,پٹھان ۔کانجو ,وغیرہ بستے ہیں ان سب کے گھروں تک ٹف ٹائلز لگی ہوئی ہیں تھوڑا سا روڈ خراب کیا ہوا ہے کسی امیر زادے نے خراب روڈ پر چلنا برداشت نہی کیا بلکہ فوری سروے کروا کر ٹینڈر بھی لگوا دیا ہے جبکہ ان سیاستدانوں کو پارلیمنٹ میں غریب عوام منتخب کرکے بھیجتی ہے پھر یہی سیاستدان غریبوں کے حق پر بے دردی سے ڈاکا ڈالتے ہیں مگر ایسا کیوں ہورہا ہے غریب لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ووٹ لیے جاتے ہیں اگر ووٹ نہ دیں تو پھر اقتدار کے نشے میں ایف آئی آر کروادیتے ہیں اسلیے غریب عوام کی آوازنہی نکلتی انکے پریشر سے انکی ہوا دبادی جاتی ہے کہروڑپکا کی تحصیل میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پہ صرف غریب لوگ بستے ہیں مگر اس علاقے کو ہر سیاسی جماعت نے جان بوجھ کر پسماندا رکھا ہے اور سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہے بلکہ اس جیسے علاقوں میں ڈبل روڈ بنے ہوۓ ہیں مگر آج سے تیس 30 سال پہلے اس علاقے میں یوسف رضا گیلانی ایم این اے منتخب ہوا تھا اس نے یہ روڈ غریبوں کے گزر بسر کو دیکھ کر اہل ترسی کرکے 13 کلو میٹر کا ٹکڑا دیا تھا جو اب کئ سالوں سے بلکل کھٹارا بن چکا ہے ہیوی ٹریفک تو دور کی بات 13 کلومیٹر کا سفر موٹر سائیکل پہ 2 گھنٹے میں طے ہوتا ہے یہ علاقہ مشہور علاقہ ہے اس علاقے سے بھاری مینڈٹ جیت کر اسمبلیوں میں جاتے ہیں اس علاقے کی آبادی بہت زیادہ ہے مگر سب آبادی غریبوں پر مشتمل ہے آج تک اس عوام کےلیے کسی نے آواز نہی اٹھائی نہ سیاستدانوں نے نہ کمشنر ڈی سی او نے نہ کسی صحافی بھائی نے سب خوشامندی ٹولے اپنی خوشامند میں لگے ہوۓ ہیں فوٹو سیشن زندہ باد جس علاقے کو سیاستدانوں نے نظر انداز کررکھا ہے اس علاقے کی تفصیل کچھ یوں ہے پرانا بہاولپور روڈ سے نکلنے والا جس روڈ ہے اس روڈ پر سب آس پاس دور دراز تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں غریب لوگ بستے ہیں جس روڈ بہت سے علاقوں کو ٹچ کرتا ہے اور اسی روڈ کے علاوہ بہت سے دیہات ہیں جن کو سواۓ اس روڈ کے اور کوئی روڈ نہی لگتے اس روڈ پر بہت بڑے بڑے گاؤں اور بستیاں آباد ہیں اس روڈ پہ پہلے نمبر پر شہر کے بلکل ساتھ بستی درکھاناں والی ,بستی جنڈ ڈیرہ ,کوٹلہ دلبر ,بستی لاڑاں ماڑی ,پکی پل ٹاہلی والہ,بہاولگڑھ ,لال بیگ ,بڈھے والا ,بستی بناں ,بستی نالا,بستی شریں والا,بستی وریام والا ,بستی جھبیلاں ,بستی خانداکھوہ ,بستی موضع جس,بستی بڑا نالا شاہ پور,بستی قہماں والی ,بستی بڈھ والا اسکے علاوہ اور بھی بہت سی بستیاں آباد ہیں اور بہت آبادی ہے ایک ایک بستی میں ہزاروں لوگ بستے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ووٹ رجسٹرڈ ہیں جو سیاستدان ادھر ادھر سے ہار کر اس علاقی میں بھاری اکثریت سے جیت جاتے ہیں اور اس علاقے کی بدقسمتی ایسی ہے کہ آج تک کوئی ہائی سکول بھی نہی بن سکا ایک دو پرائمری سکول موجود ہیں واہ رے کہروڑپکا کے سیاستدانوں کی سوچ اور سیاستانوں کے کارنامے جس روڈ خانداکھوہ روڈ جن کی بستیوں کی تفصیل لکھی ہے یہ روڈ 30 سال سے بھی زیادہ کا پرانا ہے مگر اب بلکل کھنڈر بن چکا ہے ختم ہوچکا ہے پہچان تک نہی رہی کہ روڈ ہے یا سڑک ہے اس علاقے کو تو سییاستدانوں کو 30 فٹ والا ڈبل روڈ دینا چاہیے تھا مگر ڈبل تو ڈبل سنگل بھی 30 سے نہ دے سکے ظلم کی انتہا ہوتی ہے اس روڈ پر ریکارڈ ہے آج تک کوئی ریسکیو کی گاڑی نہی گئ نہ جاتی ہے نہ جاسکتی ہے مریض تڑپ تڑپ کر مرجاتا ہے اور ان سیاستدانوں کے آپ کو کیا کارنامے بتاؤں اس علاقے کی عوام کو پاگل بیوقوف سمجھ رکھا ہے ہسپتال تک نہی ہے نہ سیوریج سسٹم ,نہ صاف پانی میری سیاستدانوں سے گذارش ہے کہ اب اگلا الیکشن قریب ہے خدارا انسانی رحم دلی کرکے اس علاقے کے مسائل کو فل فور حل کریں اگر نہی کتیں گے تو یاد رکھیں اب پہلے والی عوان نہی رہی اس علاقے کی عوام۔کے اندر بہت غصہ ہے یہ نہ ہو کہ الیکشن کے دوران آپکو گندے ٹماٹر یا جوتے پڑیں یا عوام آپ کے پیچھے بھاگ پڑے خدارا خدارا اس علاقے کاوزٹ کرکے اپنے گریبان میں جھانکیں اور پھر ترقیاتی کام کروائیں وہ بھی اگر احساس کی انسانیت ہے تو اگر احساس نہی ہے پھر جیسے اس علاقے کی عوام زلیل و خوار ہورہی ہے ہوتی رہے گی ایک دن آپ اللہ کے بہت سخت جواب دہ ہونگے ۔

تحریر ملک محمد ارشاد فیض روہی رنگ نیوز

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments