مقبولیت پیمانہ انصاف

دین اسلام کی بنیاد ہی انصاف کے سنہری اصولوں پر استوار کی گئی ہے. آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس جب قریش کی ایک عورت کا چوری کا مقدمہ سماعت کے لیے آیا. تو اہل قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے آپ سے درخواست کی. کہ اسے معاف کر دے. اس کی سزا کی صورت میں قریش قبیلے کی بدنامی ہو گی. قریش قبیلہ دیگر قبائل میں اپنی مقبولیت کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا تھا. جس پر سرکار دو جہاں کا ارشاد تھا کہ خدا کی قسم اگر فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کرتی تو اس کو بھی وہی سزا دی جاتی. جو اس عورت کو دی جا رہی ہے. اسی طرح خلیفہ وقت سے پوچھا گیا. کہ آپ کے پاس دو چادریں کہاں سے آئیں. کیونکہ بیت المال سے تو سب کو ایک چادر مل رہی ہے. جس پر خلیفہ وقت نے قاضی کی عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دی. کہ دوسری چادر ان کے بیٹے کی ہے. ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مقبولیت کو انصاف کی فراہمی میں ہرگز حائل نہیں ہونا چاہیے. دین اسلام نے اقربا پروری کی شدید الفاظ میں ممانعت کی ہے. دنیا بھر میں دین اسلام کا بول بالا ہی انصاف کی وجہ سے ہوا تھا. مگر بدقسمتی سے آج دنیا میں مسلمان قوم رشوت، اقربا پروری کی بدولت زوال پذیر ہو چکی ہے. آج مسلمان قوم میں کسی کے پاس دنیاوی دولت یا اعلیٰ منصب آ جائے تو وہ خود کو دوسرے انسانوں سے نمایاں تصور کرتا ہے. یہ سمجھتا ہے. کہ وہ اپنے کسی بھی فعل کے لیے کسی کو بھی جواب دہ نہیں. وہ  خود ساختہ مقبولیت کے لبادے میں خود کو چھپانا چاہتا ہے. پاکستان کی بدقسمتی کہہ لے

کہ یہاں جو بھی حکمران آیا. اسے اپنی مقبولیت کا خمار رہا ہے. اسی خمار میں وہ اپنا نقصان کروا بیٹھے. مقبولیت کا یہ ہرگز مطلب نہیں. کہ آپ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن جائے. اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے اپنے من پسند فیصلے لینے کی کوشش کرے. مقبولیت انسانیت کی خدمت کے جذبہ میں پوشیدہ ہے. نہ کہ دھونس دھاندلی سے خود کو بچانے میں. پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بلاشبہ آجکل عوامی مقبولیت کی معراج پر ہے. جس کے نشہ میں وہ ہر ملکی آئینی ادارے کے سربراہ پر الزام تراشی کر رہے ہیں. جو کسی بھی طرح سے ان کے شایان شان نہیں. آپ کو چاہیے کہ آپ دن رات عوام کی خدمت کرے. مگر شاید آپ عوام کی خدمت کی بجائے. اداروں کو زیر عتاب لانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں. آپ کی خواہش ہے

کہ ملکی ادارے آپ کی ذاتی منشاء کے مطابق چلے. تو یہ روش آپ کے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں. پہلے حکمران بھی شاید اسی خواہش کی وجہ سے اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک موقع فراہم کیا تھا کہ آپ اس ملک کے نظام کو بہتر کرے. مگر ان چار سالوں میں آپ نے اپنے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کےسوا کچھ نہیں کیا. آپ کے پاس یہ سنہری موقع تھا. کہ آپ اس فرسودہ نظام کی بہتری کے لیے موثر اصلاحات کا نفاض کرتے. آپ اپنے دور حکومت میں آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے قانون بنا دیتے. کہ جو سب سے سینئر ہو گا. وہی آرمی چیف کے منصب پر براجمان ہو گا. مگر آپ بھی اپنے من پسند شخص کو اس منصب پر تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے تھے. اس لیے آپ نے اسی کوئی قانون سازی نہیں کی. اب جب آپ اقتدار سے باہر کر دیئے گئے ہیں. تو آپ کو آرمی چیف کی تعیناتی کے طریقہ کار پر اعتراض ہونے لگا ہے. قانون جو بھی ہوتا ہے وہ سب کے لیے یکساں ہوتا ہے. یہ نہیں کہ آپ کے لیے قانون کچھ اور ہو. اور دوسرے کے لیے کچھ اور.. آنینی اداروں کے سربراہان کی تعیناتی کا طریقہ کار آئین پاکستان میں بیان کر دیا گیا ہے. اگر اس پر کسی کو اعتراض ہے. تو اسے آئین پاکستان میں بیان کردہ مجوزہ طریقہ کار کے تحت ترامیم کرکے ان تعیناتوں کو از سر نو کرنے کے لیے قوانین تشکیل دینے چاہیے. ناکہ عوامی جلسوں میں بیان بازی کرکے ان اداروں اور ان کے سربراہوں کی تذلیل کی جائے . کیا عوامی جلسہ میں کھڑا ہوکر کسی بھی ادارے کے سربراہ کی تعیناتی ہو سکتی ہے. ہرگز نہیں. اس کے لیے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن سے باہمی مشاورت سے ہی یہ مسائل حل ہو گے. جو آپ کرنے کو تیار نہیں. آپ اپنے سیاسی حریفوں کو چور تصور کرتے ہیں. ان سے ہاتھ ملانے تک کو آپ تیار نہیں. عوام کو بھی آپ سے سوال کرنا چاہیے. کہ آپ عوامی اجتماعات میں کھڑے ہوکر آئینی اداروں میں اصلاحات کی باتیں کرتے ہیں. جب آپ حکومت میں تھے. تو آپ نے اس سلسلہ میں کیا کاوش کی. ہمارے ہاں رسم ہی ایسی چل پڑی ہے. کہ جب ہم اقتدار میں ہوتے ہیں. تو ہمیں سب کچھ ٹھیک لگتا ہے. جب اقتدار سے باہر ہو جاتے ہیں. ہمیں پورا نظام ہی کرپٹ لگنا شروع ہو جاتا ہے. کاش ہماری ساری سیاسی قیادت سر جوڑ کر ایک متفقہ لائحہ عمل تشکیل دے. جس کے تحت آئینی اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جاسکے. جب تک ملکی ادارے مضبوط نہیں ہوگے. لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا اصول ممکن نہیں ہو سکے گا. ان اداروں کو غلط کام کرنے پر بھی ہماری سیاسی قیادت ہی مجبور کرتی ہے.  جو بھی مقبولیت کی بلندی پر ہوتا ہے. وہ عدلیہ کے ججوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے حق میں فیصلہ کروانا چاہتا ہے. یہ روش انصاف کے اصولوں کے منافی ہے. جب کبھی عدلیہ غیر جانبدار ہو کر فیصلہ سازی کرتی ہے. تو اس پر سیاسی قیادت کی طرف سے مخالفانہ بیان بازی کے نشتر چلائے جاتے ہیں. ملکی ترقی کے لیے آئینی اداروں کو مکمل طور پر غیر جانبدار رہ کر کام کرنے دینا چاہیے. انہیں عدالتوں نے جب دوران سماعت سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو سسلین مافیا کا لقب دیا. تو آپ نے اس پر شادیانے بجائے. کیا ہی اچھا ہوتا آپ اس وقت عدلیہ سے درخواست کرتے. کہ ایسے غیر جمہوری الفاظ کا چناؤ نہ کیا جائے. مگر اس وقت آپ کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کی جگ ہنسائی کرنا تھا. ابھی تو عدلیہ کی طرف سے آپ کو ایسے القابات سے نہیں نوازا گیا. نہ ہی فوج کی طرف سے آپ کے ساتھ کوئی سختی کی گئ ہے. ورنہ آپ میاں محمد نواز شریف ،الطاف حسین، آصف علی زرداری اور اسفند یار ولی کا انجام دیکھ لیں. انہیں کیسی کیسی اذیتوں سے گزارنا پڑا ہے. آپ کو تو ابھی اداروں نے لارڈ پیار سے رکھا ہوا ہے. خدارا قوم کو گمراہ کرنے کی بجائے. قومی اسمبلی میں واپس جائے. اور آئینی طریقہ اختیار کرتے ہوئے. فرسودہ قوانین میں تبدیلی کرے. اگر الیکشن اسی فرسودہ نظام کے تحت آپ کے بھوپور اجتجاج پر کروا دیئے جاتے ہیں . تو کیا آپ اس کے نتائج کو تسلیم کرے گے. ہرگز نہیں. تو پھر اپنا اور قوم کا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں. ابھی بھی آپ ضمنی الیکشن میں محض اس لیے شرکت کرتے ہیں. کہ اپنی عوامی مقبولیت کو جانچ سکے. آپ کے ذہن سے جس دن یہ مقبولیت کا بھوت اترے گا. اسی دن آپ کی سیاست درست سمت پر چل پڑے گی. اس وقت ملک میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کو نہیں. آپ کو ان کی مشکلات حل کرنے کی بجائے. جلسے جلوسوں کی پڑی ہوئی ہے. وزیر اعلی پنجاب بھی ایوان وزیر اعلیٰ سے باہر نکلنے کو تیار نہیں. وہ بند کمروں میں بیٹھ کر ہی عوام کی تقدیر کے فیصلے کر رہے ہیں. اس مشکل گھڑی میں ساری سیاسی قیادت کو مل جل کر دکھی عوام کے زخموں پر مرہم لگانی چاہیے. ناکہ اپنے بیانات سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جائے.. بین الاقوامی دنیا سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پاکستان کی مدد کر رہی ہے. ایسے میں ہمیں کوئی غیر ذمہ داران بیان نہیں دینا چاہیے. وزیراعظم شہباز شریف سیلاب زدگان کی مدد کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں. آپ کو بھی عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے. یہ مقبولیت مقبولیت کا کھیل کھیلنا چھوڑ دے. مقبولیت تو تبھی ہو گی. جب عوام زبدہ رہے گی اور ملکی اداروں کی سالمیت باقی بچے گی. ورنہ اس مقبولیت کا کیا فائدہ جس میں عوام زندہ درگو ہوجائے اور ملکی آئینی اداروں کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے. 

اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقبولیت سے نوازا ہے. تو اس کا استعمال اچھا کرے اور اس مقبولیت کو ملک و قوم کی بہتری کے لیے استعمال کرے. مقبولیت کو انصاف کا پیمانہ ہرگز نہ بنائے. اگر مقبولیت ہی انصاف کا پیمانہ بن گیا. تو پھر عوام آدمی کو تو انصاف کی فراہمی ناممکن ہو جائے گی. ملک میں معاشی خوشحالی، اداروں کی مضبوطی پر ہی مقبولیت کا دارومدار ہونا چاہیے.

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments