پختونخوا میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور ایک خوش گمانی

تحریر۔شمس مومند

یوں تو پورا پختون خطہ گزشتہ چالیس سال سے کسی نہ کسی شکل میں بد امنی کا شکار رہا ہے مگر دو ہزار سات سے پندرہ تک اس وقت کے قبائلی علاقے سمیت پورا صوبہ آگ و خون میں نہلاتا رہا۔ پے درپے فوجی آپریشنوں سمیت متعدد اقدامات کی بدولت گزشتہ چند سال نسبتاً پرسکون رہے۔ اگرچہ ٹارگٹ کلنگ اور اکا دکا واقعات کبھی بھی مکمل ختم نہیں ہوئے تھے۔ مگر چند مہینے پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ شروع ہونے والی مذاکرات نے اگر ایک طرف امن پسندوں کے لئے خطے میں امن کے امکانات پیدا کیے تو دوسری طرف کسی باقاعدہ معاہدے سے پہلے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی اور سینکڑوں مسلح افراد کی سوات سمیت ضم شدہ اضلاع میں واپسی نے عوام سمیت سول سوسائٹی اور صحافتی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ نہ صرف صحافیوں اور سول سوسائٹی رہنماؤں نے فوری رسپانس دیتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی بلکہ عوام نے جلسے جلوسوں ریلیوں، دھرنوں، امن مارچوں اور اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بہت تیزی کے ساتھ ملک بھر کی سیاسی و عسکری قیادت کو اپنی تشویش سے آگاہ کر کے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ لیکن اس انتہائی مثبت عوامی ردعمل کے باوجود ابھی قومی سطح پر وہ ردعمل دکھائی نہیں دیتا ہے جس کی توقع کی جاتی تھی۔

جس کی وجہ سے ابھی تک سوات سمیت قبائلی اضلاع خیبر باجوڑ مہمند اور وزیرستان کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی عسکری قیادت عوام کو امن کی ضمانت اور تسلی دے اور سیاسی قیادت عوام کے امن ریلیوں میں شرکت کر کے انہیں اپنائیت اور سرپرستی کی یقین دہانی کرائے۔ سوات، بونیر اور قبائلی اضلاع کے علاوہ پشاور کے مضافات میں بھی مسلح افراد مساجد میں جہاد کے حوالے سے تقریریں کرتے اور چندے مانگتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ میری ناقص رائے میں قومی ردعمل میں اس کمی کی دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہے۔

ایک تو یہ کہ شاید ملکی سیاسی قیادت اپنے اپنے سیاسی مفادات میں اس قدر گھرے ہوئے ہیں کہ ان کو پختونخوا کے عوام اور ان میں پائے جانے والی تشویش کی اہمیت کا احساس ہی نہیں۔ یا تو وہ بے حد ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو گزشتہ روز سوات میں ہونے والی امن مارچ میں قوم پرست جماعتوں کے چند ایک مقامی رہنماؤں کے علاوہ کسی منتخب نمائندے یا پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی مسلم لیگ جے یو آئی وغیرہ کے کسی لیڈر نے شرکت کیوں نہیں کی۔

باوجود اس کے کہ چند روز پہلے مراد سعید نے ایک ویڈیو پیغام میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔ نہ صرف خود غیر حاضر رہے بلکہ قومی سطح کا کوئی رہنماء عوام کی دادرسی کے لئے نہیں آیا۔ اسی طرح عسکری قیادت خصوصاً آئی ایس پی آر کی جانب سے ابھی تک عوام کی تسلی کے لئے کوئی ٹھوس اور موثر آواز سامنے نہیں آئی۔ یہ بے اعتنائی کا رویہ عوام کی تشویش میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اور عوام میں خدشات جنم لے رہے ہیں۔

ضلع خیبر کے وادی تیراہ کے ایک محدود حصے میں عوام کو نقل مکانی کی ہدایت اور آپریشن کی افواہیں زوروں پر ہے۔ دوسری طرف امکان یہ ہے کہ ان الفاظ کی اشاعت تک شاید سوات کے تحصیل مٹہ میں فوجی کارروائی شروع ہو چکی ہو۔ کیونکہ منظم و ماہر فوجی دستے نہایت خاموشی کے ساتھ پوزیشن سنبھال چکی ہے۔ اگر زبانی جمع خرچ اور اعلانات کی بجائے اسی طرح فوری ردعمل دیا جاتا ہے تو یہ پہلے والی منصوبہ بندی کی نسبت بہت اچھا قدم ہو گا۔

ماہرین کی ایک محدود تعداد کا خیال ہے کہ شاید طالبان کو پاکستان واپس آنے کا محفوظ رستہ دینا فوجی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ کیونکہ عسکری حکام کو یقین ہو گیا تھا کہ ان کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں افغانستان میں ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرنا ناممکن ہوجاتا۔ اس لئے شاید انہیں جان بوجھ کر اپنے اپنے علاقوں میں آنے کی ڈھیل دی گئی۔ اگر یہ واقعی فوجی حکمت عملی ہے اور اعلانات کی بجائے عملی اقدامات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تو پھر عوام کو اپنی ریاست اور اس کے اداروں پر اعتماد کر کے مطمئن رہنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ پھر اس خطے میں ایک اور طویل جنگ کے خدشات بے بنیاد ہوں گے ۔ ہمیں اپنی فوج کی عسکری صلاحیت اور جوانوں کے جذبے پر کوئی شک نہیں، اگر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی ہے تو اس کی بڑی وجہ پراکسی وار اور سابقہ ریاستی پالیسیاں رہی ہے۔ اگر اب ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ اس قصے کو ایک ہی دفعہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں بلکہ یہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد سازی کی ازسر نو شروعات ہوگی۔

اور یاد رہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کو جس مقام پر کھڑا کیا ہے۔ ان حالات میں کسی بھی خطے میں بد امنی اور عوام کی مزید تکلیف قوم کے لئے ناقابل برداشت ہوگی۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عسکری حکام سیاست کا کام سیاستدانوں پر چھوڑ دے۔ وہ کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام یہ آپ کی ذمہ داری ہی نہیں عوام جانے اور سیاست دان کہ وہ اپنے رہنماؤں سے پھر کس طرح بدلہ لیتے ہیں۔ مگر ملک کے جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور ملک کے اندر اس طرح کی دہشت گردی اور بغاوت قابو کرنے کی براہ راست ذمہ داری آپ لوگوں کے کندھوں پر ہے۔ اس حوالے سے عوام میں نہ صرف اعتماد کی کمی ہے بلکہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہے۔ اس لئے عوام کا اعتماد اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے آگے آئے ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے

اسلام علیکم!

ا گر اپ دوست کالمز لکھنا چاھتے ہیں تو

dailyaaghosh@yahoo.com

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments