سر پر دوپٹہ اور آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر ۔۔ انجلینا جولی جب دادو کے سیلاب زدگان سے ملیں تو ان کے کیا جذبات تھے؟

پاکستانی اس وقت سیلابی پانی سے گزر کر اپنے پیاروں کے جنازے لے جانے پر مجبور ہیں اور تو اور اللہ پاک کی عبادت بھی اسی پانی میں کھڑے ہو کر کر رہے ہیں۔

اس طرح کے واقعات دیکھنے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے میں جب کوئی بھی ان کی مدد کو نہ پہنچا تو ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی پاکستانیوں کی دل جوئی کرنے کو آ گئیں۔

انہوں نے آج کشتی میں بیٹھ کر 3 گاؤں کا مختصر دورہ کیا۔ اس وقت ان کے ساتھ مقامی گلوکار پیرل چانڈیو اور پاکستان میں ہلال احمر کی سربراہ شبنم بلوچ بی موجود تھیں، جوکہ آج ان کی مترجم کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں۔

پیرل چانڈیو کے مطابق انجلینا جوکی دورے کے دوران کشتی سے نیچے اتریں اور غریب خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ تو خواتین نے کہا کہ کھانے پینے کی ضرورت ہے، اسی پانی میں سے گزر کر مریضوں کو لے جانا پڑ رہا ہے۔ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ مدد کیلئے لوگوں کو ضرور بھیجیں گی۔

اس موقعے پر گرمی بہت تھیں، وقت بھی کم تھا لیکن وہ بار بار رک کر خواتین سے بات چیت کرتیں، حال احوال پوچھتیں۔ جب یہ مغیر محمدی گاؤں پہنچیں تو ہر طرف پانی ہی پانی تھا، اس صورتحال کو دیکھ کر انجلینا جذباتی ہو گئیں اور ان کی انکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے لیکن وہ بچوں اور خواتین کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتیں تھیں۔

مزید یہ کہ مقامی شخص محب نے بتایا کہ محب کے مطابق جولی نے پوچھا کہ کیا یہ سیلاب ہر سال آتا ہے، گھر ٹوٹ جاتے ہیں تو کون بنا کر دیتا ہے؟ اس سوال کا کچھ یوں جواب دیا گیا کہ ہر دسویں سال یہ سیلابی صورتحال ہوتی ہے، لوگ خود اپنے گھر بناتے ہیں اور کوئی مدد نہیں کرتا۔

یہی نہیں ہمارا سب کچھ ختم ہو گیا لیکن ابھی تک کہیں سے کوئی امداد نہیں پہنچی۔اس کے علاوہ آپکو یہ بھی بتاتے چلیں کہ دوپہر ایک بجے سے لے کر دو بجے تک اُنھوں نے ان علاقوں کا کشتی پر دورہ کیا اور پھر وہ واپس چلی گئیں۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments