اسلام آباد ایک میٹنگ میں شرکت کے بعد میرے دوست ڈاکٹر اظہار سومرو سے ملاقات

محمد سجاد رحمانی
اس مرتبہ اسلام آباد ایک میٹنگ میں شرکت کے بعد میرے دوست ڈاکٹر اظہار سومرو سے ملاقات ہوئی (جو کہ جمعیت طلباء اسلام کے رہنما ہیں) گپ شپ کے بعد کچھ موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی جو کہ قارئین کی نظر
ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں آپ ؟ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اور محمد سجاد رحمانی آپ کی بہت مہربانی کہ آپ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرنے کا موقع عنایت فرمایا ۔
ڈاکٹر صاحب موجودہ صورتحال میں جمعیت علماء کیوں خاموش ہے؟؟ جس طرح ٹرانسجینڈر بل منظور ہوا
دیکھیں جی یہ بل نہ ہم نے پیش کیا ہے اور نہ ہی ہم نے پاس کیا یہ بل 2018 میں شیریں مزاری نے پیش کیا تھا اور جمعیت علماء نے پارلیمان میں احتجاج کیا جوکہ چوری چھپے یہ قانون پاس کیا گیا اور اس بل کے خلاف جمعیت کے قائد مولانا فضل الرحمان صاحب نے سخت ردِعمل دیا ہے اور جمعیت علماء اپنا بل پیش کرنے جارہی ہے جس سے یہ بل ختم ہوجائیگا ۔
ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ سندھ کی موجودہ صورتحال پر آپکا کیا خیال ہے ؟؟
دیکھیں بھائی جو سندھ کی صورتحال ہے وہی صورتحال جنوبی پنجاب کے علاقے پشتونخواہ اور بلوچستان کی تھی حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ مس مینیجمینٹ کا معاملہ ہے اگر خدائی عذاب ہے تو ظالم وڈیرے بدمعاش لوگ کیوں نہیں ڈوبتے صرف غریب عوام ہی کیوں ڈوب رہی ہے۔
ڈاکٹر صاحب مس مئنجمینٹ کا اصل ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں آپ ؟؟
پی پی پی و پی ٹی آئی سرکار کو۔
ڈاکٹر صاحب پی پی پی سے تو آپ کا اتحاد ہے اور وہ پی ڈی ایم کا اہم رکن ہے کہا جاتا ہے کہ سندھ کو تباہ کرنے میں پی پی پی کا ہاتھ ہے تو جے یو آئی بھی برابر کے شریک ہے؟؟
دیکھیں جی ہمارا پی پی پی سے پارلیمانی اتحاد ہے اور وہ صرف پارلیمینٹ کی حد تک ہے مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارا سندھ کے اندر پی پی پی سے اتحاد نہیں ہے اگر ہم سندھ تباہ کرتے تو علامہ راشد سومرو کو بلاول زرداری کے مقابلے میں کھڑا ہونے نہ دیتے حتیٰ کہ ہمیں دوسری جگہ سیٹ ایڈجسمنٹ کرنے کے ساتھ تین ارب روپے کی بھی لالچ دی گئی کہ علامہ راشد سومرو ہمارے حق میں بیٹھ جائیں جو حکم کرے ہم اسی طرح کرینگے
یہ الگ بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں
پھر بھی جو لوگ بڑے ہیں بڑے رہتے ہیں
ایسے درویشوں سے ملتا ہے شجرہ ہمارا
جن کے قدموں میں کئی تاج پڑے رہتے ہیں۔
اچھا سومرو صاحب یہ بتائیں کہ موجودہ سیلابی صورتحال پر جمعیت علماء کی قیادت نظر نہیں؟؟
جب تازہ سیلابی صورتحال آغاز تھا تو کے این شاہ سندھ کا ایک ضلعہ ہے وہ ڈوب رہا ہے تو آدھی رات کو ہمارے سندھ کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد سومرو خود ڈرائیو کرکے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وہاں کھڑے رہے لوگوں کو یہ بھی کہا کہ میرے گھر چلیں میرے گھر کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں فی بندے کو دس ھزار روپے نقد دیے ہیں۔ پہلے دن ہی سے علامہ راشد سومرو کے حکم پر المحمود ویلفیئر ایسوسیئشن نے روزانہ کی بنیاد پر صبح شام آٹھ ہزار لوگوں کو پکا پکایا کھانہ پھنچاتے رہے ہیں 35 ھزار لوگوں میں راشن کپڑے نقد امداد تقسیم کیے ہیں، بوٹز کرایہ پر بھیجی ہئں جس کا کرایہ و پیٹرول بھی المحمود ویلفیئر ایسوسیئشن برداشت کررہی ہے میڈیکل کیمپز لگائی گئی جو دوائیوں پر خرچہ آیا تقریباً دو کروڑ سے زائد خرچہ ہوا ہے ۔
ڈاکٹر صاحب آپ یہ بتائیں کہ اس نظام کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟؟ آپکی کیا رائے ہے۔
بھائی میری نظر میں واقعی اگر نظام بدلنا چاہتے ہیں واقعی ان عذاب سے جان چھڑانا ہے تو متبادل قیادت فراہم کرنا ہوگی اور ان قوتوں کو مسترد کرنا ہوگا جو 75 سال سے ناکامی اور تباہی پروان چڑہا رہی ہیں ایک متبادل نئی قیادت جمعیت علماء اسلام کی صورت دینی ہی ہوگی
ڈاکٹر صاحب آپکے وقت کا شکریہ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments