صمد حقاری: درویش قائد مولانامفتی محمود

تحریر عبدالصمدحقیار

ہر ذی روح کاایک نہ ایک دن اس دنیا سے جانا اٹل ہے بہترین لوگ وہ ہیں جنکا لازوال کردار حسین گفتار اور حسن اخلاق موت کے بعد بھی انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھیں انکے یہی بہترین اوصاف انہیں افراد نہیں بلکہ شخصیات بناکر مرنے کے بعد بھی عوام کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں ہزار برس بھی بیت جائے مگر انکی یاد عوام کی دلوں میں شمع روشن کیئے قائم و دائم رہتی ہے مفکراسلام حضرت مولانا مفتی محمود کا شمار بھی انہیں شخصیات میں ہیں کہ جنکا کردار فکر اور اصول پرستی انھیں آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ رکھا ہوا ہے
دستار وجبہ کے مسنون لباس میں ملبوس حضرت مولانا مفتی محمود اپنی پوری سادگی اور درویشی کے ساتھ نمود و نمائش سے دور ملک کی سیاسی معاملات میں پیش پیش رہیں ملکی سیاست کے بڑے بڑے نام آپ کے خداداد صلاحیتوں اور بصیرت کے بدولت آپکے گرویدہ بنیں ریاست کا اچھا سے اچھا منصب بھی آپ کی خاکساری درویشی اور سادگی پر اثرانداز نہ ہوسکی اور نہ ہی آپکی طرز زندگی میں کوئی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئی سرکاری اور نجی معاملات میں آپ اقدار اور اصول پرستی کے ہمیشہ قائل رہے خیبر پختونخواہ (سابقہ صوبہ سرحد) کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر آپ نے جس سادگی درویشی اور احسن و دانش مندانہ انداز میں امور اقتدار انجام دیئے انہیں آج بھی تاریخ میں سنہرے الفاظ سے یاد رکھا جارہا ہے ریاستی معاملات کے ساتھ ملک کے سیاسی معاملات میں بھی آپ ہمیشہ دوسروں سے ممتاز رہیں
تاریخ گواہ ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے ایسے گھٹن اور مشکل حالات میں سیاسی جدوجہد کاآغاز کیا کہ جب ایک منظم سازش کے تحت علماء اور مذہبی طبقہ کو سیاست سے دور رکھنے کی سازشیں عروج پر تھی لادین اور سیکولر طبقہ کی کوشش رہی کہ علماء کو مسجد کے منبر ومحراب اور مدرسہ کی چاردیواری تک محدود رکھ کر سیاسی محاذ سے دور رکھا جائیں ان حالات میں جب مولانامفتی محمود گوشہ علم سے کوچہ سیاست میں آئے تو اپنوں اور مخالفین نے واویلا مچانا شروع کردیا کہ اب انکی علمی شخصیت داغدار ہوجائے گی انکا خیال تھا کہ حضرت مفتی صاحب کی سیاست کا مقصد بھی ملک کی دیگر سیاستدانوں جیسا ہوگا کہ وہ اقتدار کی آسائشوں میں مستغرق ہوکر درس و تدریس کے ماحول سے دور چلے جائیں گے مگراس درویش صفت انسان نے یہ ثابت کردیا کہ اقتدار آسائش نہیں آزمائش ہوا کرتی ہیں لہذا یہ درویش عالم جب وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو بھی انکی درویشانہ زندگی اور سادگی میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی جو بالعموم اقتدار کا خاصا تصور کی جاتی ہے آپکے اس حسین کردار نے ان افواہوں اور خدشات کو بھی جھوٹا ثابت کیا جسکا اظہار اپنے اور پرائیوں کے زہنوں میں زیر گردش تھا آپ نے میدان سیاست کی اس گندی بازار میں اپنے دامن کو کرپشن کے ناسور اقرباء پروری اور نمود ونمائش سے پاک رکھا وازرت اعلیٰ کے منصب کو زات کی زینت نہیں بلکہ عوامی خدمت کازریعہ سمجھ کر قبول کیا اسی لیئے آپ نے ہر آزمائش کی گھڑی سے اپنے آپ کو نہ صرف سرخرو نکالا بلکہ ثابت کیا کہ ایک بوریا نشین عالم ایک جدید جمہوری معاشرے میں حکومتی فرائض اپنی تمام تر سادگی اور درویشی کے باوجود بطریق احسن چلا سکتا ہے یہی نہیں بلکہ آمریت اور آمریت کی آغوش میں پلنے والے بوٹ چاٹ سیاسی مداریوں کو جس جرات اور بہادری سے للکارا اسکی نظیر نہیں سفر حیات میں ملک پر قابض غاصب آمروں سے ٹکر لیکر انکی فرعونیت کو للکار کر فاتح قرار پانے والا یہ درویش کھبی کسی سے خائف نہیں ہوا ہمشہ نظریات اور اصولوں کو مقدم رکھ کر فیصلے کیئے آپکی اصول پرستی میدان سیاست کے پہلوانوں کیلئے ایک مثال تھی
آج اگر ملکی سطح پر مذہبی طبقہ بالخصوص علماء اور طلباء سینہ تان کر سیاست کررہے ہیں تو یہ حضرت مفتی صاحب اور انکے رفقاء کی جدوجہد کا ثمر ہے جنکی انتھک جدوجہد آج یہ رنگ لائی کہ آج مذہبی جماعتیں ملکی سیاست کا ضروری عنصر بن چکے ہیں اگرچہ لادین اور سیکولر لابی آج بھی انہیں برداشت نہیں کرتی مگر اب اس میدان سے مولوی اور مذہبی طبقہ کے وجود کو مٹانا آسان نہیں انکے وجود کو کمزور کرنے کیلئے تب سے لے کر اب تک سازشیں اور کوششیں جاری ہیں مگر انہیں اس میں کامیابی کی بجائیں ناکامی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا مولوی کی سیاست کو گولی اور لاٹھی سے دبانے اور مٹانے والے خود مٹ چکے ہیں مگر مولوی آج بھی اس میدان کا حصہ ہے انہیں پتہ ہے کہ مولانا مفتی محمود کے اس شجر کو مٹانا اب ممکن نہیں
1973ء کے آئین میں اسلامی دفعات کا وجود بالخصوص قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں اہم کردار ادا کرنے والا نڈر اور بے باک قیادت مولانا مفتی محمود ہی تھے جنہوں نے اپنے علمی بصیرت اور سیاسی حکمت کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیکر انہیں جھوٹا ثابت کرکے تحفظ ختم نبوت کے تحفظ کی عظیم زمہ داری نبائی یہی نہیں بلکہ آئین پاکستان میں ایسے دفعات شامل کیئے کہ جس سے آج بھی لادین قوتیں لرزاں ہیں اور آئین پاکستان میں موجود اسلامی دفعات انکی آنکھوں کا خار بن چکا ہیں ان دفعات کے خاتمے کیلئے کئی بار بیرونی اقاوں کی اشاروں پر مختلف حکومتوں میں حکومتی سطح پر چور دروازے سے حملہ کرنے کی کوششیں کی گئی مگر الحمدللہ حضرت مفتی صاحب کے سیاسی جانشین قائد جمعیت مولانافضل الرحمن صاحب اور انکی جماعت جمعیت علماءاسلام نے وقتاً فوقتاً آئین کے ان اسلامی دفعات کے دفاع کیلئے صف اول کا کردار ادا کرکے ان سازشوں کو بے نقاب کیا دیکھا جائے تو ملک میں جمہوریت کی استحکام آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی خاص کر آئین پاکستان میں اسلامی دفعات کے وجود سے لے کر دفاع تک کی جنگ جمعیت علماءاسلام ہی پارلیمنٹ میں موثر انداز میں لڑتی چلی آرہی ہیں آج اگر مولانامفتی محمود نہیں ہے تو انکے پیروکار موجود ہیں جو انکے مشن کو لیکر منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہیں وہ ہر سال 14 اکتوبر کو اپنے محبوب قائد کے برسی پر اس عہد کااظہار کرتے ہیں کہ انکی فکر اور وژن کو زندہ رکھنے اور انکے افکار اور نظریات کو مشعل راہ بناکر انکے عظیم مشن کی تکمیل کیلئے آئین کے اسلامی دفعات کے تحفظ اور ختم نبوت کے دفاع کیلئے ہر قسم قربانی دینا اور تکالیف و ازیتیں برداشت کرنا باعث سعادت سمجھ کر قبول کرنے کو تیارہیں جماعت کا ہرکارکن مملکت خداداد پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور لادین قوتوں کی مذموم سازش کو ناکام بنانے کیلئے حضرت مفتی کی جدوجہد کو زندہ رکھنا انکی روح کی تسکین کا زریعہ سمجھتے ہیں اسی لیئے پورے ملک میں اسی دن اپنے محبوب قائد سے عقیدت و محبت اور انکے عظیم مقصد کو زندہ رکھنے کیلئے کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتاہیں
[10/10, 6:01 PM] صمد حقاری: ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

کل تک فون ٹیپنگ کو ملکی سلامتی کےلئے ضروری جبکہ آج ملکی سلامتی کے خلاف قرار دیے رہے ہیں کیا یہ منافقت نہیں ہے؟ حافظ حمداللہ

دوسروں کو میر جعفر میر صادق کہنے والا خود میر جعفر اور میرصادق نکلا حافظ حمداللہ

اپنے آپ کو سراج الدولہ قرار دینے والا عمران نیازی ،،ہیکر،،کے ہاتھوں بے نقاب ہوتا جارہاہے حافظ حمداللہ

کنگ آف ٹائیگرز عمران خان ،،ہیکر،سائفر،،اور ڈار کے حصار میں ہیں حافظ حمداللہ

آڈیو لیکس سے عمران نیازی کا چھپا ہواسازشی چہرہ بے نقاب ھو چکا ہے حافظ حمداللہ

اسلام آباد مارچ آزادی نہیں فساد مارچ ہے جس کے خلاف ردالفساد کی تیاری کرنا ضروری ہے حافظ حمداللہ

آئین شکن عالمی چور توشہ خانہ چور اور بددیانت جھوٹے کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دینگے حافظ حمداللہ

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments