انسان کی کامیابی

Spread the love


تحریر :فرح ملک
انسان کی کامیابی اس حقیقت پر مضمر ہے کہ وہ اللہ کے احکامات صدق دل سے قبول کرے۔اللہ کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کرے۔اللہ کی محبت و عظمت انسان کے دل میں داخل ہو جائے۔یعنی دل کی گہرائی میں اللہ پر ایمان کی حقیقت کچھ اس طرح رچ بس جائے کہ دل سے کسی صورت بھی اسے جدا نہ کیا جا سکے یہی اللہ سے سچا تعلق ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آج انسان کی تباہی و بر باد کی بنیادی وجہ کیا ہے کیا کبھی اس پر غور کیا ہے؟اس بر بادی اور ناکامی کی اہم وجہ ہمارا دوغلہ پن ہے ہم زبان سے تو  اللہ پر ایمان لاتے ہیں لیکن باطنی طور پر کسی دوسرے کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف تو اللہ پر ایمان کے دعوی کیے جائے اور دوسری طرف سامراج کی جی حضوری کرے یہ ممکن نہیں کہ اس طرح ایک انسان کامیابی حاصل کرے اور ایک پر امن انسانی معاشرہ قائم کر سکے۔کیونکہ جب تک انسان کا اللہ سے سچا تعلق قائم نہیں ہوتا انسان کے لیے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسانی معاشرہ ہر طرح سے زوال کا شکار ہے۔
آج کا انسانی معاشرہ میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔انسانیت کو عرصہ ہوا ہے دفن کیے۔آج کے انسانی معاشرے میں انسان نما  کالی بھڑیے چھپے بیٹھے ہیں جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے مواقعوں کے تلاش میں رہتے ہیں۔ہر کسی کو اپنے مفادات عزیز ہیں۔معاشرے میں پھیلی برائیاں جھوٹ,فریب,رشوت,خوری,قتل و غارت,عزت دری,زنا,لوٹ کسوٹ,دھشت گردی وغیرہ عروج کو پہنچ چکے ہیں۔لیکن ارباب اختیار دولت و طاقت کے نشے میں مست انسانیت دشمنی پر مبنی فیصلوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔اپنے سرمایہ دار زمینی خداوں کے احکامات کی پیروی میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے حد تو یہ ہے کہ وہ دنیائی لذتوں میں اس طرح کھو گے ہیں کہ وہ اللہ کے احکامات کو بھی پس پست ڈال کر اپنے ہی عیاشیوں کے سامان کے حصول میں مصروف ہے۔اگر غور کیا جائے تو آج ہمارا معاشرہ ہر طرح سے تباہی کا شکار ہے چاہیے وہ معاشی ہو یا سیاسی مکمل تباہی  کا شکار نظر آتا ہے ہر طرف معاشی استحصال عروج کو پہنچ چکا ہے غریبوں کی دولت لوٹ کر دنیا کے چند فیصد افراد کے پاس جمع کیا جا رہا ہے جس کی بدولت دنیا میں غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔لوگوں کی بنیادی ضروریات پورےنہ ہونے کی وجہ  سے لوگ برائیوں کی طرف جاتے ہیں۔غریبوں کو نوالے نوالے کے لیے ترسایا جاتاہے جس کی وجہ سے لوگ زندگی کو جاری رکھنے کے لیے غلط اور غیر قانونی سر گر میوں میں ملوث ہوتے ہیں۔قرآن ایک مکمل اور ہر دور کے لیے ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجا گیا ہے۔لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم قرآن کے ان تعلیمات سے ہدایت اور رہنمائی حاصل نہیں کر سکے بلکہ سرمایہ داروں کے بنائے ہوئے اصولوں و ضوابط پر نہ صرف عمل کر رہے ہیں بلکہ ان کی پیروی کرنا میں فخر محسوس کرتے ہیں۔اس سودی نظام کے نفاذ کے اصولوں کو تعلیمی اداروں میں خاص طور پر پڑھایا جاتا ہے تاکہ اس سودی اور استحصالی نظام کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکے بلکہ اسکی دفاع اور فروغ کے لیے ایک منصوبے کے تحت عمل کیا جا رہا ہے صرف ملک کے نام کے ساتھ اسلام  رکھنے سے کوئی اسلامی نظام نافذ نہیں ہوتا یہ بھی عوام کو دھوکے میں رکھنے کا ایک سامراجی طریقہ ہے۔آج کے انسانی معاشرے کی  تباہی کی ایک اہم وجہ اللہ سے ہمارا وہ  سچا تعلق ہی قا ئم نہیں ہے جو انسان کی کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہے۔اللہ سے سچے تعلق میں رکاوٹ دو طاقتیں پیدا کرتے ہیں معاشی اور سیاسی طاقت انسان کو اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرنے سے روکتے ہیں یہی چیز اللہ کی محبت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے  ارشاد باری ہے اے ایمان والوں!تمہاری سیاسی طاقت (یعنی تمہارے نوجوان اور حکمران تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ بنائے اور تمہارے اموال بھی تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ بنائے۔اگرچہ مال و دولت دنیا میں انسان کی ضرورت ہے یہ ضرورت کے حد تک رہے تو ٹھیک ہے یہ مال و دولت انسانی فائدے کے لیے استعمال ہو تو ٹھیک ہے لیکن یہ مال دولت انسان  کو اللہ کے احکامات و قوانین کی خلاف ورزی کے بعث بنے تو یہ اللہ کی یاد میں غفلت کی سب سے بڑی وجہ ہے ایسے ہی اولاد (اولاد سے مراد یہاں صرف نسبی اولاد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد برادری,قوم کی افرادی قوت ہے اس قوت کے بنیاد پر یہ دعوی کرنا کہ اللہ کے قانون کی اب ضرورت نہیں رہی اور اس طاقت کو صرف ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استعمال کرنا انسانی معاشرے کی بربادی کی بنیادی وجہ ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے کو اس بربادی سے نکالنا چاہتے ہیں تو ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اپنا تعلق اللہ سے مضبوط اور سچ کے بنیاد پر استوار کرے طاغوتی اور دنیاوی حکمرانوں کی پیروی چھوڑے اور رب العالمین سے اپنا تعلق مضبوطی سے قائم کرے اللہ سے سچا تعلق کے بارے میں ارشاد ہے”جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل گیا وہ اپنے رب کے نور پر قائم ہے۔“یعنی روشنی و ہدایت اس کے سامنے ہیں گویا کہ مسلمان جس کے دل میں اللہ کی محبت و عظمت,اس کی ہیبت  جلال راسخ ہو جائے یہی ایک مسلمان کی کامیابی ہے اللہ سے اس تعلق کے نتیجے میں معاشرے کا ایک ذمہ دارفرد وجود میں آئے گا اس کی زندگی کے تمام اعمال و افعال اللہ کے احکامات اور قوانین کے تابع ہو جائے گے اللہ سے تعلق کے اثرات عبادات ,معاملات اور انسانوں سے باہمی تعلقات پر  ظاہر ہو نگے۔اللہ سے یہ سچا اور مضبوط تعلق ہی انسان کو کامیاب انسان بنائے گا۔اس تعلق کے ذریعے ہی وہ ایک فلاحی معاشرے کو قائم کرنے میں کامیاب ہو نگے۔  

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں