نیا سیاسی اتحاد اور عوام کی یاد داشت

Spread the love

تحریر-اوصاف شیخ

۔۔۔۔
میں اس پر اکثر حیران ہوتا ہوں اور پریشان بھی یہ بات ہی پریشانی کی ہے کہ پاکستانی عوام کس قدر جلد بھول جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس نے کیا کیا ۔۔۔۔ یہ بھول ان سے صرف سیاست میں ہوتی ہے بالخصوص اپنے سیاسی قائدین کے حوالے سے اور یہ بھلکڑ قوم اپنی اس خامی کا خمیازہ بھی اٹھاتی ہے۔ نقصان بھی اٹھاتی ہے اور پھر یہ قوم پوچھ رہی ہوتی ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے ہماری بھوک ۔ ہماری محرومیاں کیوں نہیں مٹ رہیں       مسائل تو تب ختم ہوں بھوک اور محرومیاں تو تب مٹیں نا جب ہم من حیث القوم یہ سوچیں کہ ہمارے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو کیوں اور کون کر ریا ہے کس کس نے کیا ہم جب عقل پر باندھی گئی گرہیں اور آنکھوں پر باندھی گئی پٹی خود کھولیں گے اور ایسا کرنے کو ہم تیار نہیں اور جب ہم ایسا کرنے کو تیار نہیں تو مسائل  ختم ہوں گے نا بھوک اور محرومیاں۔۔۔ ایک ذرا سا دھیان ۔ ایک ذرا سی کوشش حقائق کو آشکار کر سکتی ہے اور وہ سب حقائق وہ سب چہرے وہ سب ادارے نظر آنے لگیں بے جو ہماری محرومیوں ہمارے مسائل کے ذمہ دار ہیں یا ہمارے خیر خواہ ہیں       ہم جن لوگوں سے اس وقت مہنگائی ۔ مسائل ۔ محرومیوں کے ختم کرنے کے مطالبات کے پردے میں مسائل اور محرومیاں بانٹنے والوں کے نعروں پر پھر کمر کس رہے ہیں ہم جن لوگوں سے دو سال۔میں چالیس پینتالیس سال کا حساب مانگ رہے ہیں کیا اس ملک کے مسائل کے ذمہ دار وہ ہیں یا چالیس پینتالیس سال تک ملک پر حکمران رہنے والا طبقہ ؟ ہم کم سے کم اتنا ادراک تو کر لیں کہ ہمیں منجھے ہوئے چال باز جو پھر اپنی غلطیوں ۔ اپنی کرپشن ۔ اپنی نا اہلی اور ملک و قوم سے بے وفائی کے بعد بھی استعمال کرنے نکل رہے ہیں کیا وہ حق اور سچ پر ہیں ؟ کیا واقعی وہ ملک و قوم کے لیئے پریشان ہیں یا صرف اپنی غلطیاں چھپانے ۔ کرپشن کا مال بچانے اور این آر او حاصل کرنے کے لیئے یہ سب ڈرامہ شروع کر رہے ہیں ۔ بھولے بھالے عوام کیوں نہیں سمجھتے کہ جن کی اولاد پاکستان کو اپنا ملک نہیں مانتی ۔ جن کی جائیدادیں اور مال بیرون ملک پڑا ہو ۔ جن کی عیدیں لندن میں گزرتی ہوں جو پاکستان میں سزایافتہ ہو اور بیماری کے علاج کے بہانے باہر جائے علاج کروانے کی بجائے ملک مخالف فوج مخالف بیان دے اس کی بیماری جھوٹ ثابت ہو چکی ہو اس کے دو سالہ بیانات اٹھا کر دیکھ لیں ہر بیان دوسرے سے مختلف نظر آئے گا ۔ جس کی بھارت نوازی کے ثبوت سامنے آ چکے ہوں جو وہ وعدے کرتے ہوں جو اپنے تین تین ادوار میں نہ کر سکے ہوں وہ لندن بیٹھ کر ملک کی مخالفت کر کے پاکستان میں کیا انقلاب لائیں گے       کیا عوام نواز شریف کے بیٹوں کو بھول گئے جنہوں نے پاکستان کو اپنا ملک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ کیا عوام  نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار کو بھول گئے جو وزیر خزانہ تھا اور وزیر ہوتے ہوئے ہوا کا رخ بدلتے دیکھ کر ملک سے فرار ہوگیا جو نواز شریف کا پیسہ سنبھالنے کا سہولت کار بھی ہے اور خود بھی بڑا کرپٹ ہے ۔ کیا لندن تو کیا میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیدادنہیں ۔۔۔ کا دور’ عوام بھول گئے ؟        عوام تو یہ بھی بھول چکے ہیں شاید کہ اپنی کرپشن کی کمائی بچانے کے لیئے بنائے جانے والے اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس دور سے قبل گزشتہ کتنے سال سے مسلسل حکومت میں رہے ۔ بیس سال سے تک مسلسل منسٹر انکلیو اسلام آباد کے سب سے بڑے بنگلے پر قابض رہے ۔۔۔۔ کمیٹیوں کی چئیرمین شپ میں وفاقی وزیر کا پروٹوکول اور مراعات لیتے رہے اور ہمیشہ ان کے جںوٹ موٹ کے تحفظات بھی رہے جو عوام کو بےوقوف بنانے کو ہوتے تھے۔۔۔ اس دور میں تو مولانا پینتالیس لاکھ کی صرف لسی ہی پی گئے تھے ان کو بھی تو اتنے عرصہ بعد اس حکومت نے باہر نکالا وہ بھی تو تڑپیں گے اور مولانا تو ویسے بھی اس وقت اپنی خدمات برائے احتجاج و جلوس تیار رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی گزشتہ ریلی نما دھرنا یا دھرنا نما ریلی کے آخر میں نواز شریف کو بغرض علاج باہر بھجوا دیا گیا جہاں وہ اسپتال کی بجائے ریستورانوں میں اپنا علاج کروا کر اب فون پر ملک میں انارکی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ پاکستانی عدالتوں کی جانب سے وہ اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں       موجودہ حکومت سے عوام کو بڑا مسلہء مہنگائی سے ہے اور یہ بہت اہم مسلہء ہے گو یہ ماضی کی نااہلیوں اور کرپشن کا نتیجہ ہے لیکن اسے اب ٹھیک تو حکومت نے کرنا ہے یہ ٹھیک ہے کہ بڑے بڑے منصوبے بن رہے ہیں ملک کو لاحق خطرات سے احسن طریقے سے نمٹا جا رہا ہے مسائل کے دیرپا حل کی کوششیں جاری ہیں لیکن عوام کو اس سے غرض نہیں ۔ موجودہ مہنگائی جو دو طرح کی ہے اس نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں ایک تو حکومت کی طرف سے مہنگائی ڈالر اور تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی دوسری گذشتہ چالیس سال کے عادی تاجروں کی مصنوعی مہنگائی دونوں پر حکومت قابو نہیں پا رہی اور یہی اس کے لیئے سب سے بڑا مسلہء ہے ۔ یہ سب گڈ گورننس نہ ہونے کے سبب ہے اس حکومت کے خلاف بھی اہل ہوس پرانے ہتھیار اور وار استعمال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ عمران خان کو اس وقت مہنگائی پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں