وہ بھی انسان ہیں !

Spread the love

ازقلم:ابنِ جمیل۔محمدخلیل

حافظ صاحب کو تقریباً دس سے بارہ سال بیت چکے ہیں اپنے علاقے کی مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے یہ امامت کے ساتھ ساتھ مسجد کی صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں یہاں تک کے یہ مسجد کے ٹوئلٹ تک خود صاف کرتے ہیں۔یہ بعداز نماز فجر تقریباً ستر سے اسی بچوں اور بچیوں کو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے ہیں یہ نماز کے لیے دو منٹ تاخیر سے پہنچنے پر نمازیوں کی تنقید بھی برداشت کرتے ہیں اس کے باوجود حافظ صاحب کا ماہانہ وظیفہ محض بارہ ہزار روپے ہے۔یہ شادی شدہ بھی ہیں اور خدا تعالی کے فضل سے تین بچوں کے باپ بھی۔سوال یہ ہے کہ حافظ صاحب اس انتہائی محدود وظیفے میں گزارہ کیسے کر رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب ملاحظہ فرمائیے اور اندزہ کیجیے کہ ہم کتنے بے حس اور بے قدرے لوگ ہیں۔حافظ صاحب امامت کے ساتھ ساتھ سرجیکل(میڈیکل انسٹرومینٹس) کا کام کرتے ہیں یہ صبح تقریباً سات بجے خراد مشین( لیتھ مشین) پہ کھڑے ہو کے کام کا آغاز کرتے ہیں اور مسلسل چھ گھنٹے کھڑے رہ کر کام کرتے ہیں اس دوران ان کے ہاتھ اور کپڑے گندے اور میلے ہو جاتے ہیں(جو طالب علم کی خام رائے کے مطابق کسی امام مسجد کے لیے مناسب نہیں ہے) نماز ظہر کے لیے یہ جلدی سے کپڑے تبدیل کرتے ہیں اور مسجد روانہ ہو جاتے ہیں۔یہ نماز سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنے کپڑے تبدیل کرتے ہیں اور پھر کام شروع کر دیتے ہیں نماز عصر تک دوبارہ یہی کام کرتے ہیں یہ پھر نماز مغرب اور عشاء کے بعد بچوں کو قرآن پاک کے ٹیویشن وغیرہ پڑھاتے ہیں۔یوں حافظ صاحب کی دن رات کی محنت و مشقت کے بعد امامت کے وظیفے سمیت ایک ماہ کے محض پچیس سے تیس ہزار روپے بنتے ہیں۔
محترم قارئین! توجہ طلب بات یہ ہے کہ جس سوسائٹی,علاقے یا محلے میں بااثر کاروباری شخصیات ہوں جن کی ماہانہ آمدن بھی لاکھوں میں ہو جو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ماہانہ دس دس ہزار روپے فیس ادا کرتے ہوں اور جن کے بچوں کی شادی تو درکنار برتھ ڈے بھی ہوٹلوں میں منعقد ہوتے ہوں اور ستم ظریفی یہ کہ وہ کاروباری شخصیات امام صاحب کے مقتدی بھی ہوں۔ان کی موجودگی میں امام صاحب کو اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا آئمہ مساجد انسان نہیں؟کیا ان کا من نہیں کرتا کہ ہمارے بچے بھی معیاری تعلیم حاصل کریں؟ 
المیہ یہ ہے کہ ہماری سیانی قوم بھی پیسہ وہاں خرچ کرتی ہے جہاں واہ واہ ہو۔ مثال کے طور پر مسجد کے ٹوئلٹ بہترین ہوں گے اچھا بھلا کام چل رہا ہوگا۔رانا صاحب,مرزا صاحب یا حاجی صاحب ان کو مسمار کروائیں گے اور دوبارہ ٹائیل پتھر لگوا کر تعمیر کر دیے جائیں گے۔مطلب کے جہاں دس روپے صرف کرنے ضرورت نہیں تھی وہاں پچاس سے ساٹھ ہزار روپے داغ دیے جائیں گے اس کے برعکس چاہے امام مسجد ہمارے لیے,ہمارے بچوں کے لیے اور اہل علاقہ کے لیے دن رات محنت کرے اور چاہے ان کے گھر کا چولا ٹھنڈا پڑا ہو اس سے کوئی سروکار نہیں بس حاجی صاحب, ملک صاحب اور چوہدری صاحب کی بلے بلے ہونی چاہیے۔ اگر ہم مسجد کی بناوٹ اور سجاوٹ پر لاکھوں روپے خرچ کر سکتے ہیں تو کیا ہم امام صاحبان کا پندرہ بیس ہزار روپے وظیفہ نہیں بڑھا سکتے؟
خدارا ! ان اللہ کے بندوں کا بھی خیال کیجیے وہ بھی انسان ہیں اسی دنیا کا حصہ ہیں۔بلاشبہ اللہ تعالی نے ان کو اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب کیا اور میرے ناقص خیال کے مطابق یہ لوگ اپنے فرائض بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ دین کی خدمت پر متعین ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی خدمت کریں کیوں کہ دیکھا جائے تو یہ سفید پوش اور عظیم لوگ ہمارے بچوں کے بھی خادم ہیں۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں