مسلکی منافرت کی آگ

Spread the love

تحریر ذیشان نور خلجی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، لعنتیں سمیٹنے چلے تھے اور بات اب لاشیں اٹھانے پر آ پہنچی ہے۔ دل چاہتا ہے آپ لوگوں سے کہوں کہ دعا کریں اللہ ہمیں خیر و عافیت سے رکھے لیکن کیا ہے کہ وقت اب دوا کا ہے نہ کہ صرف دعا کا۔ ہم خالی خولی باتوں سے اب اس مصیبت کو نہیں ٹال سکیں گے ہمیں کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری بھی خود ہماری اپنی ہے نا کہ کسی اور کی۔ یہ ذمہ داری نہ تو ریاست کی ہے نہ ہی کسی محکمے کی اور نہ ہی اہل جبہ و دستار کی۔ ہمیشہ سے ہمارا طریق رہا ہے  ہم سارا ملبہ کسی دوسرے پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ روش ہم کب ترک کریں گے؟
اب کی بار ایک رٹی رٹائی گردان سننے کو مل رہی ہے کہ فلاں محکمہ ملک میں اس مسلکی فساد کا باعث بن رہا ہے اور اندر کی یہ بات وہ لوگ بتا رہے ہیں کہ دارالحکومت بھی شاید ہی ان لوگوں نے دیکھ رکھا ہو۔ اگر ہم ان کی بات درست بھی مان لیتے ہیں کہ سازش کہیں اور تیار کی گئی ہے۔ لیکن کیا اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف جلوس ہم لوگ خود نہیں نکال رہے؟ یا سرکاری ملازمین کی طرح ہمیں اپنی مرضی کے برخلاف گھروں سے نکال کر جلسے، جلوسوں میں شرکت پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ کیا تکفیریت ریاست کی زبان ہے؟ یا ہم خود ہی ایسے پکے ٹھکے مسلمان بن چکے ہیں کہ اپنے سوا باقی سب ہمیں کافر ہی نظر آتے ہیں؟ کیا ریاست یا کوئی محکمہ ہمیں اکساتا ہے کہ برسر منبر معتبر ہستیوں کی بے ادبی کرنے کو اتاؤلے ہوئے جائیں؟ یا ہمارے مغلظات بکنے سے واقعی کسی کی شان میں کمی آ جائے گی؟ اگر کسی کے کافر کہنے سے ہم کافر نہیں ہو سکتے تو یقین مانیے، کسی برگزیدہ ہستی کی شان میں بے ادبی کرنے سے بھی ان کی شان کم نہیں ہو گی۔ ہاں، ہم ضرور بالضرور خدا کے ہاں مجرم گردانے جائیں گے۔ لیکن یہ باتیں ہمیں سمجھائے کون؟
آج ہر طرف وہی لوگ نظر آ رہے ہیں جو مسلمانوں میں پھوٹ کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ اور یہ بات کہتے ہوئے میں بالکل نہیں ہچکچاؤں گا کہ اس کار خیر میں ریاست یا کسی محکمے کا ہاتھ ہو یا نہ ہو، لیکن ہمارے معزز علماء اکرام کا ہاتھ سب سے اوپر ہے۔ ہم جیسے عام لوگ تو یہ سمجھتے تھے کہ ہم صرف اپنے اعمال کے لئے ہی جواب دہ ہیں جب کہ اہل مذہب کا ماننا تھا کہ اگر آپ کسی برائی کو روکتے نہیں تو پھر آپ بھی اس میں قصور وار ہیں۔ اور آج دو مہینے ہونے کو آئے ہیں کسی ایک طرف کی کوئی ایک بھی صاحب الرائے ہستی سامنے نہیں آسکی جو  منبر کی دشنام طرازیوں اور جلوس کی طوفان بدتمیزیوں کی مذمت کر سکے۔ کیا یہ معزز لوگ مسند پہ بیٹھے صرف ہمارا تماشا دیکھ رہے ہیں؟ کیا انہیں اندازہ نہیں کہ فرقہ واریت کی یہ آگ ایک دن ان کے نشیمن بھی جلا دے گی؟ یہ لوگ کیوں آگے بڑھ کر اس آگ پر پانی نہیں ڈال رہے؟ کیا عاشورہ سے لے کر چہلم تک کوئی ایک بھی ایسا عالم دین سامنے آ سکا ہے جو منافرت کی بجائے مل بیٹھنے کی بات کرے؟ کہاں گئے وہ علماء اکرام، جو امت کے اتحاد کے نغمے گایا کرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ مولوی حضرات جن کی داڑھیاں امت کے غم میں رو رو کر تر ہو جایا کرتی تھیں؟
یقین مانیے، قصور اہل مذہب کا بھی نہیں، قصور سراسر ہمارا اپنا ہے۔ کیوں کہ کوئی ہمیں مجبور نہیں کر سکتا کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے نفرت کریں یہ خرابی سراسر ہماری خود کی پیدا کردہ ہے اور ہم نے خود ہی اس کو ختم کرنا ہے۔ وقت سرک رہا ہے اور ہم بربادی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس فساد فی الارض سے مذہب کا لبادا نہ اتارا اور اپنی روش ترک نہ کی تو پھر یاد رکھیے مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کی صورت میں ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، بات تو بہت دور تک جائے گی۔
جاتے جاتے ذہن میں ایک سوال اٹھا ہے، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کی صورت میں اس ملک پر مسلط ہوئی لعنت کو کیا ہم لوگ واقعی بھول چکے ہوئے ہیں؟

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں