جنگ اخلاق کو مارتی ہے مگر!

Spread the love

تحریر:۔ فضل عظیم قریشی

کہتے ہیں کہ بزرگوں کی باتیں پتھر پر لکیر ہوتی ہیں ہم نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جنگ اخلاق کو مارتی ہے۔ جنگ کے بعد جانی و مالی نقصانات اٹھانے کے ساتھ معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہوجاتاہے کیونکہ جنگ زدہ معاشرے کو سب سے زیادہ فکر زندگی اور بقا کی لاحق ہوتی ہے جب کہ بچوں اور خواتین کے لئے نان نفقہ کی فکر علیحدہ سے بندے کی زندگی کو جھنجھوڑتی ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں دو دفعہ افغانستان کو آگ کے شعلوں میں جلتے ہوئے دیکھا ہے پہلی مرتبہ 1979 میں سویت یونین کے ہاتھوں جب کہ دوسری مرتبہ 2001 میں امریکہ کے ہاتھوں۔ دونوں سپر پاورز نے افغانستان میں پنجہ آزمائی کی ہے اور دونوں مرتبہ افغانستان کے لوگ مہاجر بن کر پاکستان آئے تھے۔ ان کے آنے سے اس ملک میں کئی طرح کی بدعنوانیاں جنم پائیں اور جرموں کی ایک نئی بستی آباد ہوئی۔ قصورافغانوں کے روئے کا نہیں جنگ کا تھا جس نے افغانیوں میں معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی پستی پیدا کی تھی۔ حالیہ دنوں میں افغانستان نے اشرف غنی بابا کے دوبارہ انتخاب اور کامیابی کے بعد جو اخلاقی مظاہرہ شروع کیا ہے بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ عشروں تک جنگ زدہ رہنے والے ملک کے باسی اتنی جلدی سے کیسے اپنے رویوں میں تبدیلی لاکر ایک تباہ حال معاشرے کو اخلاقی اقدار سے روشناس کرا رہے ہیں۔

2001 میں حامد کرزئی کی حکومت کے قیام سے لے کر آج ڈاکٹر اشرف غنی صاحب کے دوسرے دو ر تک افغانستان سے کرپشن اور رشوت خوری کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ اشرف غنی صاحب نے دو مرتبہ دل بڑا کرکے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مفاہمت اختیار کرکے افغانستان کو برے دنوں سے بچانے کی حتی الوسع سعی کی ہے حالانکہ قبل از جنگ افغانستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ ایکدوسرے کو ناقابل برداشت سمجھ کر تشدد کا راستہ اختیار کیا جاتا تھا جس کا سارا فائدہ اس سرزمین کے دشمنوں کی جولی میں جاپڑتا تھا۔ گوکہ اپنے ہاں بھی اس مفاہمت کی سب سے بڑی علامت آصف علی زرداری صاحب ہیں جنہوں نے بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد میاں نواز شریف جیسے کٹر سیاسی مخالف کو معاف کرکے اپنی حکومت میں حصہ دیا لیکن افغانستان کی تاریخ اس حوالے سے حوصلہ شکن رہاہے۔ مگر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ نے خلاف توقع دو مرتبہ ایسا رویہ اپنایا جس نے افغانستان اور بالخصوص پختون دشمنوں کی امیدوں کو خاکستر کیا۔

14 مئی 2020 کو رمضان کے مہینے میں اس وقت جب ساری دنیا کرونا کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے افغانستان میں امن کے دشمنوں نے اتاترک ہسپتال میں بچوں کی پیدائش کے وارڈ پر حملہ کرکے ان خواتین کو شہید کیا جنہوں نے چند گھنٹے قبل بچوں کو جنم دیا تھا اور یوں 20 سے زائد بچے ایسے زندہ رہے جن کی مائیں ان کی ولادت کے چند گھنٹوں بعد شہادت پاکر اس دارفانی سے رخصت ہوئی تھیں۔ اسی اثناء میں فیروزہ یونس عمر ایک بہن جس نے اپنے تین ماہ کے بچے کو گھر پر چھوڑ کر ہسپتال پہنچی اور کئی بچوں کو دودھ پلاکر ایثار کی ایک عظیم مثال قائم کی۔ ان کی تقلید کرتے ہوئے ایک دوسری بہن عزیزہ کرمانی نے بھی اپنے بچے کو گھر چھوڑ کر اس کار خیر میں شامل ہوئی اور اس طر ح دونو ں خواتین نے مشترکہ طورپر ان 20 بچوں کو دودھ پلاکر ان کی جانوں کو بچائیں جو فقط اس دنیا میں چند گھنٹوں کے مہمان تھے۔

29 اگست 2020 کو ایک دوسری مثال قائم ہوئی جس نے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو حیران کردیا جب ایک شادی شدہ باہمت دوشیزہ کمرہ امتحان میں چارماہ کے بچے کے ساتھ داخل ہوکر امتحان دینا چاہا۔ اس موقع پر محمد مرحوم صاحب ایک ممتحن اور معلم نے اس کے بچے کو گود لے کر اسے فیڈر کے ذریعے دودھ پلانا شروع کیا اور یوں اس کی ماں جو حصول تعلیم کی شائق اور ایک بہتر مستقبل کی متلاشی تھی بڑی بے فکری کے ساتھ امتحان دینے میں کامیاب ہوئی۔ گذشتہ دنوں کسی قوم کے ساتھ ایک اجتماعی ناانصافی کا واقعہ پیش آیاتھا جس کے تصفئے کے لئے افغان آرمی چیف نے بذات خود جاکر ان کے درمیان کھڑے ہوکر انہیں ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کروائی اور تب تک ان کے درمیان رہے جب تک وہ قوم مطمئن نہیں ہوئی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنا داناؤں کا کام ہے شائد سختیاں سہہ کر افغان قوم میں وہ شعور اور آگاہی آگئی ہے کہ اتحاد واتفاق، صبر، ایثار اور قربانی کے بغیر قوم و ملک کی ترقی ناممکن ہے۔اس لئے انہوں نے اپنے روئے میں تبدیلی لاکر اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ٹھان لی ہے۔ گوکہ اپنے ہاں ہم مصیبت کے وقت تو معاونین کی قطاریں دیکھتے ہیں لیکن بعد میں اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کے درپے ہی رہتے ہیں جو نیک نامی کے بجائے ہمارے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ 26

اگست 2020 کو پاکستان میں موجود افغانی بھائی جب اپنے دیس کا یوم تاسیس مناتے ہوئے باغ ناران حیات آباد، پشاورمیں جمع ہوئے تھے ہمارے ایک دوست نے افغان قوم کے بارے میں کچھ ناپسندیدہ الفاظ کہے جو ہمیں گوارا نہ کیا اس لئے اسے سمجھانے کے لئے چند سوالا ت پوچھے ہمارا پہلا سوال تھا کہ کیا آپنے کبھی سنا ہے کہ کسی افغانی نے مسجد سے چپل چوری کی ہیں؟ دوسرا سوال کیا آپنے کبھی سنا ہے کہ افغانستان میں افسران بالانے کرپشن کرکے قوم کو بدنام کیا ہے؟ تیسرا سوال کیا آپنے کبھی سنا ہے کہ افغانستان میں قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب کے بعد ارباب اختیار نے ریلیف کے پیسے بٹورکر اپنی تجوریاں بھر لی ہیں؟ چوتھا سوال کیا اتنے مصائب اور مشکلات کے باوجود سنا ہے کہ کسی افغانی نے اپنے ملک افغانستان کے خلاف گالیاں دی ہوں یا افغانستان سے نفرت کی ہو؟ لیکن وہ پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈھیر ہوگئے اور مان لیا کہ واقعی اگر کوئی دوسری قوم افغانیوں جتنے مشکلات سے دوچار ہوجائے تو شائد مرتے دم تک سنبھل نہ سکے۔

اس نے تمام سوالوں کا جواب ایک عدد ”نہیں“ میں دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے سوالوں نے ہمیں چکراکر رکھ دیا۔ ہماری دعا ہے کہ ساری افغان قوم کا یہی جذبہ جاری وساری رہے اور پیرائے اول میں لکھے گئے بزرگوں کا قول دوسرا رخ لے کر افغان قوم اخلاق کا نمونہ بن کر ایسا ہوجائے کہ جنگ اخلاق کو مارتی ہے مگر افغان قوم نے اس کو تبدیل کرکے اپنے آپ کو جنگوں کے باوجود سدھار لیاہے۔ اللہ کرے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں، امن وامان کا ماحول قائم ہو اور ان کا اتحاد واتفاق ساری دنیا کے لئے مثالی نمونہ ثابت ہوکیونکہ جب بھی افغانستان بہ لرزاں ہو پاکستان میں خوف طاری اور بدامنی جنم لیتی ہے جو عشروں تک جاری رہتی ہے۔ آخر میں پشتو کا ایک شعر سرزمینِ افغانستان کو بطور نذرانہ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں کہ۔ ”خدایہ کابل دامن کورکڑے۔۔۔ چی پختانہ ورتہ پرانستے تنڑئی زینہ“

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں