سماجی فاصلہ تعلیمی اداروں میں ناگزیر

Spread the love

تحریر اکرم شاہ.

یہ وہ سوال ہے دوستو جو ہر بندے کے کے ذہن میں ابھر رہا ہے. واقعی اس وائرس کے اختتام کے بارے میں کچھ معلومات سے نابلد لوگوں نے دوسروں کے اذہان میں ڈال دی ہے کہ کرونا وائرس ختم ہو گیا بس یوں سمجھے کہ اسکا وجود اب اپنے دیس میں بالکل نہ ہونے کے برابر ہے. دوسری طرف اقوام عالم میں بھی اپنی دیس کی مثال دی جاتی ہے کہ کرونا ختم ہو گیا کم از کم اس کی وار اس حد تک نہیں جس حد تک پیشگوئیاں کی جا رہی تھی. دوسری طرف اگر ہم غورو فکر کریں تو دن بہ دن اموات میں اضافہ دیکھی جا رہی ہے. ان اموات کو کرونا سے مشروط کیا جاتا رہا ہے تو ان باتوں کا ہم کیا مطلب سمجھے کہ اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور کرونہ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر جو کہ وضح طور پر حکومت سے عائد ہیں ان کی تعمیل کہیں نظر نہیں آتی.شادی بیاہ اور دوسرے سیاسی اجتماعات پہلے سے زیادہ اب و تاب سے جاری ہیں. ایک دن سوشل میڈیا پر ایک خبر پر  نظر پڑی تھی کہ انتظامیہ کی طرف سے راہگیروں پر ماسک کے استعمال کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کی جارہی تھی یہ ڈپٹی کمشنر غزر جناب ثناءاللہ خان صاحب کی طرف سے احکامات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی ان کی نگرانی پر معمور تھے. اس عمل سے بہت زیادہ خوشی محسوس ہوئی .آئندہ بھی ااس طرح کے فرض شناسی کی مثالیں قائم ہونگی تو لوگوں میں اس خطرناک وبا سے محفوظ رہنا بھی ممکن ہوگا.  اس وبا کے خطرے کے پیش نظر مدارس کی بندشوں سے جہاں طلباء وطالبات کا علمی عمل بہت زیادہ متاثر رہا. بچوں کی تعلیمی عمل کی بندش سے والدین ان کی مستقبل کے حوالے سے فکرمند تھے اس کی کمی اور تعلیمی عمل کی روانی کی خاطر اسکول  کھول دیے گئے ہیں. اسکول کو سب سے حساس جگہ تصور کیا جاتا رہا ہے کیونکہ بچوں کے ایک جگہ زیادہ  جمع ہونے سے اس وبا کے پھیلنے کا اندیشہ بہت زیادہ ہے. اب جب اس کو حساس ترین جگہ قرار دینے کے بعد والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کو صرف اسکول کی حد تک سماجی فاصلے کی تلقین نہیں کرنی چائیے بلکہ گھر پر بھی چاہیے کہ وہ ان اصولوں کی پیروی کریں.اس میں حکومت کی طرف سے اسکولوں میں سماجی فاصلے اور ان تمام تدابیر جو  اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کارگر ثابت ہوتے ہیں ان پر سختی سے عمل کروائی جارہی ہے. اس ضمن میں والدین اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں. اسکول انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں تاکہ مستقبل کے معمار اس آزمائش کی گھڑی میں اپنی علمی عمل کو جاری رکھ سے. زرا سی بے احتیاطی نہ صرف فرد واحد کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پورے تعلیمی عمل سے منسلک بچوں اور اساتذہ کو بھی متاثر کر سکتی ہے. کئی بار یہ مشاہدے میں آگئی ہے کہ بچوں کو ماسک کے بغیر اسکول بھیجا جا رہا ہے جو کہ ان حالات میں  اچھی عمل نہیں ہے. والدین جب بھی اس حساس جگے کا وزٹ کریں تو پھر ماسک اور سماجی فاصلے کو ملحوظ نظر رکھیں. خاص طور پر ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے سے مکمل اجتناب کریں. تاکہ کسی دوسرے شخص کو پریشانی کا سامنا نہ ہو جو اس کوشش میں رہتا ہے کہ جو بھی احتیاطی تدابیر ہیں ان پر عمل پیرا ہو. چند گزارشات کو ناظرین اور قارئین کے سامنے رکھنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ اسکول اور بچوں کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ وہ اپنی تدریسی سرگرمی کو بغیر کسی پریشانی اور دقت کے جاری رکھ سکے. بحیثیت معلم معاشرے میں آگاہی کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا ہمارا فرض ہے. اسکولوں میں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ان تدابیر پر عمل کروائی جارہی ہے تاکہ نونہال بچے متاثر ہونے سے بچ جائے. اس حوالے سے انتظامیہ مخصوص اسکولوں کا معائنہ کررہی ہے اور ان کو یہ باور کروائی جارہی ہے کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں. اس ضمن میں والدین کی تعاون بے لازمی ہے. شکریہ. 

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں