“فرشتے کے بھیس میں چھپا ہوا شیطان”

تحریر. ذیشان نور خلجی

یہ کہانی ایک ایسے غریب بچے کی ہے جس کی بہن ایک شیعہ جاگیردار کے پوتوں کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے لیکن اس کی پولیس میں داد رسی نہیں ہوتی۔ پھر اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کو ایک دوسرے مسلک کے مولوی صاحب برآمد ہوتے ہیں جو اپنی بیٹی کی ہم عمر، جنسی تشدد کا شکار اس بچی کو نکاح کا سہارا دینے کے ساتھ ساتھ اس کے بھائی یعنی جمال انصاری عرف چٹا جولاہا کی مدد کرنے کی بھی ٹھانتے ہیں۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی کہہ لیجئے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق پھر اسی چٹا جولاہا کو مقامی وڈیرے سے بھی زیادہ ہوس کے مارے ہوئے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے لوگوں کا، جو مذہب کا مقدس لبادا اوڑھے ہوئے درحقیقت حیوانیت کا ننگا ناچ رچا رہے ہوتے ہیں۔
کہنے کو تو یہ صرف ایک کہانی ہی ہے لیکن اس میں گزرے برسوں کی پوری تاریخ سموئی ہوئی ہے جب ضیاء الحق شہید نے وطن عزیز میں اسلام کے نام پر مسلکی انتہاء پسندی اور طالبانائزیشن کی داغ بیل ڈالی تھی۔ اور جس کا خمیازہ مختلف صورتوں میں ہم پاکستانی آج بھی بھگت رہے ہیں اور اللہ جانے، آنے والی کتنی ہی نسلیں اس اداسی کی بھینٹ چڑھیں گی۔
جہاد جیسے مقدس اسلامی فریضے کی آڑ میں اہل مذہب نے یہاں کیا کیا گل کھلائے تھے؟ یہ ناول ہر اس فرد کے پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے جو یہ تو سمجھتا ہے کہ مذہب کے نام پر مساجد کے سوا یہاں جو بھی ادارے وجود میں آئے تھے ان میں کچھ غلط ضرور ہے، لیکن جمال انصاری کی آپ بیتی سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان معزز ہستیوں کے شر سے پھر خدا کے گھر یعنی ہماری مساجد بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ دراصل جب ہم محلے کی مسجد میں یہ منظر دیکھتے ہیں کہ کوئی مسلک وہاں اجارہ داری کی نیت سے حملہ آور ہوتا ہے تو پہلے سے قابض مسلک اس کی راہ میں مزاحم ہو جاتا ہے تو ہم یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ہر دو مسالک مسجد میں اللہ اور رسول ﷺ کا نام لینے کی غرض سے ہی جھگڑ رہے ہیں تو پھر آخر لڑائی کس بات کی ہے۔ دراصل پہلے سے قابض مسلک کے ماننے والے بھی مسلمان ہی ہیں جب کہ حملہ آور مسلک کے ماننے والے بھی مسلمان ہیں اور مسجد بھی تو خدا کا گھر ہے یہاں نماز پڑھنے، پڑھانے والے بھی سبھی مسلمان ہی تو ہیں اور ہر دو گروہ یہاں سوائے عبادات اور مذہبی رسومات کے اور کچھ کرنا بھی نہیں چاہتے تو پھر یہ تماشا کس بات کا ہے؟ اس جیسے بہت سے سوالات، کہ جو ہم اپنے آپ سے تو پوچھتے ہیں لیکن کسی دوسرے مسلمان سے پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتے، ناول میں اسی قسم کے چبھتے ہوئے سوالات کو اٹھایا گیا ہے اور پھر ان کے خاطر خواہ جوابات بھی دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول میں جمال انصاری کی صورت میں ایک ایسا جیتا جاگتا کردار سامنے لایا گیا ہے کہ جو حالات کے جبر سے مذہبی مدرسے میں پناہ لیتا ہے اور وہاں اسے اساتذہ کی طرف سے نفسیاتی اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے پھر اپنی مسخ شدہ شخصیت کے ساتھ جب وہ خود مسند نشین ہوتا ہے تو کیا گل کھلاتا ہے، اور معاشرے پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں؟
دوستو ! حقیقت تو یہ ہے کہ اس ناول میں صرف تاریخ ہی نہیں، بلکہ مذہبی مدارس اور ان کے اساتذہ کی قبیح حرکات کی صورت میں موجودہ حالات کا منظر نامہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ غور کیجیے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی مولوی صاحب نے اپنے معصوم طالب علم کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا ہے تو ہم یہ ضرور سوچتے ہیں کہ دن کے چوبیسوں گھنٹے مساجد اور مدارس میں گزارنے والے، اور قال اللہ و قال الرسول کا ورد کرنے والے دراصل ایسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب کیوں ہو جاتے ہیں؟ ناول میں جمال انصاری کے کردار کی صورت میں دراصل اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ واضح کرتا چلوں کہ نہ تو سبھی مدارس ایسے ہیں اور نہ ہی سبھی اساتذہ کرام ایسے ہیں لیکن آج کے حالات یہ ضرور باور کروا رہے ہیں کہ ان کی قابل ذکر تعداد لائن سے اتر چکی ہے۔ یہ ادارے اور ان کے مسند نشین کیوں بے راہ رو ہوئے ہیں؟ ناول میں تفصیل سے اس نقطے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور شاید اسی باعث ایم کاز اور محترم دوست غیور شاہ ترمذی کا یہ انگریزی ناول پاکستان میں شائع ہونے سے رہ گیا ہے۔ دوستو ! آپ تو جانتے ہیں ہمارے یہاں ایسے تلخ سچ کم ہی ہضم ہوتے ہیں۔ یہاں اظہار رائے کی آزادی تو ہے لیکن صرف ایسے اظہار کی، جس کو مقتدر طبقے کا آشیر باد حاصل ہو۔ لیکن جہاں ان کے جبے زد میں آنے لگتے ہیں، وہیں گستاخ، زندیق اور پتا نہیں کیسا کیسا منجن بکنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن داد کے مستحق ہیں محترم مصنف کہ پاکستانی پبلشرز کے مایوس کن رویے کے بعد بھی وہ مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنا حوصلہ برقرار رکھا اور ناول کو بین الاقوامی ادارے ایمازون کو بیچنے کا قصد کیا اور پھر پہلے مرحلے میں ایمازون نے اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جب کہ بعد میں ناول کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اسے باقاعدہ کتابی شکل میں بھی شائع کر دیا۔ اور اب جب کہ پاکستان میں تو یہ ناول کہیں نہیں مل رہا لیکن ایمازون پر سافٹ فارم (kindle format) اور ہارڈ کاپیز کی صورت میں دستیاب ہے۔
ناول کا موضوع اور متن تو دلچسپ ہے ہی، لیکن اسے بہت آسان اور عام فہم انگریزی میں لکھا گیا ہے شاید اسی باعث دو ہفتے کی قلیل مدت میں اسے عوامی مقبولیت حاصل ہو گئی ہے۔ جب کہ میں تو ذاتی طور پر منتظر ہوں کہ کب فاضل مصنف اس ناول کا دوسرا حصہ بھی مکمل کر کے ایمازون کو بھیجتے ہیں اور کب ہم جیسے قدر دان ان کے قلم سے مزید فیض یاب ہوتے ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments