عظمت ِ الٰہی کا احساس

تحریر ۔ مولانامحمداکرم اعوان

طب کا ایک اصول ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بھی زہر نہیں ہے‘ اُس کی مقدار کا فرق ہے۔ اب دودھ غذا بھی ہے اوردوا بھی ہے لیکن کسی آدمی کو زبردستی اتنا دودھ پلا دو کہ اُس کا پیٹ ہی پھٹ جائے تو اُس کے لئے وہی زہر ہے۔ جن چیزوں کو ہم زہر سمجھتے ہیں‘ طبیب اُن سے علاج کرتے ہیں اور ایک بہت معمولی مقدار کسی کو کھانے کے لئے دیتے ہیں اور اُس سے شفا ہو جاتی ہے۔ جسے ہم زہر سمجھتے ہیں اگر باجرے کے دانے کے برابر بھی اس کی مقدار کھا لیں تو زہر ہے لیکن اُس کی ایک بہت معمولی مقدار جوطبیب استعمال کراتے ہیں وہ علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح دودھ کی بھی ایک مقدار ہے‘ گھی کی بھی ایک مقدار ہے‘ گندم کی روٹی کی بھی ایک مقدار ہے جو ہم صبح شام کھاتے ہیں۔ اگر یہی بے حساب کھانا شروع کر دیں تو زہر بن جاتی ہے۔ جو حد سے تجاوز کرتا ہے اُس کے لئے غذا اوردوا دونوں زہر بن جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن حکیم کتاب ہدایت ہے لیکن لوگ اس سے بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور اس کے طفیل بہت سے لوگ ہدایت پاتے ہیں‘ اُن کے نورِ یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ نورِ ایمان اُن کے دل میں ہوتا ہے‘ جب کلامِ الٰہی سنتے ہیں‘ قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو اُس میں جو انوارات وتجلیات ذات باری ہیں‘ وہ اُن کے علم میں‘ توفیق عمل میں اضافہ کرتی ہیں‘ یقین وایمان میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ جو لوگ گمراہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا۔ اللہ سے کئے ہوئے وعدے کو توڑ دیتے ہیں۔ ”یوم الست“ کو تمام ارواح انسانی کو یکجا کر کے عہد لیا گیا۔ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں! سب نے کہا کہ بیشک توہی ہمارا پروردگار ہے‘ تو ہی خالق ہے‘ تو ہی مالک ہے‘ تو ہی ہمیں پیدا کرنے والا بھی ہے اور تو ہی زندگی کی ہر نعمت عطا کرنے والا بھی ہے لیکن اللہ سے کیے گئے اس وعدے کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا اُن کو توڑتے ہیں۔
اسلام چند عبادات ہی کا نام نہیں ہے اس کا تعلق انسان کے ہر قول وفعل سے ہے۔ ہر بات‘ ہر کام یا تواسلام کے مطابق ہے یا اسلام کے خلاف ہے۔ عبادات کا اپنا ایک مقام ومرتبہ ہے اور بہت اعلیٰ مرتبہ ہے۔ عبادات توفیق عمل عطا کرتی ہیں۔ عبادات بندے اور اُس کے پروردگار کے درمیان ایک رشتہ‘ ایک کیفیت‘ ایک محبت‘ ایک تعلق قائم کر دیتی ہیں۔ قرآنِ حکیم نے ارشاد فرمایا سورۃ العنکبوت:45کہ”نماز کی باقاعدگی‘ دن میں پانچ باراللہ کے حضور حاضر ہونابے حیائی اور بُرائی سے روک دیتا ہے“کہ ابھی میں ظہر یا جمعہ کے فرائض ادا کر کے فارغ ہوا ہوں اور ابھی چند گھنٹے بعد پھر مجھے عصر کے لئے حاضر ہونا ہے۔ ان چند گھنٹوں کے درمیان وہ جو عمل بھی کرتا ہے‘ اُسے ایک احساس رہتا ہے کہ ابھی میں اللہ کے حضور سے آیا‘ ابھی پھر میری پیشی ہے‘ مجھے پھر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونا ہے تو یہ احساس اُسے بے حیائی اور بُرائی سے بچانے کا سبب بن جاتا ہے۔
ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور بُرائی بھی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نماز صحیح نہیں پڑھتے‘ نماز کے حقوق ادا نہیں کرتے‘ بروقت نہیں پڑھتے یا توجہ سے نہیں پڑھتے‘اُس کے ارکان ادا نہیں کرتے۔ کہیں نہ کہیں کوئی کمی ہے یا ہمارا یہ احساس وشعور زندہ نہیں ہوا کہ نماز اللہ کے روبرو‘اللہ کی بارگاہ میں حاضری کا نام ہے۔قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:مساجدکو اللہ کی بارگاہ کہا گیا ہے اور یہ کسی کو زیبا نہیں ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہو تو لرزاں اور ترساں نہ ہو‘ اسے عظمتِ الٰہی کا احساس نہ ہو‘ اُسے پتہ نہ ہو کہ میں کس بارگاہ میں جا رہا ہوں۔ جس طرح آپ صدر یا وزیراعظم کے دفتر میں جائیں تو آپ پر ایک خاص کیفیت ہوتی ہے‘ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں‘ کپڑے درست کرتے ہیں‘ بال سنوارتے ہیں‘ کوئی چیز خراب تو نہیں ہے‘ کوئی غلط چال نہیں چلتے‘ اونچی آواز میں بات نہیں کرتے‘ ادب و احترام کی ایک کیفیت ہوتی ہے کہ میں اتنے بڑے گھر میں‘ اتنی بڑی ہستی کے سامنے جا رہا ہوں‘ اسی طرح جب اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔انہیں کسی طرح سزاوار نہیں ہے کہ وہ مساجد میں داخل ہوں َسوائے اس کے کہ وہ لرزاں اور ترساں ہوں‘ عظمتِ الٰہی اُن کے ایک ایک عمل سے اور اُن کی ایک ایک حرکت سے ظاہر ہو۔ اب یہ الگ بات ہے کہ آج کے لوگ ایسے دلیر ہوگئے کہ مساجد میں گولی چلا دیتے ہیں اور نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کو شہید کر دیتے ہیں‘ بم بلاسٹ کر دیتے ہیں‘ یہ لوگ کون ہوتے ہیں؟ حد سے گزرجانے والے اور یہ کردارکی گمراہی ہے۔ راستے سے بھٹک جانے والے لوگ۔ فرمایا: بہت سے لوگ اس سے گمراہ ہو جاتے ہیں بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوتی ہے اور کسی کو گمراہ نہیں کرتا سوائے اُن کے‘ جو حد سے گزر جاتے ہیں‘ اللہ سے کیا ہوا عہدتوڑ دیتے ہیں‘ باوجود اس کے کہ وہ پکا وعدہ کر چکے ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اللہ کی زمین پر فساد کا سبب بنتے ہیں۔اللہ کریم اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین!

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments