دین نہیں دوکان خطرے میں ہے

تحریر ذیشان نور خلجی

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ چھیانوے فیصد مسلم آبادی والے ملک میں آپ کے مذہب اسلام کو خطرہ لاحق ہے؟ اگر ہاں، تو پھر آپ کے مذہب میں ہی کچھ خرابی ہے، لہذا بوریا بستر سمیٹیے اور کسی دوسرے مذہب کی پناہ میں چلے جائیے۔ اور اگر آپ کے مذہب میں خرابی نہیں ہے تو پھر یہ ضرور سوچیے کہ اصل خرابی ہے کہاں؟
حالیہ کرک مندر واقعہ کے تناظر میں اس خرابی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کرک میں جو مندر مسمار کیا گیا تھا وہ ایک بے آباد مندر تھا جس کے قرب و جوار میں بھی کوئی ہندو آبادی نہیں تھی۔ بس یہی تھا کہ ہفتے دو بعد کوئی زائرین کی ٹولی وہاں پوجا پاٹ کے لئے آ جایا کرتی۔
تب مقامی علماء اکرام کو اندیشہ لاحق ہوا اور انہوں نے منبر سے ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ یہاں اسلام کو خطرہ ہے اور اس کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ کفر کے ایوان تباہ کر دئیے جائیں۔ پھر سدا کے بے وقوف عوام نے اللہ دے اور بندہ لے کے مصداق ان مذہبی شعبدہ بازوں کی باتوں میں آ کر مندر کو مسمار کر دیا اور یوں اسلام بچ گیا۔ غور کیجیے کیسا خوبصورت سا لطیفہ تیار ہوا ہے کہ ایک زندہ و تابندہ مذہب کو ایک سال خوردہ قدیم دھرم شالے سے خطرہ لاحق ہو گیا تھا اور پھر اس مذہب کو مزید زندہ کرنے کے لئے گارے اور اینٹوں سے بنے ہوئے مندر کو ڈھانا پڑ گیا۔
شاید ایسے خرابی سمجھ میں نہیں آ سکے گی چنانچہ ہم تباہ شدہ مندر کی اینٹوں سے اٹھتے ہیں اور ایک دوکان کے سامنے جا کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ دوکان کس چیز کی ہے یہاں کیا چیز فروخت کی جاتی ہے اس سے قطع نظر یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دوکان داری کا اصل اصول کیا ہے۔ دوکانداری کا سب سے بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس میں گاہکوں کی دلچسپی برقرار رکھی جائے اور دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی نئی پروڈکٹ متعارف کروائی جائے ورنہ کاروبار جمود کا شکار ہو کر ٹھپ ہو جائے گا۔ تو اس مندر کو مسمار کرنے میں بھی صرف یہی اصول کار فرما تھا کہ اپنی دوکانداری کی بقا کے لئے ایک نیا اسٹنٹ چھوڑا جائے۔ ورنہ ایک عام فہم مسلمان بھی یہ بات جانتا ہے کہ اس مندر سے تو اسلام کو قطعاً خطرہ نہیں تھا ہاں لیکن علماء کے کاروبار کو آکسیجن ضرور چاہئیے تھی۔ اور مذہبی طبقات کو ایسی ضرورت کوئی پہلی بار نہیں پڑی بلکہ ہر تھوڑے عرصے بعد کسی نہ کسی مذہبی جتھے کو ایسا مروڑ ضرور اٹھتا ہے جب اسلام کی آڑ میں دراصل ان کا اپنا پیٹ ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور اس میں قصور ان کا بھی نہیں ہے کہ جی پیٹ تو ان کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے لہذا ایسی حرکتیں یہ لوگ ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ قصور دراصل اس عوام کا ہے جو ہمیشہ ان مذہبی ناخداؤں کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہوتے آئے ہیں وہ بھی اس سادہ لوحی میں کہ ہم خدا کے دین کی خاطر مر رہے ہیں حالانکہ حقیقت میں وہ ان مذہبی دوکانداروں کی بقاء کی خاطر لڑ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں میرے مخاطب بھی عوام ہی ہیں نہ کہ مذہبی طبقات۔ سو عوام کی خدمت میں عرض ہے خدارا اہل مذہب کی ان فضول حرکات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے کیوں کہ آپ کے ایسے کاموں سے نہ تو مذہب کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی خدا کے حضور آپ کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہوتا ہے کہ اس سارے ٹوپی ڈرامے سے آپ کے دلوں میں ان جعلی عزت مآب ہستیوں کا اقبال مزید بلند ہو جاتا ہے اور پھر آپ مزید جانفشانی سے ان کے مقاصد کے حصول کے لئے جت جاتے ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ آپ کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
اگر بات اب بھی سمجھ میں نہیں آئی تو اس سانحہ مچھ کو ہی دیکھ لیجیے کہ کیسے چند خاص مکاتب فکر نے ان معصوم لاشوں کے اوپر اپنی اپنی مذہبی دوکانداری شروع کر دی۔ کچھ لوگ ایسے مطالبات لے کر سامنے آئے کہ جس سے ہزارہ برادری کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا جب کہ دوسری طرف کچھ لوگوں نے خاص ان کے مسلک کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا۔ میں یہاں کسی مخصوص گروہ کا نام نہیں لوں گا کیوں کہ ہر مخالف گروہ دوسرے گروہ کے بارے میں مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ واضح رہے یہاں میں ان سلیم فطرت لوگوں کا ذکر نہیں کر رہا جنہوں نے ہزارہ مظلومین کے درد کو واقعی اپنا درد سمجھا۔ اور نہ ہی مجھے یہاں خان صاحب کی ہٹ دھرمی کا ذکر کرنا ہے کہ ان کے متعلق کچھ کہنا اب فضول ہو چکا ہے۔ ہاں جوش کی روح سے معذرت کے ساتھ، صرف اتنا کہوں گا
؂ انسانیت کو مر تو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارا ہے خان
خیر ! میں اس ساری دھما چوکڑی کا الزام معصوم ہزارہ کمیونٹی کو بھی نہیں دوں گا کیوں کہ وہ تو مظلوم تھے اور احتجاج کرنا ان کا حق تھا بلکہ وہ اس سے بھی بڑھ کر احتجاج کرتے تب بھی منظور تھا۔ لیکن ان کے احتجاج کے حق میں اور مخالفت میں جو جو کچھ ہمارے مذہبی حلقوں کی طرف سے کیا گیا ہے تو اس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ لیکن آپ صرف یہ سوچیے کہ جب یہ لوگ لاشوں پر بھی مذہب کارڈ کھیلنے سے باز نہیں آئے تو پھر ہم جیسے نیم مردہ لوگوں کے ساتھ یہ کیا کچھ نہیں کرتے ہوں گے؟ لیکن آپ بھی صرف تب ہی سوچیں گے جب آپ نے  ہزارہ کمیونٹی کے قتال پر بے تکی نہیں ہانکی ہو گی۔
ہر دو صورت میں، لیکن سوچیے گا ضرور کہ سوچنے سے مذہب خطرے میں نہیں آتا۔ مذہب کو خطرہ صرف تب ہی  لاحق ہوتا ہے جب اہل مذہب کے پیٹ پر لات پڑتی ہے۔

W3Schools.com
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments