معافی کا دروازہ

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

آئی سی یو میں پڑی زندہ لاش کے گناہوں کا بوجھ اِس قدر زیادہ تھا کہ موت کے فرشتوں نے بھی اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ خوش قسمت ہو تے ہیں وہ لوگ جن کی موت آسان ہو تی ہے جو زندگی بھر گناہ کر نے کے بعد خدائے بے نیاز کے سامنے جب اپنے گناہوں غلطیوں کا اعتراف کر کے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں رب ذولجلال کا پیمانہ رحمت جھلک پڑتا ہے اور گناہ گار سے گناہ گار سیاہ کار سے سیاہ کار کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیںلیکن اپنی زندگی طاقت جوانی دولت اختیارات شاطر دماغ چرب زبانی شیطانی ذہانت سے کچھ لوگ انسان سے شیطان درندے کا روپ دھار لیتے ہیں جو اپنی دولت اور چالاکی کو اپنی ذات کے لیے ہی استعمال کر تے ہیں ایسے لوگوں کی اللہ تعالی رسی دراز کر دیتا ہے لیکن پھر جب رب کی لاٹھی حرکت میں آتی ہے رگوں میں دوڑتا خون سرد ہونے لگتا ہے بڑھاپا دیمک بن کر چاٹنا شروع کر دیتا ہے جسم زوال کا شکار ہو جاتا ہے بڑھاپا شکنجے کی طرح کسنا شروع کر دیتا جسم پر کنٹرول اور توازن ختم ہو جاتاہے اور پھر جسم بیماریوں کی آما جگاہ بن جاتا ہے تو موت دھیرے دھیرے قریب آنا شروع ہو جاتی ہے خون کا ابال سرد پڑنا شروع ہو جاتا جسمانی نظام کی چابک دستی زوال پذیر ہوتی ہے جسم میں پروٹین چربی کے ذخائر ختم ہو جاتے ہیں ایمیون سسٹم میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے تو ایسے زوال پذیر شخص کو اپنی ہی پڑ جاتی ہے پھر ایسے لوگ عبادت گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔

اچھائی اخلاق کا درس دیتے نظر آتے ہیں جب جسم ہر قسم کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے یا اِس قابل نہیں رہتا تو پشیمانی ندامت کے سوا کچھ نہیں بچتا جوانی اقتدار دولت شہرت کے نشے میں دھت لوگ کاش کبھی ہسپتالوں کا رخ کریں آئی سی یو میں پڑی بے بس زندہ لاشوں کی بے بسی خوفناکی ملاحظہ فرمائیں تو شاید صراط مستقیم پر آجائیں لیکن طاقت دولت جسمانی طاقت کے عروج پر انسان بھیڑیا بن جاتا ہے ایسا ہی بھیڑیا یہاں آئی سی یو میں نشان عبرت بن کر پڑا تھا جس کو اپنی دولت چالاکی عیاری منصوبہ بندی پر بہت ناز تھا دس سال پہلے یہ شخص اپنی بہو کے ساتھ میرے پاس اپنے پوتے کی بیماری کے علاج کے طورپرآیا تھا پوتے کی عمر پانچ سال تھی جو مرگی کے مرض میں مبتلا تھا دن میں کئی بار بچے کو مرگی کے دورے پڑتے یہ دورے کسی بھی وقت گھر بازار یا سکول میں پڑھ جاتے تو بچہ دھڑام سے زمین پر گر جاتا اِس طرح گرنے سے اکثر چوٹیں لگ جاتیں دنیا جہاںکے علاج معالجے کے بعد یہ اپنی بہو اور پوتے کے ساتھ میرے پاس آیا پہلی دفعہ آیا تو پھر تین چار ملاقاتوں میں ہی میری نظروں میں مشکوک ساہو گیا کیونکہ بوڑھا ہونے کے باوجود داس کی آنکھوں میں جنسی بھیڑیوں والی چمک تھی جس طرح وہ اپنی بہو کو دیکھتا اور میرے پاس آئی باقی جوان عورتو ں کو دیکھتا وہ اِس کی جنسی درندگی کا اشارہ تھا ایسے لوگ جن کی آنکھوں میں ماں بیٹی بہن کی عزت ہوتی ہے۔

ان کے دیکھنے اور عیاش بد قماش کے دیکھنے میں بہت فرق ہو تا ہے آپ اگر جنسی شوق والے بندے کو غور سے دیکھیں تو آپ آسانی سے اُس کی گندی نظروں کو بھانپ سکتے ہیں میں بھی ابتدائی چند ملاقاتوں میں ہی اِس کو پہچان گیا تھا کہ اِس کی نظروں میں شرم و حیا نہیں ہے یہ جب آتا بہو کے ساتھ آتا بیٹے کے بارے میں بتاتا وہ دوبئی میں ملازم ہے سال میں صرف ایک ماہ کے لیے آتا ہے باقی بہو اور بیٹے کے بچوں کے ساتھ یہ خود رہتا تھا اب یہ بار بار میرے پاس آرہے تھے ایک دن مجھے موقع ملا تو میں نے بہو سے پوچھ ہی لیا کہ تم نے کوئی بڑا گناہ کیا ہے جس کی سزا تمہارے بچے کو مل رہی ہے جب تک تم اپنے گناہوں سے تائب نہیں ہوتی تو بہ کے بعد صراط مستقیم پر آکر اسلام کے مطابق زندگی نہیں گزارتی تمہارا بیٹا ٹھیک نہیں ہوگا میرا تیر عین نشانے پر لگا میری بات سن کر بہو کے چہرے کا رنگ زرد اور زندہ لاش جیسا ہو گیا آنکھوں میں بھی خوف ندامت شرمندگی کے سائے لہرانے لگی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بڑی مشکل سے بولی پروفیسر صاحب ایسی تو کوئی بات نہیں میں روز اللہ سے معافی مانگتی ہوں پھر یہ چلی گئی۔

اِس دوران اِس کا خاوند بھی دوبئی سے چھٹیاں گزارنے آیا تو یہ دوبار اُس کے ساتھ بھی اپنے بیٹے کو میرے پاس لے کر آئی اُسی دوران ایک دن جاتے جاتے مجھے ایک خط دے گئی کہ اِس کے جانے کے بعد پڑھ لوں اُس کے جانے کے بعد میں نے خط پڑھنا شروع کیا تو میرا شک بلکل درست ثابت ہوا بہو نے لکھا تھا سر آپ نے اُس دن جو مجھے کہا تھا کہ میں خدا سے معافی مانگوں تو میں مانگنے کو تیار ہوں لیکن میں اِس بری طرح پھنس چکی ہوں کہ یا تو گناہ کی زندگی گزاروں یا پھر خود کشی کر لوں لیکن بچوں کی وجہ سے میں خود کشی نہیں کر رہی اور گناہ کی زندگی گزار رہی ہوں جس شخص نے مجھے اِس گناہ آلودہ زندگی پر مجبور کیا وہ کوئی اور نہیں میرا سسر یعنی میرے میاں کا باپ ہے میرا سسر ایک شیطانی دماغ والا چالاک خطرناک دولت مند انسان ہے جس نے اپنے ناپاک عزائم خواہشات کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے جال میں اِس طرح پھنسایا ہوا ہے کہ یہ میرے دور کے رشتہ دار ہیں میں بچپن میں ہی یتیم ہو گئی تھی بڑی ہوئی تو باپ کا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا اب اِس بے رحم دنیا میں کوئی بھی میرے سر پر ہاتھ رکھنے والا نہ تھا میں جوان ہوئی تو خوبصورتی مُجھ پر بارش کی طرح ٹوٹ کر برسی میری خوبصورتی کی دھوم سارے خاندان میں تھی۔

اِسی دوران میرے سسر نے کہیں مجھے دیکھ لیا تو پہلی نظر ہی میرے اوپر دل و جان سے فریفتہ ہو گئے اِنہوں نے اشاروں میں مُجھ سے چھیڑ خانی اور دوستی کی کوشش کی جب میں نے توجہ نہ دی تو چالاک منصوبہ بنا کر اپنے بیٹے کے لیے میرا رشتہ مانگا جو دوبئی میںکام کر تا تھا اپنی بیوی کو کئی سال پہلے طلاق دے کر چھوڑ چکے تھے اب اِن دولت دیکھ کر میری خالہ نے میرا رشتہ اِن بیٹے کے ساتھ کر دیا جو ایک مہینے کے لیے پاکستان آیا تھا ایک ماہ کے بعد جب وہ واپس دوبئی چلا گیا خاوند کے جانے کے بعد گھر میںمیں اور میرا سسر تھے انہوں نے میرے ساتھ چھیڑ خانی شروع کی جب میں نے منع کیا اور کہاخاوند کو بتائوں گی تو انہوں نے ایک دن نشہ آور جوس پلا کر اپنی ہوس پوری کی ساتھ ہی ویڈیو بنالی اور بعد میں مجھے دکھائی کہ اگر میں نے کسی کے سامنے زبان کھولی تو جان سے مار دوں گا میں اکیلی یتیم لڑکی خطرناک خوفناک شخص کی باتوں میںآکر ڈر گئی اور سسر کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ گئی میرا خاوند دوبئی ہو تا تھا میں بھری دنیا میں اکیلی مجبور گناہوں میں ڈوبتی چلی گئی دکھ اور شرمندگی والی بات یہ ہے کہ میرے تین بچوں میں سے دو بچے بھی اِس کے ہی لگتے ہیں۔

میں نے بار بار معافی مانگی کہ خدا کے قہر سے ڈرو لیکن یہ درندہ بلکل بھی باز نہ آیا سالوں پر سال پڑتے گئے کہ میرا بیٹا بیمار ہو ا تو آپ کے پاس آئی ہوں بیچاری نے خود پر ہونے والے ظلم کو بیان کیا تھا پڑھ کر میرا کلیجہ پھٹ رہا تھا اگلی بار جب یہ سسر صاحب ساتھ آئے تو میرے سے نہ رہا گیا الگ لے جاکر کہا میرے جن نے مجھے بتایا ہے کہ تم اپنی بہو کے ساتھ گناہ کر تے ہو اگر بچے کی صحت چاہتے ہو تو فوری طور پر توبہ کرو میری بات سن کر زرد ہو گیا گھبرا کر چلا گیا اور جاکر سختی سے بہو سے کہا اب تم کبھی پروفیسر سے ملنے نہیں جائو گی آج کئی سال بعد آئی سی یو میں نشان عبرت بن کر پڑا تھا بہو میرے سامنے کھڑی تھی خاوند دوائی لینے باہر گیا تو میں بولا بیٹی اِس درندے نے توبہ کی کہ نہیں تو بولی پروفیسر صاحب بلیک میل اور گناہ کا دور ایک سال پہلے ختم ہو ا جب یہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہا اب کئی مہینوں سے زندہ لاش کی طرح پڑا ہے سانسیں اٹکی ہوئی ہیں میں دن رات خداسے معافی مانگتی ہوں آپ اِس کے مرنے کی دعا کرو میں نے دعا کا وعدہ کیا اور تیزی سے باہر کی طرف چل پڑا اور سوچ رہا تھا انسان طاقت میں خدا کو بھول جاتا ہے پھر ایسا وقت بھی آتا ہے جب معافی کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

W3Schools.com
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments