انڈیا: مندر میں نذرانے کے بال کروڑوں میں نیلامی کے بعد کہاں جاتے ہیں، ایک تنازعہ

BBC URDU

  • انڈیا اور میانمار کی سرحد پر دو ماہ قبل پکڑے گئے انسانی بالوں کی کھیپ کے معاملے نے جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

انڈیا کے بہت سے مندروں میں خواتین بھی اپنے بالوں کا نذرانہ پیش کرتی ہیں

انڈیا اور میانمار کی سرحد پر دو ماہ قبل پکڑے گئے انسانی بالوں کے ایک معاملے نے ملک کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بال تیرومالا تروپتی دیواساتھنم (ٹی ٹی ڈی) سے سمگل کیے جارہے تھے۔ اس مندر سے لوگوں کو جذباتی لگاؤ ہے اور ہندو زائرین یہاں اپنے بال نذر کرتے ہیں۔

لیکن اب یہاں سے عقیدت مندوں کے بالوں کی سمگلنگ کی بات کی جارہی ہے۔ پکڑے جانے والے بالوں کی قیمت لگ بھگ 1.8 کروڑ روپے لگائی جا رہی ہے۔

سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ بالوں کی سمگلنگ کا پتہ چلنے کے بعد حکام نے کیا کیا؟ سوال یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ تیرومالا میں کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور ایک ٹی وی چینل کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا گیا ہے؟

انسانی سروں کے بال دو ماہ قبل پکڑے گئے تھے۔ آسام رائفلز کی ایک سرچ ٹیم نے مشرقی ریاست میزورم سے متصل میانمار کی سرحد پر بالوں کی اس کھیپ کو پکڑا۔ لیکن اس پر اب بحث تیز ہو گئی ہے۔

عام طور پر اس علاقے میں سونے اور جنگلی جانوروں کو سمگل کیا جاتا ہے۔ لیکن پہلی بار سیکیورٹی فورسز کو انسانی بال سے بھری 120 بوریاں ملیں۔ ہر بوری میں تقریبا پچاس کلو گرام بال تھے۔

بالوں سے بھری 120 بوریاں

20 مارچ کو جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بالوں کی اس کھیپ کو ٹرک سے پکڑا۔

کچھ عہدیداروں نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرک چلانے والے ڈرائیوروں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بال تروپتی سے لائے جارہے ہیں۔

حکام کے مطابق ٹرک ڈرائیور نے بتایا کہ اسے آئیزول کی مارویتی نامی ایک خاتون نے تروپتی سے بالوں لانے کا ٹھیکہ دیا تھا۔

ایک انگریزی اخبار ‘دی ہندو’ کی ایک رپورٹ میں بھی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرکوں سے ملک کے کئی مندروں سے بال لائے جانے تھے، لیکن جس ٹرک کو پکڑ لیا گیا اور اس میں تروپتی سے لائے گئے بال تھے۔

پولیس نے ٹرک کے ڈرائیور مونگیان سنگھ سے پوچھ گچھ کی ہے۔ یہ ٹرک انڈین سرحد کے سات کلومیٹر اندر پکڑا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ ٹرک سے پکڑے گئے بالوں کی مالیت 1.8 کروڑ روپے تک ہوسکتی ہے۔

انڈیا سے یہ بال سمگل کیے جاتے ہیں اور میانمار لے جائے جاتے ہیں۔ پھر وہاں سے تھائی لینڈ پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں تیار کیا جاتا ہے اور چین بھیج دیا جاتا ہے۔

وگ

چین میں وگ بنانے کا کاروبار

حکام کے مطابق چین میں ان بالوں کے وگ بنائے جاتے ہیں اور پھر انھیں پوری دنیا کے بازاروں میں بھیجا جاتا ہے۔

بازار پر نظر رکھنے والوں کے مطابق وگ بنانے کے 70 فیصد کاروبار پر چین کا قبضہ ہے اور سر کے بالوں کا بازار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

W3Schools.com
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments