چور ’1 لاکھ‘ روپے کا جوتا لے اڑا ۔۔ نماز کے وقت مسجد کے باہر سے چپل چوری کیوں ہوتی ہے؟

ہر دن اپنے ساتھ کچھ نئے کارنامے لے کر آتا ہے، ایک ہی دن میں مختلف قسم کے ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جن کے بارے میں ہم سوچ نہیں سکتے ہیں، کچھ کو سن کر ہنسی اور کچھ کو دیکھ کر غصے سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں، کچھ ایسا ہی جمعے کے دن ہونے والا ایک ایسا واقعہ ہے جو کم و بیش ہر کسی کے ساتھ زندگی میں ضرور ہوتا ہے اور ہر جمعے کو تو لازماً یہ ہوتا ہے۔

آخر یہ کون سا واقعہ ہے؟

اب جناب آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے جائیں تو چپل یا جوتا چوری نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر کسی کے ساتھ یہ مزاق ہو۔

اکثر ہم اپنے گھر والوں سے سنتے ہیں ارے نماز پڑھنے گئے تھے نئی چپل پہن کر خؤشی خوشی کوئی اٹھا کر چلتا بنا، اور پھر یہ ہدایات کرتے نظر آتے ہیں، کہ تم بھی کبھی نئی چپل تو پہن کر مسجد نہ جانا، بچے کبھی بڑوں کے ساتھ نمازکے لئے جائیں تو بولتے ہیں، بیٹا ذرا چپل کو چھپا کر تو رکھو کسی کونے میں جو کسی کی نظروں میں نہ آئے تاکہ چوری نہ ہو؟

دراصل معاملات کچھ ایسے ہیں کہ آپ کو اگر اپنی چپل نہیں ہے پسند تو کوئی بات نہیں، جس کی اچھی لگے، پہنو اور نکل جاؤ، مگر یہ ایک شرارت نہیں ہے، بلکہ بہت ہی معیوب حرکت ہے، چوری ہر حال میں چوری ہوتی ہے، چاہے عبادت گاہ سے ہی کیوں نہ کی جائے، ہمارے ہاں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں چوری تھوڑی ہوتی وہ تو جس کے ہاتھ جو آ جائے وہ اس کی ملکیت، ہے مگر یہ شریفوں کا طریقہ نہیں ہے۔ بچے: کچھ بچے اتنے شرارتی ہوتے ہیں جو کہ دراصل بدتمیزی و بدتہذیبی میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ وہ مسجد کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھاگتے ہیں یوں آپ کی چپلیں اور جوتے بکھر جاتے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ او ہو! یہ تو چوری ہوگئی چور ہاتھ صاف کر گیا، مگر ایسا بولنے سے قبل آپ مسجد کے صحن میں جہاں ریک موجود ہیں چپوں کو اچھی طرح گھس گھس کر چیک کریں۔

مسجد سے چپل چوری کے 2 واقعات:

ایک صاحب کا واقعہ ہے، جن کا نام ان کی مرضی کے بغیر بتانا مناسب نہیں، مگر وہ دو جمعے نماز پڑھنے دہلی کی مشہور جامعہ مسجد میں گئے، ان کی چپل ایک جمعے چوری ہوئی، اگلے جمعے وہ دوبارہ نئی چپل پہن کر گئے بقول ان کے وہ بھی چوری ہوگئی، پھر تیسرے جمعے وہ پُرانی ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر گئے وہ بھی ان کو لگا کہ کسی نے اٹھالی، مگر اس روز وہ مولوی صاحب سے چپل چوری کی شکایت کر ہی رہے تھے کہ ایک خادم نے کہا جناب ذرا مسجد کے پچھلے حصے میں موجود تہہ خانے میں بھی نظر دوڑالیں، کیونکہ بچے ادھر ادھر اکثر چپلیں کر دیتے ہیں اور جب حضرت نے جا کر دیکھا تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے کیونکہ ان کی تینوں چپلیں وہیں موجود تھیں۔ اب اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ چپل ہوگئی ہے چوری آپ کو شبہ ہے تو اچھی طرح چیک بھی کر لیا کریں۔

ایک اور واقعہ آپ کو بتاتے ہیں: شہرِ لاہور میں شیراز بشیر نامی شہری مسجد میں نماز پڑھنے گئے تو ان کا ایک لاکھ کا جوتا جوکہ وہ گھر سے مسجد پہن کر آئے تھے وہ کسی نے چُرا لیا اور پھر انہوں نے ایف آئی آر کٹوائی اور یہ بھی شبہ ظاہر کر دیا کہ جب میں مسجد آ رہا تھا تو مجھے محسوس ہوا تھا کہ کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے، اور اب جوتا ہی چوری کرلیا۔

چپل چوری کیوں ہوتی ہے؟

چپل اور جوتے کی چوری کی اہم وجہ یہ ہے کہ لوگ لالچ میں آ جاتے ہیں ، جلن و حسد کی وجہ سے چپلیں چُرا کر بھاگ جاتے ہیں اور پھر عالم یہ ہوتا ہے کہ چپل کی چوری کرنے کے 2 ہفتے تک تو ان چپلوں کو مسجد میں پہن کر بھی نہیں آتے کہ کوئی اپننی چپل کی پہچان نہ کرلے، اور کچھ ڈھیٹ ہوتے ہیں جو جھوٹ بول کر بچ بچاؤ کر لیتے ہیں۔

کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟

ہر لحاظ سے یہ طریقہ غلط ہے، کیونکہ چور کرنے والا آج دنیا کی نظر میں نہیں ہے، مگر حساب تو ہر شخص کے لئے برابرہی ہے، اس لئے ہماری ویب کے اس آرٹیکل کا مقصد صرف لوگوں کی بہترین انداز میں رہنمائی کرنا ہے، جو لوگ ایسا کرچکے ہیں اب وہ چپل یا جوتا اگر آپ نے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے یا ٹوٹ گیا ہے تو آپ اپنی حیثیت کے مطابق ایک چپل مسجد میں جا کر رکھ دیں جس کو ضرورت ہوگی وہ استعمال کرلے گا یہ بھلائی کا ایک ذریعہ ہے۔ جتنا ہوسکے نیکی کے کاموں میں ہاتھ ڈالیں اور اپنی زندگی کو آسان بنائیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments