وسیلہ”

تحریر : جنید انجم
شیخ زین صاحب کا شمار شہر کے گنے چنے امیر  لوگوں میں ہوتا ہے بے شمار فیکٹریوں اور کئی طرح کے کاروبار میں اچھی خاصی انویسٹمنٹ کر رکھی ہے جنہیں ان کے تین بیٹے سنبھال رہے ہیں ،اور سب سے چھوٹا بیٹا علی شہر کی مسجد کا امام ہے ،شیخ صاحب کو اللہ کا دیا ہوا اتنا ہے کہ گھر میں بیسوں ملازم ہیں شیخ صاحب کا حقہ بنانے سے لے کر دفتری کام ملازم ہی کرتے ہیں  اور کریں بھی کیوں نہ اس کام کے لیے ملازموں کو تنخواہ کے علاوہ بھی شیخ صاحب اپنی طرف سے بھی کچھ نہ کچھ دیتے ہی رہتے ہیں،طبیعت کے ذرا سخت ہیں چند دن قبل ہی کچھ ملازوں کو چھوٹی سی غلطیوں پر ملازمت سے فارغ کر دیا تھا،شیخ صاحب اپنی آمدن میں سے محلے کے غریب افراد کے لیے بھی کچھ نہ کچھ حصہ نکالتے ہی ہیں ۔شیخ صاحب کی بیگم بلقیس سادہ طبیعت کہ نہیں نہیں معلوم کون س کاروبار کدھر ہے۔زندگی پرسکون گزر رہی تھی لیکن کون جاتنا تھا کہ اگلی صبح شاید اپنے ساتھ کئی بری خبریں بھی ساتھ لائے گی۔شیخ صاحب اور ان کے تینوں بیٹوں کو “ریئل اسٹیٹ” کے کاروبار میں کروڑوں کا نقصان ہوا ہے جس کہ وجہ سے سبھی پریشان ہیں ،بلقیس صاحبہ سے شیخ صاحب کہ پریشانی نہیں دیکھی جا رہی تھی اس لیے چاروں بیٹوں کے لیے ان کا  یہ پیغام تھا کہ سبھی شیخ صاحب کو تسلی دینے اور انہیں اپنے کاروبار میں اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے مشورہ بھی دیں آخر اسی کام کے لیے تو تینوں بڑے بیٹوں کو بیرون ملک  کی بڑی یونیورسٹیوں سے بزنس کی اعلی ڈگریاں دلوائی تھی۔
سبھی کھانے کھانے کے بعد صحن میں بیٹھے ہیں،بلقیس صاحبہ چائے بنانے میں مصروف ہیں کیوںکہ شیخ صاحب انہی کی ہاتھ کی چائے پسند کرتے ہیں۔شیح صاحب رسمی گفتگو کرنے کے بعد سبھی بیٹوں سے اس نقصان کے بارے میں بات کرتے ہیں ابھی بڑا بیٹا بات کر ہی رہا تھا کہ بلقیس صاحبہ بھی چائے لے آئی اور گفتگو میں شامل ہوگئی۔ہاں ہاں تم بات جاری رکھو (بلقیس صاحبہ نے بڑے بیٹے سے کہا)
“ابو میرا تو مشورہ یہی ہے کہ چند ماہ کے لیے کچھ ملازموں کو نوکری سے نکال دیں اور اس کے علاوہ  یہ جو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کو چندے کے نام پر،کسی کی بیٹی کی شادی پر یا کسی ملازمہ کو اس کی ماں یا باپ کی بیماری پر کچھ نہ کچھ دیتے ہی رہتے ہیں اس سے تھورا اجتناب کریں کیوں کہ ایک اچھی خاصی رقم یہاں ضائع ہو رہی ہے اور یہی فیصلہ کاروبار کے نقصان کو دیر سے ہی سہی لیکن پورا کر لے گا” (بڑا بیٹا بولا) اور دوسرے بیٹے نے بھی ہاں کہا۔۔۔۔
شیخ صاحب نے چائے کی ایک گھونٹ بھری اور بولے “ہاں یہ بھی صیح ہے میں تو خیر پرائمری تک نہ پڑھ سکا اور علی (سب سے چھوٹا بیٹا) نے تو کالج سے بھی راہ فرار کر کہ مدرسوں کہ راہ لے لی تھی ،لیکن اپ تینوں کو بیرون ملک اسی لیے تو بھیجا تھا تا کہ میرا ہاتھ بٹا سکو میرے کام آ سکو اور میرے کاروبار کو بڑھا سکو۔۔۔شیخ صاحب نے سکون کی سانس لی ہی تھی کہ علی بولا ” ابو ایسے تو آپ مزید گھاٹے میں جائیں گے کیوںکہ۔۔۔۔بات آدھی ہی ہوئی تھی کہ بڑا  بھائی طنزیہ لہجے میں بولا “ہاہاہاہا ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔۔۔کبھی بزنس کے بارے میں پڑھا کے؟ اکنامکس کا نام سنا ہے؟ بزنس ایڈمنسٹریشن کا نام سنا ہے،علی تمھارا کام۔مسجد میں ہے تمھیں کیا سمجھ اس بزنس کی۔۔۔؟
کافی باتیں سن کر علی مسکرایا اور بولا “ہاں مجھے اکنامکس وغیرہ کہ اصول تو نہیں آتے لیکن جو اللہ کے دیے ہوئے سے دے کر جن کے وسیلے سے رزق آتا ہو ان سے ہاتھ کھینچ لیں تو پھر  رزق کی فراوانی بھی نہیں ہوتی اور یہ میرے اللہ کا قانون ہے ،جب سے ملازوں کو چھوٹی سے غلطیوں پر نکالا ہے کون سے کاروبار نے ترقی کی ہے،مجھے کاروبار کے اصول نہیں آتے لیکن اللہ کا فرمان یاد ہے کہ”جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں اِسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔”(مکمل خاموشی ہے۔۔۔اور آکسفورڈ کے گریجویٹ سر جھکائے بیٹھے تھے )

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments