پاکستان اور بھارت کے بعد چین نے بھی مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے کی تیاری پکڑ لی’جنوبی ایشیاء جنگ کی لپیٹ میں جائے گا یا نہیں؟ تہلکہ مچا دینے والی خبر منظر عام پر آگئی

چھتیس گڑھ کے مقام پر انڈین سکیورٹی فورسز اور ما نواز باغیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں

پاکستان اور بھارت کے بعد چین نے بھی مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے کی تیاری پکڑ لی‘ جنوبی ایشیاء جنگ کی لپیٹ میں جائے گا یا نہیں؟ تہلکہ مچا دینے والی خبر منظر عام پر آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق انڈیا میں چھتیس گڑھ کے مقام پر انڈین سکیورٹی فورسز اور ما نواز باغیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس حملے میں انڈین فوج کے 22 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ کیا ان حملوں سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انڈیا میں ما تحریک مضبوط ہو رہی ہے؟ یا یہ کہ ما نواز اپنے چند مخصوص علاقوں میں اپنا زور ٹوٹنے پر شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں؟ اس جواب کی تلاش میں بی بی سی نے آندھرا پردیش، تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں کے سابق اور موجودہ پولیس اہلکار، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور انڈیا میں ما تحریک پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں سے تفصیل میں بات کی ہے۔ ان تمام افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمیں معلومات فراہم کی ہے۔

کئی افسران جنھیں بظاہر یہ معلوم ہے کہ یہ حملہ کیوں ہوا، کہتے ہیں کہ حکام کو پتا تھا کہ ما نواز رہنما ماڈوی ہڈما اپنے ساتھیوں سمیت وہاں چھتیس گڑھ کے ایک گاں کے پاس جنگل میں موجود ہیں۔ دو اپریل کی شب کو پولیس اور پیرا ملڑی کی آٹھ ٹیمیں وہاں روانہ ہوئیں۔ ان میں قریب دو ہزار پولیس اہلکار شامل تھے۔ تاہم وہاں پہنچنے پر انھیں کوئی ما نواز نہ ملا۔ اس پر ٹیموں نے واپس کیمپ کی طرف جانا شروع کر دیا۔جب مختلف ٹیموں کے 400 اہلکار واپس جا رہے تھے تو انھوں نے ایک گاں میں رک کر اگلی حکمت عملی سوچنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران ما نوازوں نے ایک ٹیلے پر سے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔

ایک افسر کا کہنا تھا کہ ما نوازوں نے ہماری سکیورٹی فورسز پر راکٹ لانچرز سے حملہ کیا جس کے بعد وہ مسلسل ہمارے جوانوں پر گولیاں برساتے رہے۔ ما نوازوں نے بلٹ پروف جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔۔۔ دونوں طرف کافی نقصان ہوا ہے۔ اس پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار ما نواز باغیوں کے پھیلائے جال میں پھنس گئے تھے تاہم حکام کے مطابق اسے انٹیلیجنس کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے پاس معلومات تھیں اور ہم وہاں ہڈما پر حملہ کرنے گئے تھے۔ لیکن سکیورٹی فورسز نے واپسی پر بہت کم احتیاط برتی، اسی لیے وہاں نقصان ہوا۔ ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ہڈما کا گاں بہت قریب ہے۔ سارا علاقہ اسے جانتا ہے۔ اسے مقامی سطح پر حمایت حاصل ہے۔ اس کے پاس پولیس پر حملہ کرنے کا واضح منصوبہ تھا کیونکہ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔ تقسیم سے قبل آندھرا پردیش ایک وقت میں ما تحریک کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ مگر یہ ماضی کے مقابلے اب کمزور پڑ چکی ہے۔ ماضی میں ہونے والے متعدد پولیس مقابلوں میں تلنگانہ میں اس تحریک سے منسلک کئی مرکزی رہنما مارے گئے ہیں۔ آندھرا پردیش کی پولیس نے اس تحریک کو کمزور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسے آندھرا ماڈل بھی کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں گرے ہانڈز نامی ریاستی فورس تشکیل دی گئی جس نے مبینہ طور پر ریاستی سرحدیں عبور کیں اور اوڑیسا کے علاقوں میں ما نوازوں کے خلاف آپریشن کیے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments