خانہ جنگی


ملک بھر میں مذہب کی آڑ میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے. چند نادان دوست ناموس رسالت کے نام پر اپنے ذاتی مقاصد کے تکمیل میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں. کہ انہوں نے ملکی قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں . گزشتہ شب سے پورے ملک میں عوام کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا گیا ہے. یہ لوگ ملک کی اہم ترین شاہراہوں پر دھرنے دیکر بیٹھے ہوئے ہیں. جس کی بدولت عوام کو آمدورفت میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں.ناموس رسالت کی آڑ میں کچھ شر پسند عناصر نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں. قانون نافذ کرنے والی ایجنسی پولیس پر وحشیانہ تشدد کیا جا رہا ہے. کچھ پولیس اہلکار تو جام شہادت نوش بھی فرما چکے ہیں. ان حالات میں باعث تشویش بات یہ ہے کہ حکومت کہی نظر نہیں آ رہی. حکومتی خاموشی عیاں کرتی ہے. کہ وہ خود ملک میں خانہ جنگی پیدا کرنا چاہتی ہے. تاکہ اس کی نااہلی سے عوام کی توجہ بھٹکی رہے . وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے جس نفرت کے بیج کی آبیاری کی تھی. آج وہ قد آور درخت بن چکا ہے. جس کا خمیازہ اب ان کو بھگتنا ہو گا. میاں محمد نواز شریف کی حکومت پر گستاخ رسول کا الزام لگا کر انہیں ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کی گئی. میاں محمد نواز شریف پر انہیں مذہبی جنونی عناصر سے جوتا پھینکوایا گیا. اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کروائی گئی. یہ سب کچھ عمران خان نے محض الیکشن میں مذہبی جماعت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کیا. سابق حکومت کو کمزور کرنے کے لیے فیض آباد دھرنا کروایا گیا. آج وزیراعظم عمران خان سے عوام سوال کرتی ہے. کہ ہماری جان و مال کی حفاظت کون کرے گا. کیا ہمیں ان مذہبی جنونی لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا. وزیراعظم پاکستان آپ اور کی حکومت معاشی اور اقتصادی طور پر ناکام تو تھی ہی. اب تو عوام کو جان ومال کا تحفظ دینے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے.  ایسے میں آپ کا حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا. موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے.  اللہ بارک تعالیٰ نے تو انسان کو اشرف المخلوق بنا کر اس دنیا میں بھیجا تھا. مگر یہ تو ایک دوسرے کے خون کا پیسا ہو چکا ہے. جنگ و جدل، کھیل، سیاست، و دیگر شعبہ زندگی میں انسان ہی انسان کے مدمقابل ہے. انسان ہی انسان کو قتل و غارت، دھوکہ دہی، شکست دے کر خوشی کے شادیانے بجاتا ہے. اور انسان ہی انسان کو خوشی، کامیابی،صحت و تندرستی میں دیکھ کر غم زدہ اور افسردہ ہوتا ہے. انسان ہی انسان کا بہترین دوست ہے. اور انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے . انسانی فطرت ہے. کہ وہ ہر چیز پر قادر ہونا چایتا ہے. اپنی اسی خواہش کی تکمیل میں وہ ہر حد عبور کر جاتا ہے. یہ دنیا جنت کا منظر پیش کر سکتی ہے. اگر انسان اپنی دنیاوی خواہشات پر قابو پانا سیکھ لیں. انسان کو چاہیے کہ اپنا نقطہ نظر دوسرے انسان کو دلیل سے سمجھائے. کیونکہ ہر انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی. گزشتہ روز سے ہمارے مذہبی بھائیوں نے آقا دو جہاں سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے عوام کو مصیبت میں مبتلا کر کے رکھا ہوا ہے. کیا نبی آخر الزماں نے یہ درس دیا ہے . کہ اپنی بات کو مخالف سے منوانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے. ہرگز نہیں وہ تو رحمت العالمین ہے . وہ امت مسلمہ کے ہی نبی نہیں ہے . وہ تمام نسل انسانی کے لیے مشعل راہ ہے. وہ اپنے سخت سے سخت دشمن کو بھی معاف فرما دیتے تھے. اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر سیدھے راستے پر گامزن کر دیں. بدلہ لیکر ہم اپنی انا کی تسکین تو کر سکتے ہیں. مگر مخالف کی اصلاح نہیں کر سکتے. ریاست مدینہ کے دعویداروں کو چاہیے کہ اس نازک موقع پر اپنا کردار احسن طریقہ سے نبھائے. باتوں سے ریاست مدینہ نہیں بنتی. عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا. کہ ریاست مدینہ کی بنیاد رکھ دی گئ ہے. مگر افسوس حد افسوس ابھی تک اس کی ایک جھلک بھی نظر نہیں آئی. ریاست مدینہ کے دعویدار کے اپنے قریبی ساتھیوں کےدامن کرپشن سے داغ دار ہیں. کوئی چینی چور ہے. تو کوئی ادویات چور، تو کوئی گندم چور، تو کوئی پیڑول چور کس کس کا ذکر کیا جائے. یہاں تو ساری کی ساری حکومت ہی چور ہے. خدارا قوم ہوش کے ناخن لے. اور باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا سیکھے. ورنہ ان کے باہمی اختلافات سے بیرونی عناصر فائدہ اٹھاتے ہوئے . اپنے معذوم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے. ان عناصر کا اولین مقصد ملک پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے.یہ بحیثیت قوم ہمارا فرض بنتا ہے. کہ ان کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہچنے نہ دیں

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments