پاکستان کا زیر انتظام کشمیر: زخمی تیندوا جسے تین دن گھر رکھ کر دیسی مرغیاں کھلائی گئیں اور پھر آزاد کر دیا گیا

BBC URDU

یندوے کا ننھا بچہ بہت تیزی سے دوڑتا پہاڑ اور جنگل کی اس طرف جارہا تھا جہاں سے دیگر تیندووں کے دھاڑنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ لمحوں کے اندر وہ میری نظروں سے غائب ہو گیا۔ اس موقع پر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بتا نہیں سکتا کہ میں بھی کسی جاندار کی آزادی کا سبب بنا ہوں۔

’زخمی ننھے تیندوے کو گھر کی پلی ہوئی دیسی مرغی بطور خوراک دیتے ہوئے میری والدہ نے ہدایت کی کہ یہ جاندار ہے اسے قید مت کرنا۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد کے رہائشی نوجوان اعتزاز علی نے بی بی سی کو وہ تفصیلات فراہم کی ہیں کہ کیسے انھوں نے ایک کم عمر زخمی تیندوے کو ریسکیو کیا اور اپنی والدہ کے کہنے پر اسے فروخت کرنے کی بجائے اسے قدرتی آمجگاہ میں واپس چھوڑا۔

اعتزاز کے مطابق ’جب میں تیندوے کے زخمی بچے کو لے کر گھر گیا تو والدہ اور بہن نے کہا کہ اس کو گھر کیوں لے کر آئے ہو یہ تو جاندار چیز ہے۔ میں نے اپنی والدہ اور بہن کو تسلی دی کہ ابھی یہ بیمار ہے، زخمی ہے اور جیسے ہی اس کی حالت کچھ بہتر ہو گی میں اسے دوبارہ جنگل میں چھوڑ دوں گا۔‘

اعتزاز کے پاس ننھے تیندوے کو گھر میں رکھنے کے علاوہ اور کوئی محفوظ جگہ نہ تھی اور پھر یوں تین دن اعتزاز کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ اور بہن نے تیندوے کی دیکھ بھال کی۔

اعتزاز کہتے ہیں کہ ان کی امی نے تین دن ننھے تیندوے کو گھر کی دیسی مرغیاں کھانے کے طور پر دیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے والدہ کو بتایا کہ مجھے مقامی افراد تیندوے کے عوض کافی زیادہ پیسوں کی آفر کر رہے ہیں توجواب میں والدہ نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’کہ ایسے پیسوں سے موت بہتر ہے۔‘

تیندوا ملا کہاں سے؟

اعتزاز علی مظفر آباد سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور گوجری آباد کے علاقے کے رہائشی ہیں اور اس علاقے میں تیندوے کی آمجگاہیں موجود ہیں۔

راجہ اعتزاز علی کا کہنا تھا کہ چند دن قبل میں شام کے وقت وہ اپنے گھر پر موجود تھے کہ اچانک شور ہوا اور اس کے ساتھ فائرنگ کی آواز بھی آنی شروع ہو گئی تھی۔ ’باہر نکل کر پتا کیا تو بتایا گیا کہ لوگوں نے شیر (تیندوا) دیکھا ہے اور جانور کو خوفزدہ کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی تھی۔‘

لوگوں نے مجھے بتایا کہ ’یہ تیندوے کا ایک پورا خاندان تھا۔ مگر اس میں ایک کم عمر تیندوا علاقے ہی میں موجود ایک پولٹری فارم کے قریب بنائے گے جنگلے میں پھنس گیا تھا۔ میں فوراً اس طرف دوڑا تو دیکھا کہ نہ صرف وہ پھنسا ہوا تھا بلکہ علاقے کے بچے اور بڑے اس پر پتھر بھی پھینک رہے تھے۔ وہ بہت بُری حالت میں تھا۔‘

اس موقع پر میں نے بچوں اور لوگوں سے کہا کہ اس کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ اگر یہ ہلاک ہو گیا تو محکمے والے (وائلڈ لائف) کارروائی کریں گے۔ سب سے پہلے میں نے بچوں اور لوگوں کو سمجھا اور ڈرا کر وہاں سے بھگایا۔‘

اعتزاز کے مطابق جس جگہ پر وہ موجود تھا وہ بالکل بھی محفوظ مقام نہیں تھا۔ زخمی ہونے کی بنا پر بھی خطرے کا شکار تھا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش میں وہ مزید اپنے آپ کو زخمی کر رہا تھا۔

’اس کی دم باہر نکلی ہوئی تھی۔ میں نے اس کو دم سے پکڑا تو مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ کم عمر ہے اور اس کو میں آرام سے اپنے قابو میں کر سکتا ہوں۔ مگر ہے تو تیندوا۔ جنگل کا بادشاہ کا بچہ ہونے کے باوجود وہ اتنی آسانی سے قابو میں آنے والا نہیں تھا۔‘

’اس موقع پر میرے ساتھمدد کے لیے علاقے کے مقامی لائیو سٹاک کے اہلکار اور میرے دو کزن بھی موجود تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اس کے سامنے چادر پکڑو جب وہ چادر پکڑتے تو وہ کچھ پرسکون ہو جاتا ہے۔جس کے بعد میں نے اس کو دبوچ لیا۔ مگر دبوچتے دبوچتے بھی اس نے میرے ہاتھوں پر چند نشانات چھوڑ دیے تھے۔‘

راجہ اعتزاز علی کا کہنا تھا کہ سعد سلہریا نے زخمی تیندوے کو انجیکشن لگایا اور مرہم پٹی کی۔ جس کے بعد ہم نے اس کو اپنے گھر میں ایک پنجرے میں بند کر دیا۔

تیندوے کے بدلے رقم کی آفر

راجہ اعتزاز علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کو کم عمر تیندوا حاصل کرنے کے لیےلاہور اور مظفر آباد سے مختلف لوگوں نے دس لاکھ روپے تک کی آفر کی جو انھوں نے ٹھکرا دی تھی۔

’مجھے صرف پیسوں ہی کی آفر نہیں ہوئی بلکہ دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ مگر میرے ضمیر نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ میں پیسوں کی خاطر ایک جاندار کو ساری زندگی پنجرے میں رکھنے کا ذریعہ بن جاؤں۔ امید ہے کہ آزاد کیا گیا تیندوا نہ صرف اپنی نسل کی بقا کا ذریعہ بنے گا بلکہ وہ خود کے ساتھ انسانوں کے اچھے سلوک کو بھی یاد رکھے گا۔‘

’شاید تیندوے کو اس کی ماں پکار رہی تھی

راجہ اعتزاز علی کہتے ہیں کہ جنگلات میں گومتے ہوئے گذشتہ کئی سال سے تقریباً ہر سال کسی نے کسی تیندوے یا ان کے خاندان سے ان کا سامنا ہوتا ہے۔

’تیندوے کو گھر میں پنجرے میں بند کر کے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس مقام پر گیا جہاں سے ہم نے اس کا پیچھا کیا تھا تو وہاں ہم لوگوں نے تیندووں کے دھاڑنے کی آوزیں سنی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ تیندوے کی ماں اپنے بچے کو بلا رہی تھی۔‘

اعتزاز علی کے مطابق میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ تیندوے کو ابھی آزاد کر دیں، مگر وہ زخمی تھا اور اس بات کا خدشہ تھا کہ اس حالت میں اس کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ تین دن تک اس کو گھر میں رکھ کر دودھ اور گوشت دیتے رہے۔ وہ دودھ پی جاتا تھا مگر گوشت بہت کم کھاتا تھا۔ جس سے ہمیں لگا کہ یہ بہت ہی کم عمر ہے۔

’اس دوران علاقے بھر میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ میرے پاس تیندوا موجود ہے۔ اس کو کئی لوگ دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ میں ان سے معذرت کر کے ان کو منع کردیتا تھا کہ وہ لوگوں کو دیکھ کر حملہ کرنے کی کوشش کرتا اور اسکے مزید زخمی ہونے کا امکان موجود تھا۔‘

تیندوے کو آزاد کرنے کی خوشی بیان نہیں کرسکتا

اعتزاز کے مطابق جب تک تیندوے کے بچے کو رہا نہیں کیا گیا تب تک روزانہ انھیں زخمی تیندوے کے خاندان کی دھاڑنے کی آوازیں آتی تھیں۔

’وہتیسرا دن تھا۔ اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ اگر یہ کچھ زخمی بھی ہے تو کوئی بات نہیں۔ مگر میں اس کو رات کے وقت اس مقام پر جا کر چھوڑ دوں گا۔ جہاں پر یہ پھنس گیا تھا۔‘

’میں نے اکیلے ہی پنجرہ اٹھایا اور اس مقام سے تھوڑا آگے چلا گیا جہاں پر وہ پھنسا تھا۔ اس مقام کے پاس پہنچ کر مجھے واضح طور پر تیندووں کے دھاڑوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ مجھے ایسے لگا کہ جیسے وہ مجھے اوپر پہاڑ سے دیکھ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا وہ چند لمحے کے لیے رکے کیونکہ انھیں اس بات کا بھی خطرہ تھا کہ تیندوا پلٹ کر حملہ بھی کر سکتا ہے۔ ’رات کی تاریکی میں میں نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر پنجرہ کھول دیا۔‘

’وہ بہت تیزی سے دوڑتا پہاڑ اور جنگل کی اس طرف جا رہا تھاجہاں سے دیگر تیندوں کے دھاڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لمحوں کے اندر وہ میری نظروں سے غائب ہو گیا۔ اس موقع پر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بتا نہیں سکتا کہ میں بھی کسی جاندار کی آزادی کا سبب بنا ہوں۔‘

بعد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے محکمہ وائلڈ لائف نے مظفر آباد کے نواحی علاقے میں ایک کم عمر زخمی تیندوے کی مدد کرنے اور پھر اس کو اس کی قدرتی آمجگاہ میں چھوڑنے پر راجہ اعتزاز علی اور کمیونٹی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر نعیم افختار ڈارکا کہنا تھا کہ محکمہ راجہ اعتزاز علی کے جذبے اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انھوں نے ایک تیندوے کو محفوظکر کے انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments