امریکی ریاست شکاگو میں پولیس کی فائرنگ سے 13 سالہ لڑکے کی ہلاکت کی ویڈیو جاری

BBC NEWS

امریکی ریاست شکاگو کی پولیس نے ایک اہلکار کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ ایک تنگ گلی میں ایک 13 برس کے لڑکے پر فائرنگ کرتا نظر آرہا ہے۔

29 مارچ کی اس باڈی کیم ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار اس لڑکے ایڈم ٹولیڈو کو سینے میں گولی مارنے سے پہلے چیختا ہے کہ ’اسے پھینک دو۔‘

ویڈیو میں اس لڑکے کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نظر نہیں آتا تاہم پولیس کی ویڈیو میں لڑکے کے نیچے گرنے کے مقام پر ایک ہینڈ گن دکھائی دیتی ہے۔

جمعرات کی شام شکاگو میں اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب پولیس کے مطابق امریکی شہر انڈیانا میں فائرنگ کے ایک واقعے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اس واقعے میں حملہ آور اکیلا تھا اور اطلاعات ہیں کہ اس نے اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے تحفظ کو اب مزید کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ فیڈ ایکس کے دفتر میں پیش آیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق انھوں نے ایک شخص کو خودکار ہتھیار سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

فیڈ ایکس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمپنی کو اس واقعے کا علم ہے اور حکام کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

ایڈم ٹولیڈو کی ویڈیو میں کیا ہے؟

ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ ایک اور مشتبہ شخص کے غائب ہونے کے بعد پولیس اہلکار اپنی گاڑی سے نکل کر ایک تنگ گلی میں لاطینی نسل کے لڑکے کا پیچھا کرتا ہے۔

پولیس اہلکار چلاتے ہوئے کہتا ہے: ’پولیس! رُک جاؤ، فوراً رُک جاؤ! ہاتھ! ہاتھ! مجھے اپنے ہاتھ دکھاؤ!‘

لڑکا پلٹتا ہے اور اپنے ہاتھ اوپر کھڑے کر دیتا ہے۔ پولیس اہلکار چلاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’اسے پھینک دو‘ اور اپنی گاڑی سے نکلنے کے صرف 19 سیکنڈ بعد لڑکے پر فائرنگ کر دیتا ہے۔

ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں جب پولیس اہلکار بھاگتا ہوا آتا ہے تو یہ لڑکا رُکاوٹ کے درمیان خالی جگہ سے کچھ پھینکتا ہے۔

باڈی کیم ویڈیو میں فائرنگ کے بعد پولیس اہلکار کو لکڑی کی رکاوٹ کے پیچھے ایک ہینڈ گن پر روشنی ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس اہلکار ایمبولینس بلاتا ہے جبکہ لڑکے کو ’ہوش میں رہنے‘ کے لیے زور ڈالتا ہے۔ دوسرے پولیس اہلکار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں اور لڑکے کو سی پی آر دیا جاتا ہے۔

استغاثہ کے مطابق یہ لڑکا ایک 21 برس کے آدمی روبین رومن کے ساتھ تھا جس نے کچھ لمحے پہلے ہی ایک گزرتی کار پر فائرنگ کی تھی، جس کے بعد پولیس علاقے میں آ گئی اور یہ واقعہ رونما ہوا۔

میئر
،تصویر کا کیپشنشکاگو کی میئر لوری لائٹ فوٹ نے ایک پریس کانفرنس میں اس ویڈیو کو ‘دردناک’ قرار دیا

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روبین رومن سنیچر کے روز عدالت میں پیش ہوئے ہیں جہاں ان پر غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے، فائرنگ کرنے اور ایک بچے کی جان خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کے احتساب کے ادارے سویلین پولیس آف پولیس اکاؤنٹبیلٹی نے جمعرات کے روز باڈی کیم اور اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ علاقے میں ہونے والی فائرنگ کے آڈیو کلپس بھی جاری کیے ہیں۔

اب تک کیا ردعمل سامنے آیا ہے؟

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد شکاگو کی میئر لوری لائٹ فوٹ نے ایک پریس کانفرنس میں اس ویڈیو کو ’دردناک‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا ’ہم نے ایڈم کو ناکام کر دیا اور ہم اپنے شہر میں ایک اور نوجوان کو ناکام کرنا برداشت نہیں کر سکتے۔‘ تاہم انھوں نے عوام کو پر امن رہنے کی اپیل کی۔

انھوں نے کہا ’ہم ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جو پولیس کے تشدد اور برے رویے کی ایک لمبی تاریخ کی وجہ سے صدمے کا شکار ہے۔ چونکہ اس مخصوص واقعے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس کافی معلومات دستیاب نہیں ہیں تو یہ بات قابل فہم ہے کہ کیوں ہمارے شہری اشتعال اور درد محسوس کر رہے ہیں۔‘

ایڈم ٹولیڈو کے خاندان نے بھی لوگوں کو پر امن رہنے کی درخواست کی ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا ’ہم نے میڈیا کی کچھ رپورٹس میں سنا ہے کہ مزید مظاہروں کی تیاری ہو رہی ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں کوئی براہ راست معلومات تو نہیں ملی ہیں لیکن ایڈم کی یاد کو اعزاز دینے اور ریفارمز سے متعلق کام کرنے کی خاطر لوگ پر امن رہیں۔‘

جمعرات کے روز ٹولیڈو کے خاندان کی وکیل ادینا ویس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جس لمحے ایڈم کو گولی ماری گئی اس وقت ان کے ہاتھ میں کوئی بندوق نہیں تھی۔

لیکن شکاگو ٹریبیون کے مطابق وکیل ادینا ویس نے یہ بھی کہا کہ وہ ’100 فیصد یقین‘ کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس سے قبل ایڈم کے ہاتھ میں ہتھیار تھا یا نہیں۔‘

فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار کو ابھی تک سرکاری طور پر اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھرایا گیا۔ انکوائری کا نتیجہ آنے تک انھیں ایک انتظامی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

شکاگو سن ٹائمز کے مطابق مذکورہ پولیس اہلکار کی عمر 34 برس ہے۔ سنہ 2015 میں پولیس میں شامل ہونے سے پہلے وہ امریکی فوج کا حصہ تھے اور ان کے خلاف اس سے پہلے کسی قسم کی کوئی شکایت بھی نہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments