فرانس کا اپنی کمپینوں اور شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کا کہہ دیا

چند ماہ قبل فرانسیسی میگزین ’چارلی ہیبدو‘ نے گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے، اس اقدام پر دنیا بھر میں امت مسلمہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے ’چارلی ہیبدو‘ کی حمایت میں بیان دے کر اس غم و غصے کو مزید ہوا دی تھی۔

پاکستان میں ہونے والے حالیہ دھرنے اور جلاو گھیراو کی وجہ سے فرانس نے اپنے شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دے دیا۔پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ای میل کے ذریعہ یہ مشورہ دیا۔

ای میل میں فرانسیسی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں  فرانس اور فرانس کے لوگوں کو سنگین نوعیت کی دھمکیوں کی وجہ سے  کچھ عرصے کے لیے اپنے ملک واپس آجانا چاہیے۔ای میل میں مزید کہا گیا کہ  شہری کمرشل ائیر لائنز کے ذریعے فرانس واپس جا سکیں گے۔

فرانسیسی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ  اس دوران سفارتخانہ بدستور کھلا رہے گا اور محدود اسٹاف کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

دوسری جانب فرانسیسی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں مقیم فرانسیسی شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری صورتحال کے پیش نظر ان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا جس پر حکومت نے تحریک سے ایک تحریری معاہدہ کیا۔ جس کے تحت فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جانا تھا۔ اس سلسلے میں تحریکِ لبیک پاکستان کے موجودہ سربراہ سعد رضوی نے 20 اپریل تک معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کررکھا تھا۔ معاہدے کی تاریخ ختم ہونے سے قبل ہی سعد رضوی کو حکومت نے گرفتار کرلیا، جس پر ٹی ایل پی کے کارکنوں نے لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک بھر میں اہم شہرائیں بند کر کے دھرنے دے ہوئے ہیں۔ اس دوران کئی مقامات  پر تشدد واقعات  بھی رونما ہوئے۔ کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران تصادم میں جہاں 300 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے وہیں 2 پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد جان کی بازی بھی ہار گے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments