جاپانی ڈاک خانے کی سیر

یرے میزبان کی چھٹی تھی ، اس لیے میں نےان کے ساتھ قریبی جاپانی ڈاک خانے(post office) جانے کی حامی بھر لی۔ یہ ڈاک خانہ پاکستان کے ڈاک خانوں سے یکسر مختلف تھا۔ پہلی نظر میں مجھے یہ ڈاک خانہ کم اور اسٹیشنری شاپ زیادہ محسوس ہوا۔ ڈاک خانے کی بلڈنگ کا سامنےکا حصہ انگریزی کے حرف ڈی کی شکل کا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد پہلا دروازہ کھولنے پر بائیں طر ف اے ٹی ایم مشین تھی اور آگے جانے کے لیے میں نے ایک اور دوازہ کھولا اور ڈاک خانے میں داخل ہوگیا۔ کاؤنٹر کے پیچھے ایک نوجوان خاتون استقبال کے لیے کھڑی تھی۔ کاؤنٹر کے سامنے مختلف قسم کے رنگی برنگی اشتہاری پوسٹر لگے ہوئے۔ کچھ پوسٹر ز مختلف قسم کی ڈاک ٹکٹ کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔

 جاپان میں اب پوسٹ کارڈز کا استعمال اگرچہ بہت کم ہوگیا ہے۔ لیکن اب بھی دیدہ زیب رنگوں اور ڈیزائنوں میں پوسٹ کارڈز دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں نظر آئیں ، چونکہ ان اشیاء پر تحریر جاپانی زبان اور جاپانی رسم الخط میں تھی ، اس لیے میں ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہ کر سکا۔

میں ڈاک خانے کے مختلف گوشوں پر ایک طائرانہ نظرڈال رہا تھا جبکہ میرے میزبان ثاقب شبیر صاحب ڈاک خانے کے اے ٹی ایم میں کچھ کیش رکھ رہے تھے۔ جاپان میں کیش بنک میں جمع کروانے کے لیے قطار میں کھڑا ہونا نہیں پڑتا بلکہ صارفین کو یہ سہولت مہیا کی گئی ہے کہ وہ کیش مشین میں ڈال دیں۔ بعدازاں، بنک کے کارندے اس رقم کا اندراج اکاؤنٹ ہولڈر کے بنک اکاؤنٹ میں کر دیتے ہیں۔

japan store

اس سے ملتی جُلتی ایک سروس سعودی عرب بنک الراجحی کی اے ٹی ایم مشینوں میں پائی جاتی تھی۔ زمانہ طالب علمی میں(1997) جب مجھےآٹھ سو پچاس سعودی ریال ماہانہ وظیفہ ملتا تھا تو میں اس رقم کو ایک لفافے میں ڈال کر مشین میں اپنی بنک اکاؤنٹ کی معلومات کے ساتھ ڈال دیتا تھا، اور پیسے ہمارے اکاؤنٹ میں آجاتے تھے۔

جاپانی بوڑھا ڈاکیے کی کہانی:

سحری کے بعد میں سوجاتا تھا۔ آٹھ بجے اُٹھ کرمیں اپنی رہائیش گا ہ کے اوپر واقع مسجد میں اپنی منزل دہراتا تھا۔ مسجد کے آس پاس جو مکانات تھے ، وہاں اکثر ہُو کا عالم ہو رہتاتھا۔ لیکن جب کوئی کار یا ٹرک مسجد کی پارکنگ کے پاس والی سڑک پر سے گزرتی تو میں اُٹھ کر کھڑکی پر چلا جاتا کہ دیکھوں خاموشی کے اس ماحول کو کس نے مکدر کیا ہے۔ ایک دن مجھے زمین پر لوہے کے رگڑ نےکی آواز سنائی دی ،جیسے لاہور میں شرارتی نوجوان موٹر سایئکل کے اسٹینڈ کو زمین پر رگڑتے ہیں تو کانوں کے پردوں کو پھاڑدینے والی آواز پیدا ہوتی ہے اور رگڑسے زمین پر چنگاریاں نکلتی ہیں۔ یہ چنگاریاں دن کی روشنی میں بھی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔

اس آواز کے بعد لوہے کے چمٹے کے بجنے کی آواز سنائی دیتی عالم لوہار اور عارف لوہار اپنے چمٹے سے پیدا کرتے تھے۔ کئی دنوں تک تو مجھے ان آوازوں کا منبع نہ مل سکا۔ صرف آواز سنائی دیتی اور پھر یہ آوازآہستہ آہستہ دور ہوتی جاتی تھی۔لیکن جب میں کھڑ کی پر دوڑتا ہوا پہنچتا تو مجھے کوئی شخص یا کوئی گاڑی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ البتہ آواز سنائی دیتی رہتی تھی۔ میرے صبر اور تجسس کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا تھا۔ ایک روز میں نے اس آواز کا سُراغ لگا ہی لیا۔

مسجد کے عقبی محلے سے جب مجھے زمین پر لوہے کے رگڑنے اور پھر کے چمٹے کی موسیقی کی آواز سنائی دی تو میں فوراً کھڑی کی طرف لپکا۔ میری نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو ایک پرانی طرز کی سائیکل پر سوار تھا ۔ جب وہ سائیکل سے اُترنےکے لیے بریک لگاتا تو اس کے بریک شو پہیے سے رغر کھاتے اور ایک لمبی سے رگڑکی آواز پیدا ہوتی تھی۔ شاید اس کی سائیکل کی بریکیں بہت ڈھیلی تھیں۔ یا یہ رگڑنما آواز وہ اپنی آمد کی اطلاع دینے استعمال کر تا ہوگا تاکہ لوگ جان جائیں کہ ڈاکیہ آگیا ہے۔سائیکل سے اُترنےسے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو ہنڈل پر رکھ کر آگے کو جھک جاتا ، جیسے اُسے اُبکائی آرہی ہو۔ اس کے ساتھ ہی وہ تیزی دائیں ٹانگ ہوا میں لہراتے ہوئے گدی کے اُوپر سے گھما کر بائیں طرف زمین پر رکھ دیتا، اور سائیکل سے اتر جاتاہے۔

post man

اب وہ سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کرتا تو لوہے کے چمٹے کے بجنے کی آواز آتی۔ اس کی سائیکل کے کیرئیر پر ایک لوہے کی چادر کا ایک مربع شکل کا ایک ٹین کا صندقچہ تھا ، جس میں ڈاک اور پارسل رکھے ہوئے تھے۔ وہ بڑے انہماک سے اس صندوقچے کا ڈھکن کھولتا اور خطور یا پارسل نکالتا اور متعلقہ گھر کے لیٹر باکس میں ڈال دیتا تھا۔جب وہ صندوقچے کا ڈھکن کھولتا تو اس کاسربھی اس میں غائب ہوجاتا تھا۔اس بڈھے کی عمر لگ بھگ 70 سال ہوگی۔ برف کی طرح سفید اور لمبے بالوں پر ایک ٹوپی (cap) تھی جو اُسے دھوپ کی تمازت سے بچاتی تھی ۔

کورے لٹھے کی چادر کی طرح اس کی سفید لمبی لمبی مونچھیں لٹک رہی تھیں۔ اس کی بھویں بھی سفید اور گاڑھی تھیں۔ آنکھیں اس نےمیچی ہوئی تھیں یا شاید جاپانیوں کی آنکھیں اس سے زیادہ کھلتی ہی نہیں ہیں۔ سائیکل پر دوبارہ سوار ہونے سے قبل مذکورہ جملہ افعال الٹی ترتیب سے دہراتا اور سائیکل پر سوار ہوجاتاہے۔

جاپانی ڈاک خانے میں دی جانے والی سہولیات:

موجودہ جاپانی ڈاک خانے میں ڈاک ٹکٹ خریدنے اور خطوط حوالہ ڈاک کرنے کے علاوہ کئی دلچسپ قسم کی سہولیات دی جاتی ہیں۔ جن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جار ہا ہے۔

1۔گوتوچی فورم کارڈ(Gotōchi Formcard): یہ رنگ برنگے اور مختلف شکلوں کے پوسٹ کارڈز ہیں ۔ ان پوسٹ کارڈز کے ایک جانب پیغام لکھنے کی جگہ ہوتی ہے اور دوسری طرف کسی سیاحتی مقام کی تصویر ہوتی ہے۔ ان مقامات میں کوئی مندر، تاریخی مقام ، تاریخی شخصیات کی تصاویر بنی ہوتی ہیں۔ بعض پوسٹ کا معمے (jigsaw puzzle) کی شکل میں ہوتے تھے ۔ پیغام لکھنےکے بعد پوسٹ کارڈ کے مختلف ٹکروں کو الگ الگ کر دیا جاتا ہے۔ وصول کرنے والا اس پوسٹ کارڈ کے مختلف ٹکروں کو جوڑ کر اس پیغام کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے جو بڑا دلچسپ کھیل بن جاتا ہے۔

2۔ جاپان پوسٹ بنک(Japan Post Bank): یہ ایک اہم مالیاتی ادارہ ہے، جس کی شروعات 1875 میں پوسٹل سیونگ سسٹم (postal saving system)کے طور پر کی گئی تھی اور آج کل جاپان پوسٹ بنک بھی پوسٹ آفس کی عمارات سے الگ دوسری عمارات میں قائم ہیں ۔اس کے 205 ٹریلین ڈالر سے زائد کے اثاثے ہیں اور اس کی جاپان میں تقریبا ً24،000 شاخیں ہیں جہاں جاپان پوسٹ بنک اپنی خدمات ادا کررہا ہے۔

جاپان میں ڈاک سروس کی اهم اقسام:

جاپان میں ڈاک کا نظام تقریباً پرائیویٹ ہوچکا ہے۔ جاپان کےڈاک کا نظام دنیا میں بہترین پوسٹل سروسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ درج ذیل چار اہم کمپنیاں ہیں جوجاپان بھر میں ڈاک کی ترسیل کا کام کرتی ہیں۔

1۔ یماتو ٹرانسپورٹ(Yamato Transport): عُرف ِ عام میں لوگ اُسے ” Kuroneko ” (کالی بلی) کہتے ہیں۔ کالی بلی اس کمپنی کا شعار (logo) ہے۔ایک زدی مائل بیضوی دائرے کے اندر ایک کالی بلی اپنے منہ میں اپنا بچہ اٹھائے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ٹرکوں کا رنگ سبز اور سفید ہوتاہے۔ یہ سب سے زیادہ مشہور کمپنی ہے۔ ہماری مسجد کے پاس اس کے ٹرک اکثر آتے تھے۔ گلیوں میں چونکہ ٹرک داخل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس لیے ٹرک میں ایک سائیکل نکال کر اس پر ڈال لادھ دی جاتی اور ڈاکیہ اس ڈاک کو گھر گھر جاکر تقسیم کر آتا تھا۔

post man office

 ایک دن میں نے یہ منظر مسجد کی کھڑکی سے دیکھا کہ ٹرک کا پچھلا دروازہ کھولا گیا۔ اس میں سے ایک بالکل نئی سائیکل اتاری گئی ۔ اس کے بعد ایک دوشیزہ بھی اتری۔ جس نے سر پر ایک سبز رنگ کی ایک کیپ پہنی ہوئی تھی اور اس پر کالی بلی بنی ہوئی تھی۔ اس خاتون نے بڑے سلیقے سے اپنی ڈاک کو ترتیب دیا اور سائیکل کے کیرئیر میں حفاظت سے باندھا اور تیزی سے سائیکل ہوئی لیکن مجھے ایسا ہوا کہ وہ سائیکل پر نہیں بلکہ گھوڑے پر ہوئی ہےاور سرپٹ بھاگتے ہوئے گھوڑے کی طرح گلی کوچون میں غائب ہوگئی۔

2۔ سگاوا ایکسپریس(Sagawa Express): جاپان میں ایک اور بڑی ڈاک کی ترسیل کرنے والی کمپنی ، جس کا میں نے مشاہد ہ کیا ، وہ سگاوا ایکسپریس ہے۔ اس کی کے ٹرکوں پر ’نیلی اور چاندی نما دھاریوں والا شعار بہت نمایاں تھا۔ ہماری مسجد کے نیچے ارشد صاحب کی کمپنی کا دفتر تھا جہاں کاروں کی خرید و فروخت کا کام کیا جاتا تھا۔زیادہ تر آن لائن آکشن کے ذریعے گاڑیاں خریدی جاتی تھیں۔ ان گاڑیوں کے کاغذات اکثر وبیشتر سگاوا ایکسپریس کےذریعے آتے تھے۔ یہ بلٹی سروس کی طرح کی سروس بھی مہیا کرتی ہے جس میں پارسل کی وصولی پر رقم ادا کی جاتی ہے۔ اسےe-collect service کہاجاتا ہے۔

3۔ جاپان پوسٹ (Japan Post): یہ کمپنی بھی اپ پرائیوٹائز ہوچکی ہے۔لال رنگ کے لیٹر باکس، گاڑیاں اور لال رنگ کا شعار اس کی شناختی علامات ہیں۔ لال رنگ کے اسکوٹر پر سوار ڈاکیے ہرطرف گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان پوسٹ کی طرح یہ ایک دیسی پوسٹ نہیں ہے بلکہ ہر طرح کی جدت اس میں پائی جاتی ہے۔ اس کی Yu-Pack service خاصی مقبول ہے۔

4۔ سینو ٹرانزپورٹیشن(Seino Transportation):یہ جاپان کی چوتھی مشہور ڈاک سروس ہے۔ایک سرخ رنگ کا تیز رفتار دوڑتا ہوا کینگرو سینو ٹرانزپورٹیشن کا شعار ہے۔یہ کمپنی جاپان سے باہر بھی اپنی خدمات مہیا کرتی ہے۔

میرے میزبان نے، ثاقب شبیر صاحب، ڈاک خانے کے کی اے ٹی ایم میں کیش ڈالنے کے بعد ایک اسٹور پر رُکے جہاں سے افطاری کا کچھ سامان خریدا ۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments