سلطنت عثمانیہ اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی، کسی بیرونی طاقت کو حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہر شہید اور ہر غازی ہماری آزادی اور ہمارے مستقبل کی علامت ہے۔

وہ انقرہ کے صدارتی محل میں “چناکلے کی جنگ کے ہیرو” کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد کی جانے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

جنگ عظیم اول

ترکی میں آج جنگ عظیم اول میں چناکلے کے مقام پر لڑی جانے والی جنگ کے 106 سال مکمل ہونے کی یاد منائی گئی۔ اس میدان جنگ میں ترک فوج نے بہادری کے جوہر دکھائے۔ اس جنگ کی قیادت جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے کی تھی جو اُس وقت سلطنت عثمانیہ کی فوج کے سپہ سالار تھے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ شہید کے ہر خون کا قطرہ ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ آج شہیدوں کے لواحقین کو اعزاز دیئے جا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آج ہم ایک آزاد ملک میں سکون اور اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں جو ہمارے شہیدوں کی امانت ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ اللہ خود فرماتا ہے کہ شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ترک قوم عالمی برادری میں سر بلند کر کے جی رہی ہے جس کے لئے ہمارے شہیدوں نے قربانیاں دیں۔ وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو اپنے شہیدوں کو بھول جاتی ہے۔ ترک فوج، سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جس عزم اور ہمت سے لڑی ہے آج ہم ان کی قربانیوں کا صلہ نہیں دے سکتے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ سلطنت عثمانیہ اپنے اندرونی اختلافات اور تقسیم کے باعث ختم ہوئی۔ کوئی بیرونی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکی۔ آج ہمیں ترک قوم کو اسی تقسیم اور اختلاف سے بچانا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔ ترکی کا مستقبل اس کی قوم کے اتحاد اور نظم و ضبط میں ہے۔ کوئی ہمیں اس وقت تک شکست نہیں دے سکتا جب تک ہم متحد ہیں۔ قوموں کا اتحاد ہی ان کی زندگی اور مستقبل ہوتا ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments