شکست خوردہ پی ڈی ایم اور اپوزیشن کا لائحہ عمل

قلم گزیدہ ثوبیہ عباس 

حکومت اور اسکے اتحادی خوشی کے ڈنکے بجا رہے ہیں کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ اتحاد چلنے والا نہیں ھے اور یہ ایک کرپشن اور چوری بچاؤ اتحاد ھے وغیرہ وغیرہ۔ دل شکستہ پی ڈی ایم بغلیں تو نہیں بجا رہی مگر حکومت کا بینڈ بجانے میں فی الوقت ناکام ھے کم از کم حکومتی ناؤ کو زرداری صاحب کی مدد میسر آ گئ ھے اور کسی مشیر نے یہ نہیں بتایا کہ بلاول صاحب جو واشگاف الفاظ میں سلیکٹڈ والی گردان سنایا کرتے تھے وہ کیا ہوئ ؟غالباٌ پیپلز پارٹی نے سلیکٹڈ کو تسلیم کر لیا ھے تسلیم تو خیر ہماری حکومت نے مودی صاحب کو بھی کر لیا ھے ۔یہ ہی وجہ ھے کہ اب امن کا جھنڈا لہرانے ،تجارت کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں شاید آنے والے سال میں نریندر مودی اور وزیر اعظم پاکستان ملاقات بھی کریں ۔یہ سب بہت خوش آئند ھے بھارت اور پاکستان کے عوام مدتوں سے غربت ،بھوک ،بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ان دونوں ممالک کا زر کثیر دفاعی اخراجات پر صرف ہوتا ھے ایسے میں ایک واحد راستہ مذاکرات کا رہ جاتا ھے جو ان مسائل کے حل میں مددگار ہو سکتا ھے لیکن یہ بھی سچ ھے کہ دو چار سال کا قصہ ھے دو چار صدی کی بات نہیں ایک ہمارے سابق وزیر اعظم تھے اور تھے کیا ، اب بھی ہیں مگر وزیر اعظم نہیں ہیں تو وہ بھی امن کی تمنا دل میں رکھتے تھے اور پڑوسی سے صنعت و تجارت کے زریعے تعلقات مستحکم کرنے کے خواہاں تھے مگر اسوقت کے ہمارے اپوزیشن لیڈر نہایت جی دار تھے ،کسی سے ڈرتے نہ تھے بلکہ انہیں مودی کے یار تک کا خطاب دے ڈالا تھا مگر وہ کیا ھے کہ بدلتا ھے رنگ آسمان کیسے کیسے، لہزا جی دار اپوزیشن حکومت میں تبدیل ہو گئ اب ایک نہایت بزدل اپوزیشن میدان میں موجود ھے اور اسمیں سے بھی کچھ بھاگنے کی فکر میں ہیں اور کچھ کو حکومت بھگانے کی فکر میں ھے ۔مریم نواز پیپلز پارٹی کی بے وفائی کے بعد سیاسی میدان سے فی الحال غایب ہیں انکے ڈاکٹرز نے انہیں گلے کی تکلیف کے سبب کچھ دن آرام کا کہا ھے شنید ھے کہ وہ اپنے گلے کی سرجری کے لیے باہر جاییں گی اور یہ ایک مختصر دورہ ہوگا البتہ حکومت چاہتی ھے کہ جاییں تو نواز شریف صاحب کی طرح ادھر قیام کریں مگر امید ھے کہ مریم نواز اس معاملے پر حکومت کو ٹف ٹایم دیں گی مولانا بھی اپنا لایحہ عمل طے کر رہے ہیں جو آنے والے دنوں میں واضح ہو جاے گا مگر ملک پر چھایا منہگای اور نااہلی کا غبار بدستور موجود ھے اور اب جب ماہ رمضان شروع ہونے والا ھے امید ھے کہ منہگای بام عروج کو پہنچ جاے گی ۔اسوقت کراچی میں چینی کا ریٹ سو روپے سے زیادہ ھے اور مرغی بھی تقریبا ساڑھے چار سو روپے کلو دستیاب ھے باقی پھل اور کھجور وغیرہ کا اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ منافع خوروں کی عید تو ،عید سے پہلے ہو جاتی ھے گوکہ شیاطین اس ماہ مقدس میں قید کر دیے جاتے ہیں البتہ منہگای مافیا ،منافع خور اور اس قبیل کی دوسری مخلوقات قید نہیں ہوتیں اور یہ ہی ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی ھے کہ انکی گرفت ان مافیا پر کمزور ھے حکومت کے ہاتھ میں بس ن لیگ کی گردن ھے لہزا زور بھی انتقامی سیاست پر ھے اپنی کارکردگی پہ نہیں ھے مریم نواز پاکستان میں رہیں یا باہر جایئں یہ عوام کا حقیقی مسلہ نہیں ھے بلکہ انکا مسلہ بے انت منہگای اور اشیاء صرف کی بے قابو ہوتی قیمتیں ہیں مافیا کی گردن دبوچ کر دکھائیں تو مانیں گے کہ حکومت کی رٕٹ بھی ھے۔ ورنہ یہ چور، لٹیرے فلاں کرپٹ کی رٹ سے کسی کو فایدہ نہیں ہو گا 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments