ایک ایسا موقع بھی آیا جب وہ دونوں راستے میں بچھڑ گئے… ائیرپورٹ سے شروع ہونے والی محبت کی ایسی کہانی جو پریوں کے قصے سے کم نہیں

 ارجا کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی میں اس کے سحر میں گرفتار ہوگیا۔ اس کی آنکھیں اور مسکراہٹ بہت خوبصورت تھیں ( جیزز نے اپنی بیوی سے پہلی بار ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا) جیزز اور ارجا کی محبت کی کہانی بالکل پریوں کی خوبصورت داستان جیسی ہے۔ جس میں ایک لڑکے کو ایک لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے اور اس محبت کا انجام ہمیشہ کے ساتھ کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ کہانی تب شروع ہوئی جب 1991 میں نیویارک کی رہائشی ارجا اپنی روزانہ کی زندگی سے تھک چکی تھیں۔ وہ ذاتی طور پر تنہائی کا شکار تھیں اوران تمام مسائل سے نمٹنے کے لئے انھوں نے ایک ایسا سفر کرنے کا ارادہ کیا جو نا صرف ان کو اندرونی خوشی دے بلکہ وہ تاریخ اور کلچر کے بارے میں نئی چیزیں بھی سیکھ سکیں۔ لیکن ارجا نہیں جانتی تھیں ان کا یہ سفر ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کرنے والا تھا۔ارجا نے میکسیکو کے شہر اوشاکا جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے دوستوں کو بھی اس بارے میں بتایا۔ ارجا کے ایک دوست مارکس نے ان کی مدد کے لئے اوشاکا میں موجود اپنے ایک اور دوست جیزز سے بات چیت کی جس نے ارجا کی مدد کرنے کے لئے حامی بھر لی۔جیزز میکسیکو کے شہری ہی تھے لیکن دو نوکریاں کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا لیکن انھوں نے اپنے دوست کو انکار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ 

 وہ لمحہ جب ارجا، جیزز سے بچھڑ گئیںجب ارجا ائیرپورٹ پر پہنچیں تو انھوں نے دیکھا کہ جیزز وہاں موجود ہیں اور جہاں جیزز، ارجا کی آنکھوں اور مسکراہٹ کے سحر میں گرفتار ہوئے وہیں ارجا بھی جیزز کی شخصیت کی مداح ہوگئیں۔ ارجا کے خیال میں جیزز بہت شائستہ مزاج اور نیک دل انسان محسوس ہوئے۔ جیزز کو ارجا کی سفر کے دوران مدد کرنے کا کام سونپا گیا تھا جس کے لئے انھیں ساتھ ہی سفر کرنا تھا۔ البتہ ایک ایسا موقع بھی آیا جب وہ دونوں راستے میں بچھڑ گئے تھے۔ اس وقت موبائل فون یا میسجز کا تصور تو تھا نہیں۔ جیزز جو ائیر پورٹ پر موجود تھے اور ارجا کو ڈھونڈنے میں ناکام ہوچکے تھے۔ اچانک انھوں نے ائیرپورٹ کے عملے سے اسپیکر پر ارجا کے لئے اعلان کرنے کو کہا اور جب وہ انھیں مل گئیں تو انھوں نے سکون کا سانس لیا۔

 جیزز واحد شخص تھا جس نے بیماری میں میرا ساتھ دیاسفر ختم ہونے کے بعد ارجا خوشگوار یادیں سمیٹ کر واپس نیویارک چلی گئیں البتہ دونوں نے ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کا وعدہ کرلیا تھا۔ اس دوران وہ دونوں خط و کتابت کرتے رہے اور اچانک جیزز نے ارجا کی فون کالز کا جواب دینا بند کردیا جس پر ارجا شدید مایوس ہوگئیں اور سمجھیں کہ جیزز اب ان سے بات نہیں کرنا چاہتے لیکن اچانک ارجا اور جیزز کے مشترکہ دوست مارکس نے ارجا کی ملاقات جیزز سے کروادی۔ جیزز نے کہا کہ وہ ارجا کو سرپرائز دینا چاہتے تھے۔ اسی دوران ارجا بیمار بھی ہوئیں اور تب جیزز نے ان کا بھرپور خیال رکھا۔ ارجا کہتی ہیں “جیزز واحد شخص تھا جس نے بیماری میں میرا ساتھ دیا“ اس کے بعد ان دونوں نے دسمبر 1995 میں شادی کرلی۔

 ارجا اور جیزز اب کیسی زندگی گزار رہے ہیںان دونوں کی شادی کو تیس برس گزر چکے ہیں اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام ایریکا ہے اور یہ تینوں نیویارک میں ہی رہتے ہیں۔ جیزز کہتے ہیں کہ انھوں نے ارجا کی خاطر نیویارک میں ہی رہائش اختیار کی اور بیٹی کا نام بھی ایسا رکھا جو دونوں کے کلچر سے مماثلت رکھتا ہو ۔ انھوں نے اپنی محبت کی داستان اپنی بیٹی کو بھی سنائی ہے جس پر ان کی بیٹی کا کہنا ہے کہ “یہ ایک پریوں کی کہانی جیسی ہے اور ان کی کہانی سے محبت کی سچائی پر یقین ہوتا ہے“ ارجا کہتی ہیں کہ پچھلے سال ان دونوں میاں بیوی نے کووڈ کا سامنا بھی کیا جس نے ان کے رشتے کو اور مضبوط کیا ہے جبکہ جیزز کا کہنا ہے کہ بلاشبہ ان دونوں میں اختلافات ہیں اس کے باوجود بھی وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments