نیوزی لینڈمیں تمباکو سے پاک نسل کا خواب حقیقت بنانے کی جانب گامزن

ویلنگٹن( این این آئی۔ 17 اپریل2021ء) نیوزی لینڈ ایک ایسی قانون سازی پر غور کر رہا ہے جس کے تحت 2004 کے بعد پیدا ہونے والے شہریوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی ہو گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق قانون سازی کا بنیادی مقصد نیوزی لینڈ کو 2025 تک تمباکو نوشی سے پاک کرنا ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے تجویز پیش کی گئی تھی کہ ملک کو 2025 تک دھویں سے پاک کیا جائے۔ اگر یہ نیا قانون منظور ہوگیا تو اس کے بعد آئندہ مرحلے میں بتدریج سگریٹ نوشی کے لیے عمر میں اضافے کا قانون لایا جائے گا۔ اس حوالے سے پہلے مرحلے میں یہ کیا جائے گا کہ بڑے اسٹوروں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ سگریٹوں کو فروخت نہ کریں اور ساتھ ہی سگریٹوں میں نیکوٹین کی مقدار بھی کم کی جائے گی۔اعداد و شمار کے مطابق 50 لاکھ آبادی والے نیوزی لینڈ میں تقریبا 5 لاکھ افراد یومیہ 10 یا اس سے زائد سگریٹ پیتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت ڈاکٹرعائشہ ویرال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہرسال صرف تمباکو نوشی کی وجہ سے ہمارے ملک میں 4 ہزار 500 افراد موت کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2025 تک نیوزی لینڈ کو تمباکو سے پاک کرنے کے مقصد کے حصول کی خاطر ہمیں تیزی دکھانا ہو گی وگرنہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔نیوزی لینڈ میں اس مقصد کے لیے جہاں بہت سے دیگر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تو وہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ عام دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ سگریٹ فروخت نہ کریں، بڑے اسٹورز بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں اور سگریٹوں کو فلٹر کے ساتھ استعمال کرایا جائے تاکہ بد اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ڈاکٹر عائشہ کے مطابق اگر 2022 سے ہم نے 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی لگادی تو سگریٹ سے پاک نسل کا خواب ایک حقیقت بن جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی منظوری کا مطلب یہ ہو گا کہ 2004 کے بعد پیدا ہونے والا کوئی بھی شہری کبھی بھی قانونی طور پرسگریٹ خریدنے کا مجاز نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ اس میں عمر کی حد بڑھائی جا سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن بھی ڈاکٹر عائشہ کے خیال سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ اگر 2022 تک 18 سال سے کم عمر کے افراد کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی لگادی گئی تو سگریٹ سے پاک نسل کا خواب حقیقت بن سکتا ہے لیکن ہر نیوزی لینڈ کا شہری اس انتہائی اقدام کے حق میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس بات کی بھی نہایت طاقتور دلیل موجود ہے کہ قانون سازی کے بعد سگریٹوں کی فروخت کے لیے بلیک مارکیٹنگ شروع ہو جائے گی اور پھر تیز نیکوٹین والی سگریٹیں بھی مارکیٹ میں جگہ بنائیں گی۔ جو افراد انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کا مشورہ دے رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے بعد سگریٹوں کے عادی افراد اپنی سگریٹ نوشی کے لیے جرم کا راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اس کے لے مجبور ہوں گے۔سگریٹ کی فروخت پر پابندی کے قانون سے متعلق عام دکانداروں، اسٹورز مالکان، کارنر شاپس اونرز اور سروس اسٹیشن والوں کا استدلال ہے کہ ایسا کرنے سے ملک میں دیوالیہ پن کا سونامی بھی آسکتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو اس خیال کے حامی ہیں کی تمباکو کی صنعت کی تدفین کے لیے اس قانون کی منظوری اور اس پر عمل درآمد بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنے لوگوں کو اس کی وجہ سے دفن نہ کریں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments