لاہور میں تحریک لبیک کا احتجاج: اہلسنت علما کی ملک گیر ہڑتال کی کال، مولانا فضل الرحمان کا حمایت کا اعلان

BBC NEWS

پولیس، ٹی ایل پی

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے بھی ہڑتال کی کال میں مفتی منیب الرحمٰن سے ‘مکمل تعاون’ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اتوار کو پولیس حکام کے مطابق ٹی ایل پی کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئیں جن میں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔

دوسری جانب اتوار کی شب ٹی ایل پی کے عہدے دار اور رکن شوریٰ و سربراہ مذاکراتی کمیٹی علامہ محمد شفیق امینی نے کہا کہ ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور اعلان جو بھی ہوگا وہ مرکزی شوریٰ کیطرف سے جاری ہوگا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات جاری رہینگے اس وقت تک مرکز میں ہمارا پر امن احتجاج جاری رہے گا۔

مفتی منیب نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا؟

کراچی کے دارالعلوم امجدیہ میں مفتی منیب کی زیر صدارت موجودہ صورتحال پر تنظیمات اہلسنت کا اجلاس ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ ٹی ایل پی کی قیادت کو جمع کیا جائے اور بات چیت کی جائے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جیلوں میں قید کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم بطور احتجاج 19 اپریل بروز پیر کو ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں اور تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے امید ہے کہ وہ تعاون کریں گے۔

حکومتی رد عمل

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے لیکن بلیک میل نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں پولیس اور رینجزر اہلکاروں کو اغوا کیا گیا اور ان کی رہائی کے لیے آپریشن ہوا تھا۔

اتوار کو کیا ہوا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئی ہیں۔

یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔

ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر دھاوا بولا جبکہ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت پولیس کے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔

ڈی ایس پی نواں کوٹ، دیگر پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا‘

نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی کے مظاہرین نے 12 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ پولیس کے مطابق ’رینجرز کے دو جوان بھی تحریکِ لبیک کے کارکنان کے قبضے میں ہیں۔‘

پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ’پولیس اہلکار کو گذشتہ روز اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ روٹی لینے کے لیے قریبی تندور پر پہنچے تھے جبکہ ڈی ایس پی نواں کوٹ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو نواں کوٹ تھانے پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا۔‘

ادھر ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کا ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زخمی حالت میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے قبضے میں ہیں۔

پولیس، ٹی ایل پی

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مذہبی تنظیم کے کارکنوں نے گذشتہ روز قریبی پٹرول پمپ سے پٹرول سے بھرے دو ٹینکر بھی قبضہ میں لیے تھے جو تاحال ان کے مرکز کے قریب کھڑے ہیں اور ’اس پٹرول سے وہ پٹرول بم بنا کر پولیس پر حملے کرتے رہے ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال آپریشن روک دیا گیا ہے کیونکہ پولیس کے اہلکار تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان کی حراست میں ہیں اور ’وہاں آئل ٹینکر موجود ہیں جن میں 55000 لیٹر پٹرول موجود ہے اور اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔‘

پولیس کے مطابق سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشن خود چوک یتیم خانہ کے علاقے میں موجود ہیں جبکہ پولیس پر مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور میں اس وقت چوک یتیم خانہ کے علاوہ سکیم موڑ اور بابو صابو کے علاقے بھی احتجاج کی وجہ سے بند ہیں۔

ادھر کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کی مرکزی شورٰی کے رہنما علامہ شفیق امینی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں ان کے دو کارکن ہلاک اور 15 شدید زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہلاک کارکنان کی تدفین اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ’فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال نہیں دیا جاتا۔‘

خیال رہے کہ مذکورہ علاقے میں ٹی ایل پی کا احتجاج گذشتہ ہفتے سے جاری ہے۔

اتوار کو پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ایل پی نے ملک کی 192 جگہوں کو بند کیا تھا، جن میں سے 191 جگہیں کلیئر کرا لی گئی ہیں۔

’صرف لاہور یتیم خانہ چوک بند ہے اور اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

راولپنڈی اسلام آباد میں بھی سکیورٹی سخت

لاہور میں جھڑپوں کے بعد راولپنڈی میں بھی ایک مرتبہ پھر پولیس اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر کنٹینر بھی کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ اس وقت جڑواں شہروں کے اندر بھی مختلف مقامات پر پولیس اور رینجرز اہلکار دکھائی دے رہے ہیں

راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد پل کے نیچے مرکزی شاہراہ کے اطراف میں بھی کنٹینرز تاحال رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستے سیل کرنے میں استعمال کر رہی ہے۔

لاہور تحریک لبیک

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان نے 20 اپریل کو فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دینے والا مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت چند روز قبل ہی پابندی عائد کی ہے۔

اس پابندی کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ‘میں سب پر واضح کر دوں کہ: ہماری حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی۔‘

‘جب انھوں نے ریاستی عملداری کو للکارا اور کوچہ و بازار کو فساد سے بھرتے ہوئے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ آور ہوئے۔ کوئی بھی آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔’

اس سے قبل انھوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ملک بھر میں انتشار کو ہوا دے کر حکومت کو بلیک میل کرنے کی غرض سے پھیلائے جانے والے منظم تشدد کا جوان مردی سے سامنا کرنے پر میں اپنی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

تحریک لبیک کے ملک میں احتجاجی مظاہرے

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے اجتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس دوران زیادہ کشیدگی والے علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کی گئی تھی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا تھا۔

اس احتجاج کے تناظر میں جمعے کو پاکستان کی حکومت نے ملک میں چار گھنٹوں کے لیے سوشل میڈیا کی متعدد اہم ویب سائٹس تک رسائی پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ نمازِ جمعہ کے دوران لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا کیونکہ ’سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مظاہروں پر اُکسایا جاسکتا ہے۔‘

ٹی ایل پی

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ، دیگر رہنماؤں کے خلاف دہشتگردی کے مقدمے درج

گذشتہ ہفتے کے دوران ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں میں کم از کم تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد لاہور اور کراچی میں جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی اور دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔

پولیس کی جانب سے سعد رضوی کی گرفتاری کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی گئی تھی تاہم اس اقدام کو تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف ناموس رسالت مارچ کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔

لاہور اور کراچی کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔

پولیس کی مدعیت میں ایک مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں درج کیا گیا ہے اور اس میں سعد رضوی کے علاوہ قاضی محمود احمد قادری، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، مہر محمد قاسم، محمد اعجاز رسول، پیر سید عنایت علی شاہ، مولانا غلام عباس فیضی، مولانا غلام غوث بغدادی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔

ان رہنماؤں پر یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات برائے قتل، اغوا اور دیگر سمیت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت درج کیا گیا۔

ٹی ایل پی

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد سمیت دیگر نے سوشل میڈیا اور مسجدوں سے اعلانات کے ذریعے عوام کو پرتشدد احتجاج اور پورے پاکستان کو جام کرنے پر اکسایا۔

اس کے علاوہ کراچی کے مشرقی ضلع کے چار مختلف پولیس سٹیشنوں میں 30 افراد کے خلاف پانچ مختلف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں دو ایف آئی آر میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں۔

گذشتہ برس خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔

حکومت اور ٹی ایل پی میں 2020 کا معاہدہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments