کالعدم تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن: کیا ملک میں تشدد اور دہشت گردی کی نئی لہر آ سکتی ہے؟

Courtesy-BBC URDU

  • اعزاز سید
  • صحافی
پاکستان

کالعدم تحریک لبیک پاکستان پرپابندی کے بعد جاری کریک ڈاؤن بالخصوص اتوار کو لاہور میں یتیم خانہ چوک پر ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد ملک بھر میں بحث جاری ہے کہ کیا ملک میں دہشت گردی اور شدت پسندی مذہبی تشدد کی شکل میں ایک نئے انداز میں سامنے آ چکی ہے یا نہیں اور کیا دہشت گردی کے الزامات پر کالعدم قراردی گئی جماعت واقعی دہشت گردی اور تشدد کو ایک نیا اور منظم رنگ دے گی۔

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ماضی قریب اور بعید کے بعض واقعات کا جائزہ لینا ہو گا۔

18 مارچ 2021 کو اسلام آباد میں ایس پی سٹی دفتر کے باہر ایک شخص نے موقع پر تعینات پولیس اہلکار سے بندوق چھین کر چار کے قریب فائر کیے۔ مذکورہ شخص ایس پی سٹی دفتر سے ملحق غیر ملکی سفارتخانوں کے لیے مختص علاقہ ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل ہو کر فرانسیسی سفارتخانے پر حملے کا ارادہ رکھتا تھا۔

پولیس کے مطابق پنجاب کے ضلح سرگودھا کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون کا رہائشی منصورعلی پبلک ٹرانسپورٹ پر بیٹھ کر اسلام آباد پہنچا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ فرانس میں پیغمبرِ اسلام کی شان میں کی گئی مبینہ توہین کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ مذکورہ شخص سے پوچھ گچھ کی گئی تو پتا چلا کہ وہ تحریک لبیک پاکستان کا کوئی باقاعدہ رکن تو نہیں تھا مگر اس جماعت کی طرف سے صوبے میں قائم کیے گئے ماحول سے متاثر تھا لہٰذا اس پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھیج دیا گیا۔

اس واقعے سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ گذشتہ ہفتے کالعدم کی گئی مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے مذہب کے نام پر ملک میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص ایک ایسی فضا ضرور پیدا ہوئی ہے جس سے لوگوں کے اندر برداشت ختم ہوئی اور وہ انتہاپسندی کی طرف راغب ہوتے ہوئے دہشت گردی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔

یہ ایک اکلوتا واقعہ نہیں۔ پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ایک سابق سینیئر افسرنے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کم و بیش دو ڈھائی سال قبل ایک شخص نے خادم حسین رضوی کے فون پر کال کی اور انھیں بتایا کہ وہ کسی شخص کو توہین رسالت کا مرتکب سمجھتا ہے اور اسے جان سے مارنا چاہتا ہے۔

افسر کے بقول خادم رضوی نے جواب میں کہا کہ ’کیا یہ باتیں فون پر کی جاتی ہیں؟‘

خادم رضوی کا فون چونکہ ٹیپ کیا جا رہا تھا لہٰذا مذکورہ شخص کو گرفتار کر کے مقدمہ قائم کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔

پاسکتان
،تصویر کا کیپشنسعد رضوی (درمیان میں) نے اپنے والد اور تنظیم کے سربراہ خادم حسین رضوی کی گذشتہ برس وفات کے بعد جماعت کی سربراہی سنبھالی تھی

کالعدم تحریک لبیک کے بانی خادم رضوی اور ان کے جانشین سعد رضوی کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے تاہم ان پر ملک میں توہین رسالت کے نام پر ایسی فضا پیدا کرنے کا ضرورالزام ہے جس سے مختلف افراد کو محض الزام عائد کر کے قتل کیے جانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو جنوری 2011 میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد 29 فروری 2016 کو سلمان تاثیر کے قتل کی سزا پانے والے ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد سے اس جماعت کا پنجاب میں عروج دیکھنے میں آیا۔

اسی وقت ملکی اسٹیبلشمنٹ پر اس جماعت کو اس وقت کی حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

پھر یہ جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹر بھی کر لی گئی۔ اس معاملے پر سبھی خاموش بھی نہیں تھے۔ جہاں سیاسی سطح پر کچھ دبے الفاظ میں ردعمل دیا گیا وہیں اس وقت نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے چھ دسمبر 2017 کو اپنے مراسلے میں حکومت پاکستان کو اس جماعت کی سرگرمیوں سے خبردار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس جماعت پر کڑی نظر رکھی جائے مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کی سفارشات کو نظرانداز کر دیا گیا۔

تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے دوران گذشتہ برس فرانس میں ہونے والے واقعات کے تناظرمیں یہ تنظیم دو بار اسلام آباد آ چکی ہے۔ نومبر 2020 میں تو حکومت کو اس جماعت کے ساتھ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے اپنے اس وقت کے وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے دستخطوں سے معاہدہ بھی کرنا پڑا۔

پاکستان
،تصویر کا کیپشنخادم حسین رضوی کی سربراہی میں نومبر 2020 میں تو حکومت کو ٹی ایل پی کے ساتھ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے اپنے اس وقت کے وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے دستخطوں سے معاہدہ بھی کرنا پڑا۔

حکومت کو ’بے بس‘ کر کے ان سے اپنی باتیں منوانے کے باعث یہ تنظیم ملک بھر میں مقبولیت پکڑتی رہی اور صورتحال یہ ہو گئی کہ 11 اپریل کو جب دو حکومتی وزرا شیخ رشید احمد اور نورالحق قادری تحریک لبیک سے مذاکرات کے لیے پہنچے تو پنجاب میں انٹیلیجنس کے مقامی حکام نے اس جماعت سے ملاقات کے لیے رابطے شروع کیے۔

حیران کن طورپر ان حکام کو تنظیم کے رہنماؤں سے رابطے اور ملاقات کے دو گھنٹے تک کا انتظار بھی کرنا پڑا۔

مذاکرات کے دوران اس تنظیم کے عہدیداروں کو وفاقی وزرا کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی قرارداد کا متن دکھایا گیا مگر تنظیم کی طرف سے اسے مسترد کر دیا گیا اور حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ حکومت فرانس اور یورپی ممالک کا نام لے کر ان کے خلاف قرارداد ایوان میں پیش کرے۔

واقفان حال بتاتے ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے تمام واقعات کے تناظر میں اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ 12 اپریل 2021 کو کیا گیا اور اسی وقت آئی جی پنجاب انعام غنی کو ہدایت کی گئی کہ وہ سعد رضوی کو گرفتار کرلیں۔

اس ہدایت پرفوری عملدرآمد ہوا تو سب سے زیادہ ردعمل لاہور میں آیا تاہم ملک کے دیگر شہروں میں بھی قابل ذکر مظاہرے کیے گئے تاہم پنجاب پولیس اس سارے معاملے میں جماعت کی قیادت کو گرفتار کرنے کے حوالے سے باقی سب پر سبقت لے چکی تھی لیکن پالیسی سازوں کی طرف سے بنائی گئی پالیسی میں پولیس کی ان پٹ نہ ہونےکے باعث سعدرضوی کے ساتھ ہی پورے ملک بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کے ضلعی عہدیداروں کو قابو نہ کیا گیا اور اس غلطی سے پنجاب اور کراچی میں کاروبارزندگی بڑی حد تک معطل رہا۔

ایک اعلیٰ سرکاری شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 13 اپریل کو وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور ساری صورتحال کے تناظر میں وزیرداخلہ شیخ رشید کو بتایا گیا کہ اس تنظیم پر پابندی کا اعلان کردیا جائے جو اگلے روز ہوا اور 15 اپریل کو پابندی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

پابندی عائد کرتے ہوئے اس تنظیم پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ ایک منفرد واقعہ اس لیے بھی ہے کہ اس تنظیم کی طرف سے باضابطہ طورپر کبھی فرقہ واریت کی بنا پر قتل و غارت گری، دھماکوں یا خودکش حملوں وغیرہ کی بات نہیں کی گئی۔

اس حوالے سے سابق انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد طاہر عالم کا کہنا ہے کہ ’تحریک لبیک پاکستان کوئی فرقہ وارانہ دہشت گرد جماعت نہیں جو دوسرے فرقوں کا قتل جائز سمجھتی ہو یا بین الاقوامی ایجنڈے کی حامل ہو بلکہ یہ ایسی جماعت ہے جو عشق رسول میں تشدد کا عنصر شامل کر بیٹھی ہے۔‘

پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ ’اس جماعت کے لوگ رینجرز یا فوج پر حملے نہیں کرتے تاہم پولیس پر حملے کرتے ہیں جو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن چھ کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔‘

ایسا نہیں کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے اس معاملے پر پہلے سے نظر نہیں رکھی جا رہی تھی بلکہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے ہر ضلعے کی سطح پر اس جماعت کے کل 108 ایسے رہنماؤں و کارکنوں کی فہرست تیار کر رکھی تھی جنھیں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے شیڈول فور میں مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اس فہرست میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے جن کی طرف سے کسی بھی علاقے میں تشدد، دہشت گردی یا امن عامہ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔

تاہم محکمہ انسداد دہشت گردی کی یہ کاوشیں 11 جنوری 2021 کو ایک بار پھر اس وقت نظر انداز کر دی گئیں جب وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد و وزیرِ مذہبی امور نورالحق قادری کی طرف سے اس تحریک کے ساتھ معاہدہ کر کے ان افراد کے نام شیڈول فور سے نکالنے پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب کے حکام بتاتے ہیں کہ اس جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ نہ صرف ان 108 افراد کو شیڈول فور میں شامل کیا جا رہا ہے بلکہ اس جماعت کی طرف سے 12 اپریل کو سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ردعمل میں سرگرم مزید ناموں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ادھر دہشت گردی کے حوالے سے پہلے سے کالعدم قراردی گئی تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان کی طرف سے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے فوری بعد 14 اپریل 2021 کو نہ صرف اس جماعت کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پرتشدد ردعمل میں جماعت کے ہلاک شدگان کے خون کے ’قطرے قطرے کا حساب‘ لینے کا بھی اعلان کیا۔

ٹی ٹی پی کی یہ حمایت اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ پہلی بار دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی جماعت بریلوی مکتبۂ فکر کی جماعت تحریک لبیک کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔

اس بارے میں انسداد دہشت گردی کے ماہر اور نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی کے بانی سربراہ طارق پرویز کہتے ہیں کہ، ’سنی عسکریت پسندی ماضی میں دیوبندی اور وہابی جماعتوں پر مبنی تھی اور بریلوی اس معاملے سے مکمل طورپر الگ تھے۔ اگر کوئی بریلوی اس طرف راغب بھی ہوتا تو وہ اس کا انفرادی عمل ہوتا تھا۔‘

ان کے مطابق ’ٹی ٹی پی کی طرف سے بریلوی کالعدم تحریک لبیک کی حمایت سنی فرقوں میں عسکریت پسندی کی تقسیم کو کم کر کے مشترکہ ٹارگٹ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل ہے اسے سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا اور اس پر فوجی سے زیادہ سول اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔‘

پاکستان
،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس خادم حسین رضوی کی وفات پر ان کے جنازے کا منظر

اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جماعت پابندی و کریک ڈاؤن کے بعد باضابطہ طورپر دہشت گردی و تشدد کا راستہ اختیار کرے گی یا عدالتوں سے رجوع کرتے ہوئے احتجاج کرتی رہے گی۔

کالعدم تحریک لبیک پر پابندی اور اس کی قیادت کی گرفتاری سول و عسکری قیادت کا مشترکہ فیصلہ ہے اور ملک کی دیگر دو سب سے بڑی قومی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نےاس فیصلے کی خاموش رہ کر حمایت کی ہے۔ خیال رہے کہ یہ دونوں جماعتیں یعنی پیپلز پارٹی اپنے گورنر کے قتل جبکہ ن لیگ اپنے سابق وزیرداخلہ احسن اقبال پر حملے اور 2018 کے عام انتخابات میں نقصان کی صورت میں اس کالعدم جماعت کے نظریے کے باعث نقصان اٹھا چکی ہیں۔

اس تناظر میں اس کالعدم جماعت کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی حمایت کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی سیاسی طور پر اس جماعت میں باضابطہ اور طویل مدتی ردعمل کی بظاہر کوئی سکت ہے تاہم ملک کے سب سے بڑے بریلوی مکتبۂ فکر میں اس کی مقبولیت قائم ہے۔

مبصرین اس بات پر تو متفق ہیں کہ کالعدم تحریک لبیک پر پابندی، اس کی قیادت کی گرفتاری اور پھر حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد اس جماعت میں طویل مدتی ردعمل کی کوئی سکت تو نہیں رہے گی تاہم اس دوران کسی نئی سنی بریلوی العقیدہ دہشت گرد تنظیم کے وجود میں آنے یا یا اسی کالعدم جماعت کے پیروکاروں کے ہاتھوں اہم شخصیات اور غیرملکیوں پر انفرادی طور پر حملوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ظاہر ہے یہ سب ایک نئے چیلینج کی صورت رونما ہوگا اور جس سے نمٹںے کے لیے بہرحال پارلیمینٹ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔

اس جماعت کی طرف سے دہشتگردی کا راستہ اپنانے یا نہ اپنانے کے بارے میں ماہرین اور مبصرین بھی تقسیم کا شکار ہیں۔

معروف صحافی اور دہشت گردی و انسداد دہشت گردی کے موضوع پر چار کتابوں کے مصنف مجاہد حسین کہتے ہیں ’ٹی ایل پی دہشت گردی کا راستہ اختیار کر چکی ہے اور اس بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ زبانی طور پر فیض آباد دھرنوں کے دوران ہی ایسا کر چکے تھے بس عملی طور پر انھوں نے اب پورے ملک میں دہشت گردی کا آغاز کیا ہے۔ آپ کو یاد ہو سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ انھوں نے ہی کیا تھا باقی جو کچھ ہوا سب ہمارے سامنے ہے۔‘

مجاہد حسین کا کہنا ہے کہ ’انھیں ماضی میں بہت زیادہ سپیس مل چکی ہے۔ انھیں علم ہے کہ جب تک وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کریں گے انھیں اہمیت نہیں ملے گی ۔ یہ قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی تشدد کا راستہ اختیار کر چکے ہیں ۔ جرمنی میں بھی انھی نظریات کا حامل شخص ایک اخبار کے دفتر پر حملہ کر چکا ہے۔ اسی طرح حال ہی میں متنازعہ کارٹون شائع کرنے والے چارلی ہیبڈو میگزین کے عملے پر چاقوؤں سے حملہ کرنے والے پاکستانی کا تعلق بھی اسی سوچ سے تھا۔‘

تاہم انسداد دہشت گردی کے امور کے ماہر اور اس حوالے سے متعدد کتب کے مصنف عامر رانا کا خیال مختلف ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’شاید کالعدم تحریک لبیک دہشت گردی کے روایتی طریقے استعمال کرنے سے گریز کرے لیکن احتجاج یا پرتشدد احتجاج کے ذریعے اپنی سیاسی بقا کی جدوجہد کرے گی۔‘

ان کے مطابق ’اس کالعدم جماعت کا مستقبل اس کے ووٹ بینک اور مقتدر حلقوں کے نظر میں اس کی مستقبل میں افادیت پر بھی منحصر ہے۔‘

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments