آپ کا بچہ بہت بدتمیز ہے۔۔۔ ماں باپ کی ایسی عادتیں جو بچوں کو حد سے زیادہ بدتمیز بنا دیتی ہیں

 یہ سننا کتنا برا لگتا ہے جب کوئی کہے “آپ کا بچہ تو بہت ہی بدتمیز ہے“ لیکن اکثر والدین ہی بچوں کی بدتمیزیوں کو شہہ دینے کی وجہ بنتے ہیں۔ ویسے تو دنیا کے تمام والدین بچوں کی اچھی پرورش کرنا چاہتے ہیں لیکن کچھ غیر دانستہ طور پر اور کچھ بہت زیادہ نرم والدین بننے کی خواہش میں ماں باپ ہی بچوں کی بری عادتوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں آپ کی ان عادتوں کے بارے میں جو آپ کے بچے کو بدتمیز بنا رہی ہیں۔ 1- بچوں پر بہت زیادہ تنقید کرنابچے سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں اور اس عمل میں وہ کئی بار غلطیاں کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ نا پختہ ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ ماں باپ کو تربیت کے دوران یہ سمجھنا چاہئیے کہ بچہ اتنی چھوٹی عمر میں ان کی طرح نہیں سوچ سکتا اس لئے کوشش کریں کے تنقید نہ کی جائے اور اگر بہت ضروری بھی ہو تو اس انداز میں کریں کہ بچہ اسے اصلاح کے طور پر لے یعنی پیار سے سمجھائیں، ڈانٹنے، پھٹکارنے سے بچیں کیونکہ اس سے بچہ ہٹ دھرم، ضدی اور بدتمیز بن جاتا ہے

 2- بچوں کے سامنے ماں باپ کی رائے میں تضادماں باپ کے درمیان کتنے بھی اختلافات ہوں بچوں کے معاملے میں ایک ہو کر فیصلہ نہ کرنے سے صرف بچوں کا نقصان ہوتا ہے مثلاً اگر بچہ ٹی وی دیکھنا چاہتا ہے اور ماں باپ میں سے ایک اسے پڑھنے کے لئے کہتا ہے اور دوسرا ٹی وی دیکھنے کی اجازت دیتا ہے تو بچہ ماں باپ کے درمیان کے اختلاف سے واقف ہوکر اسے ہمیشہ اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا سیکھ جائے گا اور اس کا نتیجہ بچے کے لئے نقصان دہ ہی ہوگا۔

 3- بچوں پر اپنا رعب قائم نہ رکھنااکثر والدین، بچوں کے دوست بننے کے چکر میں اپنا والدین ہونے کا رعب ہی کھو دیتے ہیں۔ جب کے اچھے والدین ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ بچے کوئی بھی بدتمیزی کریں یا نجائز فرمائش کریں اور والدین سر جھکا کر مانتے چلے جائیں۔ یاد رکھیں بچوں کو اچھا اور زمہ دار انسان بنانا ہی والدین کا فرض ہوتا ہے اس لئے کھیل کے وقت دوستانہ رویہ رکھنا اچھی بات ہے لیکن تربیت کے معاملے میں تھوڑی سختی رکھنا بہتر ہے۔

 4- والدین کا جھوٹ بولنابچے والدین سے ہی سیکھتے ہیں مثال کے طور پر اگر گھر میں کوئی ملنے آجائے تو والدین بچوں سے کہہ دیتے ہیں کہ “بیٹا انکل سے کہنا ابو گھر پہ نہیں ہیں“۔ جب بچہ اپنے والدین کو اسی قسم کے جھوٹ بولتے دیکھتا ہے تو اس میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت پختہ ہوجاتی ہے۔

 5- بچوں کی بدتمیزیوں پر ہنسنابچوں کی شرارتیں جو بچپن میں پیاری لگتی ہیں اگر انھیں بروقت روکا نہ جائے تو بڑے ہو کر بدتمیزی بن جاتی ہیں کیونکہ بچہ آپ کا ہے تو آپ کو تو ہمیشہ ہی پیارا لگے گا لیکن باقی لوگوں کو اس کی حرکتیں بری بھی لگ سکتی ہیں جو آپ یقیناً نہیں چاہیں گے۔

 6- بچوں کو آسائشات کا عادی بنانابچے کو یہ احساس دلانا کہ اس کی ہر جائز ناجائز فرمائش پوری کی جائیگی انتہائی غلط رویہ ہے اسی طرح کسی چیز کا ڈھیر لگا دینا بچے میں ناشکری اور بے قدری کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments